بہاولپور میں گینگسٹرز کا راج، شوٹرز کا نیٹ ورک سرگرم، بااثر شخصیات مبینہ سرپرست

بہاولپور ( کرائم سیل)ملتان کی طرح بہاولپور میں بدمعاشوں کے منظم گروہوں کی موجودگی کا انکشاف ہوا ہے جن میں شوٹرز سے لے کر مختلف جرائم کے ماہر کارندے شامل ہیں۔ ذرائع کے مطابق ان گروہوں کو مبینہ طور پر بعض سابق حکومتی عہدیداروں، سیاسی کارکنوں اور مقامی بااثر شخصیات کی سرپرستی حاصل رہی ہے اطلاعات کے مطابق کچھ بلڈرز، بزنس مین اور نجی ایسوسی ایشنز بھی اپنے کاروباری اور ذاتی مفادات کے حصول کے لیے ان جرائم پیشہ عناصر کو استعمال کرتے ہیں۔ مخالفین کے خلاف سازشیں تیار کرنا، دھمکیاں دینا اور بعض اوقات جان لیوا حملے کروانے جیسے الزامات بھی سامنے آئے ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ سیاسی حلقوں میں بھی ان گروہوں کو مختلف انتخابات میں دباؤ ڈالنے اور طاقت کے اظہار کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔حالیہ مقبول کالونی میں ایک شہری کے گھر پر فائرنگ بھی اسی گینگ وار کی لڑائی کا شاخسانہ تھی جس کی بعد میں علاقے کے بعد ہر سیاسی افراد نے صلح کروا دی۔اسی طرح بعض بلڈرز اور پراپرٹی ڈیلرز پر یہ الزام بھی سامنے آیا ہے کہ وہ زمینوں پر قبضے یا متنازع مقامات خالی کروانے کے لیے ان عناصر کا سہارا لیتے ہیں۔ کمزور اور بے سہارا شہریوں کو دھمکیوں اور ہوائی فائرنگ کے ذریعے خوفزدہ کر کے اپنے مالی مفادات حاصل کیے جاتے ہیں انہیں گینگسٹر کی جانب سے شہر کے مختلف مقامات پر قبضوں کے دوران بھی کئی افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔ذرائع کے مطابق کئی واقعات میں مقدمات درج ہونے کے باوجود بااثر افراد کی پشت پناہی کے باعث متاثرین کو صلح پر مجبور کر دیا جاتا ہے جس کے نتیجے میں مقدمات ختم ہو جاتے ہیں۔ لیکن متعلقہ ادارے اس گینگ وار کے دوران متعدد افراد کہ جا ں بحق ہونے کے واقعات رو نما ہونے کے باوجود ان کے خلاف موثر کاروائیاں کرنے میں بالکل ناکام نظر ائے یہی وجہ ہے کہ بہاولپور شہر میں ان گینگسٹر کا سکہ چلتا ہے۔ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ ان گروہوں کی رسائی شہر کی بڑی مارکیٹوں میں کاروبار کرنے والے افراد سے لے کر بعض تعلیمی اداروں کے مالکان تک پہنچ چکی ہے۔ مبینہ طور پر چند نامور سیاست دان بھی کسی نہ کسی شکل میں ان گروہوں کی سرپرستی کرتے رہے ہیں اور مختلف مقاصد کے لیے ان سے کام لیتے ہیں۔شہری حلقوں نے قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ان جرائم پیشہ گروہوں کے خلاف بلا امتیاز اور مؤثر کارروائی کریں تاکہ شہر میں امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنایا جا سکے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں