ملتان (سٹاف رپورٹر) اینٹی کرپشن ملتان ریجن نے خواتین یونیورسٹی ملتان کی 43ویں سینڈیکیٹ کے منٹس میں رد و بدل کرنے والی پرو وائس چانسلر ڈاکٹر کلثوم پراچہ اور اس وقت کی رجسٹرار پروفیسر ڈاکٹر میمونہ خان کے خلاف انکوائری کے لیے ڈائریکٹر جنرل اینٹی کرپشن لاہور سے اجازت طلب کر لی ہے۔ اس کیس میں درخواست دینے والے شخص نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر روزنامہ قوم سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ڈاکٹر کلثوم پراچہ اور پروفیسر ڈاکٹر میمونہ خان کے خلاف انکوائری کی اجازت مل چکی ہے۔روزنامہ قوم کی قانونی ماہرین کی ٹیم کے مطابق 1. 43ویں سینڈیکیٹ کے انعقاد کے وقت پروفیسر ڈاکٹر فرخندہ منصور شدید علیل اور چھٹی پر تھیں۔ تو یہ سینڈیکیٹ کیسے منعقد ہوئی؟ 2. جیسے کہ پرو وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر کلثوم پراچہ کے بیانات سے واضح ہے کہ وائس چانسلر ڈاکٹر فرخندہ منصور علالت کے باعث ان کے ہر ڈاکومینٹ پر آنکھ بند کر کے دستخط کر دیتی تھیں تو یہ بات تو واضح ہے کہ یہ دستخط پرو وائس چانسلر ڈاکٹر کلثوم پراچہ اور عارضی رجسٹرار ڈاکٹر میمونہ یاسمین خان کی جانب سے تیار کر کے ڈاکٹر فرخندہ منصور سے آنکھیں بند کر کے دستخط کروائے گئے۔ 3. منٹس چونکہ ملتان میں تیار کیے گئے تھے اور ڈاکٹر فرخندہ منصور اسلام آباد میں زیر علاج تھیں۔ 4. اس ایجنڈا میں پروفیسر ڈاکٹر میمونہ یاسمین خان کی توسیع کا ایجنڈے میں دھوکہ دہی سے کام لیا گیا جس سے صرف اور صرف فائدہ پرو وائس چانسلر ڈاکٹر کلثوم پراچہ اور ان کی قریبی ساتھی ڈاکٹر میمونہ یاسمین خان کو ہی ہو سکتا تھا۔ 5. سینڈیکیٹ کی کمپوزیشن کے مطابق سینڈیکیٹ ممبران میں یونیورسٹی سے وائس چانسلر ڈاکٹر فرخندہ منصور، پرو وائس چانسلر ڈاکٹر کلثوم پراچہ بطور ممبران، رجسٹرار ڈاکٹر میمونہ یاسمین خان بطور سیکرٹری شامل تھے۔ جبکہ لیگل ایڈوائزر اور ڈائریکٹر کوالٹی انہانسمنٹ سیل کو مدعو کیا گیا۔ جبکہ 2 اسسٹنٹ رجسٹرارز کو ڈاکومینٹس کو پیش کرنے کے لیے بلایا گیا۔ حیران کن طور پر یہ تمام منٹس پرو وائس چانسلر ڈاکٹر کلثوم پراچہ اور رجسٹرار ڈاکٹر میمونہ یاسمین خان کی کڑی نگرانی میں تیار ہوئے اور شدید علیل وائس چانسلر ڈاکٹر فرخندہ منصور سے دستخط کروائے گئے جو کہ بعد ازاں غیر قانونی اور دھوکہ دہی کی بنیاد پر سکریپ قرار دے دیے گئے۔ دوسری جانب خواتین یونیورسٹی ملتان کی 3 تاریخ پیدائش رکھنے والی، نجی کالج کے جعلی تجربے کے سرٹیفکیٹ کی بنیاد پر بھرتی ہونے والی، اور اسی جعلی تجربے کی بنیاد پر ایسوسی ایٹ پروفیسر اور پروفیسر بن کر پرو وائس چانسلر بن کر یونیورسٹی معاملات میں کھل کر گڑ بڑ کرنے والی، سینڈیکیٹ ممبران کو دھوکہ دینے والی، سیرت کانفرنس کے پیسے اپنے ذاتی اکاؤنٹ میں وصول کر کے ہڑپ کرنے والی، 80 ملازمین کے انکریمنٹس کاٹ کر ان ملازمین کو ہزاروں کا نقصان پہنچا کر دلی تسکین حاصل کرنے والی پرو وائس چانسلر ڈاکٹر کلثوم پراچہ کے ٹینیور پورا ہونے کے بعد وائس چانسلر آفس خالی ہونے کے بعد، خزانچی ڈاکٹر طاہرہ یونس کا ٹینیور بھی ختم ہونے کے بعد خزانچی آفس بھی خالی ہے۔ جبکہ چند دنوں تک عارضی رجسٹرار کا ٹینیور پورا ہونے کے بعد رجسٹرار آفس بھی خالی ہونے کے واضح امکانات ہیں۔ مگر تاحال کسی بھی ریگولر وائس چانسلر کی تعیناتی عمل میں نہ آ سکی۔ وائس چانسلر کے لیے ایڈیشنل چارج کے لیے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر عظمیٰ قریشی لاہور کالج فار ویمن یونیورسٹی لاہور، وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر کنول امین گورنمنٹ کالج ویمن یونیورسٹی فیصل آباد اور وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر شازیہ انجم گورنمنٹ صادق کالج ویمن یونیورسٹی بہاولپور کے نام زیر غور تھے۔ مگر ایڈیشنل چارج کے حوالے سے بھی تعیناتی عمل میں نہ ا سکی جس سے یونیورسٹی کے اساتذہ اور ملازمین میں شدید تشویش پائی جا رہی ہے کیونکہ یونیورسٹی کے ڈیلی ویجز ملازمین کو گزشتہ ماہ کی سیلری جاری نہ ہوئی۔ ڈیلی ویجز ملازمین نے روزنامہ قوم سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ہم بہت مشکل سے قرضے لے کر گزارا کر رہے ہیں۔ گزشتہ ماہ کی سیلری نہ مل سکی کیونکہ یونیورسٹی میں کوئی بھی وائس چانسلر یا خزانچی نہیں ہے۔







