پنجاب : ہزاروں ایڈہاک ڈاکٹروں کی برطرفی، ریٹائرڈ افسر کو لاکھوں روپے تنخواہ

ملتان (وقائع نگار)حکومت پنجاب کا کفایت شعاری کا دعویٰ ایک طرف ہزاروں ایڈہاک ڈاکٹرز فارغ، دوسری طرف ریٹائرڈ بیوروکریٹ کو ماہانہ 11 لاکھ 37 ہزار 500 روپے تنخواہ پر تعینات کر دیا گیا پنجاب حکومت کے کفایت شعاری پروگرام کے تحت محکمہ صحت میں ایک جانب ایڈہاک بنیاد پر تعینات ہزاروں ڈاکٹروں کو ملازمت سے فارغ کر دیا گیا ہے، جبکہ دوسری جانب ریٹائرڈ سرکاری افسر طارق محمود رحمانی (سابقہ اسپیشل سیکرٹری ہیلتھ) کو ایک سال کے کنٹریکٹ پر پروگرام ڈائریکٹر پروجیکٹ امپلیمنٹیشن یونٹ تعینات کر دیا گیا ہے۔ ان کی ماہانہ تنخواہ 11 لاکھ 37 ہزار 500 روپے مقرر کی گئی ہے۔محکمہ سپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر اینڈ میڈیکل ایجوکیشن نے اس حوالے سے نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔یہ تقرری ایسے وقت میں کی گئی ہے جب حکومت صوبے میں مالی بچت اور کفایت شعاری کے نعرے لگا رہی ہے۔ ایڈہاک ڈاکٹروں کی برطرفی سے صوبائی ہسپتالوں میں ڈاکٹروں کی شدید کمی کا سامنا ہے، جس سے مریضوں کی طبی سہولیات متاثر ہو رہی ہیں۔ دوسری طرف ایک ریٹائرڈ بیوروکریٹ کو اتنی بھاری تنخواہ پر کنٹریکٹ پر رکھنے کا فیصلہ تنقید کا باعث بن رہا ہے۔طارق محمود رحمانی پنجاب کے محکمہ صحت میں مختلف اہم عہدوں پر فائز رہے ہیں۔ انہیں اب کفایت شعاری پروگرام کے نفاذ کے لیے یہ ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ تقرری پروجیکٹ امپلیمنٹیشن یونٹ کو مضبوط کرنے کے لیے کی گئی ہے۔یہ واقعہ پنجاب حکومت کے لیے ایک بڑا سیاسی اور انتظامی سوال کھڑا کر رہا ہے۔ عوام یہ دیکھ رہے ہیں کہ کفایت شعاری کا بوجھ عام ملازمین اور نوجوان ڈاکٹروں پر کیوں ڈالا جا رہا ہے جبکہ اعلیٰ سطح پر پرانی مشینری کو مہنگے کنٹریکٹس دیے جا رہے ہیں۔

شیئر کریں

:مزید خبریں