ملتان ( سٹاف رپورٹر) ایم این ایس یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی ملتان کے بارے میں ڈائریکٹر جنرل آڈٹ پنجاب کی جانب سے جاری آڈٹ رپورٹ میں بھی ایڈیشنل چارج پر رجسٹرار، خزانچی اور کنٹرولر کے کافی سالوں تک تعیناتیوں کی نشاندہی کی گئی جس کےبارےمیں روزنامہ قوم عرصہ دراز سے انکشاف کر رہا ہے مگر ایڈیشنل چارج پر بیٹھے افرادہر نئے آنے والے وائس چانسلر کو رام کر لیتے ہیں ۔مزید برآں وائس چانسلر حضرات نے اہم آئینی عہدوں کو مبینہ طور پر’’اپنے منظورِ نظر‘‘افراد میں بانٹ کر نہ صرف قانون کی دھجیاں اڑائیں بلکہ قومی خزانے کو بھی بھاری نقصان پہنچایا۔ دستاویزات کے مطابق رجسٹرار، خزانچی اور کنٹرولر امتحانات جیسے حساس عہدوں پر اضافی چارج دینے کا عمل کھلے عام قواعد کے خلاف جاری رہا۔ جہاں قانون کے مطابق کسی ایک افسر کو زیادہ سے زیادہ چھ ماہ تک اضافی چارج دیا جا سکتا ہے، وہیں ایم این ایس انجینئرنگ یونیورسٹی انتظامیہ نے انہی افراد کو 10 ماہ سے لے کر 84 ماہ تک مسلسل نوازا۔ حیران کن طور پر سابقہ غیر قانونی رجسٹرار ڈاکٹر محمد عاصم عمر نے نئے تعینات ہونے والے وائس چانسلر ڈاکٹر توصیف ایزد کو بھی رام کر لیا اور ڈاکٹر توصیف ایزد بھی یونیورسٹی کوایسے کرپٹ عناصر سے بچانے کے بجائے ڈاکٹر عاصم عمر کو بچانے میں مصروف ہیں۔ ذرائع کے مطابق اس بے ضابطگی کے نتیجے میں تقریباً 21 لاکھ روپے کی مالی بے قاعدگی سامنے آئی جبکہ اصل نقصان اس سے کہیں زیادہ ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ حیران کن طور پر اس تمام عمل کے دوران نہ تو نئے امیدواروں کی بھرتی کے لیے کوئی شفاف عمل اختیار کیا گیا اور نہ ہی متعلقہ محکمے کو کوئی جواز فراہم کیا گیا۔ ماہرین تعلیم کا کہنا ہے کہ یہ محض غفلت نہیں بلکہ ایک ’’منظم کھیل‘‘ ہےجس کے ذریعے مخصوص افراد کو طویل عرصے تک اہم عہدوں پر بٹھا کر اختیارات کا ناجائز استعمال کیا گیا۔ ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کی واضح ہدایات کے باوجود اس طرح کی کھلی خلاف ورزی نے کئی سوالات کو جنم دے دیا ہےجن میں سب سے اہم سوال یہ ہے کہ آخر کس کے اشارے پر یہ سب کچھ ہوتا رہا؟ آڈٹ حکام نے معاملے کی فوری تحقیقات، ذمہ داران کے تعین اور سخت کارروائی کی سفارش کی ہےتاہم یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے تاحال مکمل خاموشی اختیار کی گئی ہےجو خود کئی شکوک و شبہات کو جنم دے رہی ہے۔ تعلیمی حلقوں میں اس سکینڈل نے ہلچل مچا دی ہے اور مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ اس اقربا پروری اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے نیٹ ورک کو بے نقاب کر کے ذمہ داران کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے تاکہ مستقبل میں کسی کو بھی قومی اداروں کو ذاتی جاگیر بنانے کی جرات نہ ہو۔ حیران کن طور پر سپریم کورٹ میں دائر کیس 7/24 میں بھی 24 اکتوبر 2024 کو سختی سے ہدایات جاری کی تھیں کہ ایڈیشنل چارج زیادہ سے زیادہ 6 ماہ کے لیے دیا جا سکتا ہے اس کے باوجود ایسے شخص کو مزید توسیع دینا اس ملک کے تعلیمی سسٹم پر ایک سوالیہ نشان ہے ۔ یاد رہے کہ یہ وہی ڈاکٹر عاصم عمر ہیں جو کہ 9 وائس چانسلر کی تبدیلی کے باوجود 14 سال سے عارضی رجسٹرار تعینات ہیں۔ اور اپنے اس انتظامی تجربے اور اس سے پہلے کے غیر قانونی تجربے کو بھی شمار کروا کر سلیکشن بورڈ اور سینڈیکیٹ کی ملی بھگت سے خود کو غیر قانونی ایسوسی ایٹ پروفیسر اور پروفیسر پروموٹ کروایا جن کو ساؤتھ پنجاب کے ایڈیشنل سیکرٹری اپنی انکوائری میں غیر قانونی قرار دے چکے ہیں۔ مزید ڈاکٹر عاصم عمر نے اپنے بھائی کامران عمر کو بھی غیر قانونی بھرتی کروایا جن پر انکوائری میں جعلی فیس واؤچرز کے ذریعے اپنے ذاتی اکاؤنٹ میں پیسے لینے کے شواہد موجود ہیں۔ اس بارے میں جب وائس چانسلر ڈاکٹر توصیف ایزد سے موقف کے لیے رابطہ کیا گیا توانہوںنےکہاکہ یہ بات بالکل گمراہ کن ہے کہ ڈاکٹر عاصم عمر نے موجودہ وائس چانسلر کو رام کر لیا ہے اور وہ رجسٹرار کو بچانے میں مصروف ہیں۔ ڈاکٹر عاصم عمر کو چانسلر نے میرے وائس چانسلر مقرر ہونے سے پہلے رجسٹرار کا چارج دے دیا تھا۔ میں نے وائس چانسلر کا چارج سنبھالنے کے بعد قواعد کے عین مطابق رجسٹرار کی تعیناتی کے لئے اشتہار جاری کر دیا ہےاورقانون کے مطابق رجسٹرار کی تعیناتی کر دی جائے گی۔ جس آڈٹ پیرا کا ذکر کیا گیا ہے وہ میرے دور سے پہلے کا ہے۔ اور اس سلسلے میں قانون کے مطابق لائحہ عمل اختیار کیا جائے گا۔







