ملتان (وقائع نگار) کسٹم افسران پر کروڑوں روپے مالیت کے سرکاری سامان کی چوری کا الزام، جعلی ایف آئی آر اور پولیس ملی بھگت کا انکشاف، فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے کسٹم ڈیپارٹمنٹ میں ایک بڑا اسکینڈل سامنے آیا ہے۔ انکوائری رپورٹ کے مطابق ڈیرہ غازی خان کسٹم ویئر ہاؤس سے کروڑوں روپے مالیت کا سرکاری سامان چوری کر کے فروخت کر دیا گیا۔ مبینہ طور پر ملوث افسران نے چوری چھپانے کے لیے جعلی ڈکیتی کا ڈرامہ رچا کر تھانہ گدائی میں ایف آئی آر نمبر 1097/24 درج کرائی، جسے بعد میں پولیس نے “عدم پتہ” قرار دے کر داخل دفتر کر دیا۔ایڈیشنل کلکٹر اطہر نوید انکوائری آفیسر نے اپنی رپورٹ میں واضح طور پر لکھا ہے کہ ڈپٹی کلکٹر زوہیب احمد، سپرنٹنڈنٹ عزیز الرحمٰن اور کسٹم انسپکٹر حاجی محمد اس گھپلے میں ملوث ہیں۔ رپورٹ کے مطابق یہ افسران ویئر ہاؤس سے سامان باقاعدگی سے فروخت کرتے رہے اور بعد میں چوری کی جھوٹی ایف آئی آر درج کروا کر اپنے آپ کو بچانے کی کوشش کی۔ انکوائری آفیسر نے ان کے خلاف ای اینڈ ڈی رولز کے تحت کارروائی کی سفارش بھی کی تھی۔تاہم ذرائع کے مطابق کلکٹر کسٹم سرگودھا تیمور کمال نے اس انکوائری رپورٹ کو “سرد خانے کی نذر” کر دیا اور کوئی کارروائی نہ کی گئی۔ایک تحریری درخواست اب وزیر داخلہ محسن نقوی کو بھیج دی گئی ہے جس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ اس سنگین بدعنوانی کے معاملے کی شفاف تحقیقات کے لیے جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم (جے آئی ٹی) تشکیل دی جائے۔ اسی درخواست میں کلکٹر کسٹم ملتان سمیر تارڑ سے بھی کہا گیا ہے کہ وہ اپنی مدعیت میں مقدمہ درج کروائیں اور انکوائری کرائیں کہ سرکاری ویئر ہاؤس ڈکلیئر نہ ہونے کے باوجود وہاں کروڑوں روپے مالیت کا سامان کیوں رکھا گیا تھا اور اس کی چوری میں ملوث افسران کے خلاف فوری کارروائی کیوں نہیں کی گئی۔ایف آئی آر کے مدعی خود سپرنٹنڈنٹ عزیز الرحمٰن ہیں جو انکوائری رپورٹ میں قصوروار ٹھہرائے جا چکے ہیں۔ درخواست کے مطابق پولیس تفتیشی افسر نے مدعی سے ملی بھگت کر کے مقدمے کو”عدم پتہ” قرار دے دیا۔ ایڈیشنل کلکٹر نے اس وقت کے ڈی پی او ڈیرہ غازی خان سے جیو فینسنگ اور پرائیویٹ ملازمین کی تفتیش کا مطالبہ کیا تھا، مگر پولیس نے یہ اقدامات بھی نہیں کیے۔اب یہ معاملہ انسپکٹر جنرل آف پولیس پنجاب کے دفتر میں بھی پیش کیا جا چکا ہے۔ خط میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ ایف آئی آر کی از سر نو تفتیش کی جائے اور سینئر افسران پر مشتمل ٹیم تشکیل دی جائے تاکہ خوردد برد شدہ سامان برآمد کیا جا سکے اور سرکاری خزانے کو مزید نقصان سے بچایا جا سکے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ اسکینڈل نہ صرف کسٹم ڈیپارٹمنٹ بلکہ پولیس کی ساکھ پر بھی سوالات اٹھا رہا ہے۔ اگر ان الزامات کی تصدیق ہوئی تو یہ پاکستان کے محکمہ کسٹم کا سب سے بڑا بدعنوانی کا کیس ثابت ہو سکتا ہے جس میں اعلیٰ افسران ملوث ہیں۔جب اس سلسلے میں انکوائری آفیسر اطہر نوید سے رابطہ کیا تو انھوں نے کہا کہ کروڑوں روپے کی اس کرپشن میں ڈپٹی کلکٹر کسٹم زوہیب احمد ،سپرنٹنڈنٹ عزیز الرحمٰن اور کسٹم انسپکٹر حاجی محمد ملوث ہیں میں نے انکوائری مکمل کر کے کلکٹر کسٹم ملتان اور سرگودھا جو بھجوا دی تھی۔







