اسلام آباد (بیورو رپورٹ) Supreme Court of Pakistan میں بانی پی ٹی آئی کے خلاف ہتکِ عزت کیس میں حقِ دفاع ختم کیے جانے کے معاملے پر دائر نظرثانی درخواست کی سماعت کل تک ملتوی کر دی گئی۔
تین رکنی بینچ، جس کی سربراہی جسٹس عائشہ ملک کر رہی تھیں، میں جسٹس ہاشم کاکڑ اور جسٹس اشتیاق ابراہیم بھی شامل تھے۔ عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد مزید سماعت آئندہ روز تک مؤخر کرنے کا حکم دیا۔
سماعت کے دوران شہباز شریف کے وکیل مصطفیٰ رمدے نے مؤقف اختیار کیا کہ نظرثانی درخواست میں کوئی ایسا نکتہ پیش نہیں کیا گیا جس سے عدالتی فیصلے میں کسی غلطی یا سقم کی نشاندہی ہو سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہتکِ عزت کا دعویٰ جولائی 2017 میں دائر کیا گیا تھا جبکہ بانی پی ٹی آئی کی جانب سے جواب چار سال بعد جمع کروایا گیا۔
وکیل نے مزید بتایا کہ تحریری جواب جمع ہونے تک متعدد بار التوا لیا گیا، جس پر عدالت نے بھی سوالات اٹھائے۔ اس موقع پر جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ ترمیمی جواب جمع ہونے کے بعد بھی متعلقہ سوالنامے کا جواب کئی ماہ تک جمع نہیں کروایا گیا۔
مصطفیٰ رمدے نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کے زخمی ہونے کے واقعے پر افسوس ہے، تاہم بعض تاریخوں پر عدم دستیابی کو بنیاد نہیں بنایا گیا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ٹرائل کورٹ کی جانب سے اعتراضات مسترد کیے جانے کے بعد مختلف بنیادوں پر مزید وقت طلب کیا جاتا رہا۔
عدالت کو بتایا گیا کہ بانی پی ٹی آئی کے وکلا کو اعتراضات مسترد ہونے کے فیصلے کو بروقت چیلنج کرنا چاہیے تھا، تاہم مستقبل میں ممکنہ حکم کو بنیاد بنا کر سماعت ملتوی کروانے کی کوشش کی گئی۔
عدالت نے مزید دلائل کے لیے سماعت کل تک ملتوی کر دی، جبکہ شہباز شریف کے وکیل آئندہ سماعت پر اپنے دلائل جاری رکھیں گے۔







