
چکدرہ(منہاج خان سے) خیبر پختونخوا کی جامعات میں مبینہ کرپشن، اقربا پروری اور میرٹ کی دھجیاں اڑانے کا ایک اور ہولناک باب سامنے آگیا۔ یونیورسٹی آف ملاکنڈ میں دسمبر 2025 کے دوران ہونے والے سلیکشن بورڈ پر اٹھنے والے سنگین الزامات نے پورے تعلیمی نظام کو ہلا کر رکھ دیا ہے جس کے بعد حکومت نے بالآخر ایک فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی تشکیل دے دی مگر ناقدین کے مطابق یہ اقدام آگ لگنے کے بعد کنواں کھودنےکے مترادف ہے۔ ذرائع کے مطابق 4 اور 5 دسمبر کو ہونے والے سلیکشن بورڈ میں تدریسی اسامیوں پر بھرتیوں کے دوران مبینہ طور پر کھلم کھلا میرٹ کی دھجیاں اڑائی گئیں، من پسند افراد کو نوازا گیا جبکہ اہل اور قابل امیدواروں کو نظر انداز کر دیا گیا۔ سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی شکایات اور دستاویزی شواہد نے نہ صرف یونیورسٹی انتظامیہ بلکہ پورے محکمہ ہائر ایجوکیشن کی کارکردگی پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔حکومتی نوٹیفکیشن کے مطابق ایڈیشنل سیکرٹری اور ڈپٹی سیکرٹری سطح کے افسران پر مشتمل دو رکنی کمیٹی کو تحقیقات کا ٹاسک سونپا گیا ہے، جو 15 دن میں رپورٹ پیش کرے گی۔ حیران کن امر یہ ہے کہ کمیٹی کو انہی قوانین اور ضوابط کی روشنی میں تحقیقات کا کہا گیا ہے جن کی مبینہ خلاف ورزی خود سلیکشن بورڈ میں کی گئی۔ سوال یہ بھی اٹھ رہا ہے کہ اگر قوانین پر عملدرآمد ہوتا تو کیا یہ صورتحال پیدا ہی ہوتی؟ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ بعض امیدواروں کے انٹرویوز محض رسمی کارروائی بن کر رہ گئے، جبکہ فیصلے پہلے ہی طے شدہ تھے۔ مبینہ طور پر’’پسندیدہ لسٹیں‘‘پہلے سے تیار تھیں اور سلیکشن بورڈ محض ایک ڈھونگ تھا تاکہ قانونی تقاضے پورے کیے جا سکیں۔ تعلیمی ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر اس معاملے کو شفاف طریقے سے نہ نمٹا گیا تو اس کے اثرات نہ صرف یونیورسٹی آف ملاکنڈ بلکہ پورے صوبے کے تعلیمی معیار پر پڑیں گے۔ ایک سینئر پروفیسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا کہ جب استاد ہی میرٹ کے بغیر آئے گا تو وہ طلبہ کو کیا معیار دے گا؟ یہ صرف ایک یونیورسٹی کا نہیں، پورے سسٹم کا مسئلہ ہے۔ اب نظریں اس کمیٹی کی رپورٹ پر مرکوز ہیں۔ کیا یہ محض ایک رسمی کارروائی ہوگی یا واقعی کسی بڑے اسکینڈل کا پردہ چاک ہوگا؟ فی الحال ایک بات واضح ہے کہ یونیورسٹی آف ملاکنڈ میں ہونے والی بھرتیاں ایک نئے تعلیمی بحران کا پیش خیمہ بن سکتی ہیں، اگر ذمہ داروں کا تعین نہ کیا گیا تومیرٹ صرف ایک نعرہ بن کر رہ جائے گا۔







