ملتان (سٹاف رپورٹر) اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کے 42 کروڑ روپے کے ہولناک مالیاتی اسکینڈل کی تحقیقات میں اب ایک اور انتہائی سنگین اور چونکا دینے والا 5 کروڑ روپے کی کرپشن کا نیا باب کھل گیا ہے، جس نے نہ صرف ادارے کی مالی شفافیت بلکہ اعلیٰ انتظامیہ کی نیت اور کردار پر بھی بڑے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ دستیاب سرکاری ریکارڈ اور وائس چانسلر آفس کے ذرائع سے حاصل ہونے والی دستاویزات کے مطابق، وائس چانسلر ڈاکٹر محمد کامران کی مبینہ سرپرستی اور ملی بھگت سے تعینات کیے گئے خزانچی طارق محمود شیخ کے گرد بدعنوانی کا دائرہ مزید وسیع ہوتا جا رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق 42 کروڑ روپے کے متنازعہ انڈیمنٹی بانڈ کے علاوہ اب پانچ کروڑ روپے سے زائد مالیت کے تقریباً 280 مشکوک اور مبینہ طور پر جعلی بلوں کا بھی انکشاف ہوا ہے۔ ان بلوں کے حوالے سے سب سے حیران کن اور تشویشناک حقیقت یہ سامنے آئی ہے کہ ان میں سے متعدد بلوں کا اصل ریکارڈ خود خزانچی آفس یا یونیورسٹی کے کسی بھی متعلقہ دفتر میں موجود ہی نہیں تھا، جس سے یہ معاملہ سیدھا سیدھا منظم مالی فراڈ کی شکل اختیار کرتا دکھائی دیتا ہے۔ دستاویزات کے مطابق، سابق خزانچی کے دور میں جب ان بلوں کی جانچ پڑتال کے لیے انسپکشن کمیٹی تشکیل دی گئی تو اس نے واضح طور پر ان بلوں میں سنگین بے ضابطگیوں کی نشاندہی کی، جن میں جعلی دستخط، فرضی کاموں کی ادائیگیاں اور بوگس کلیمز شامل تھے۔ یہی نہیں بلکہ ان بلوں کو عدالت میں بھی چیلنج کیا گیا جہاں لاہور ہائی کورٹ بہاولپور بینچ نے یونیورسٹی کے مؤقف کو تسلیم کرتے ہوئے ان ادائیگیوں کو مسترد کر دیا تھا۔ عدالتوں کے واضح فیصلوں کے باوجود بعد ازاں انہی مسترد شدہ بلوں کے خلاف خزانچی آفس سے 280 چیک جاری کیے گئے، جو ایک انتہائی خطرناک اور غیر قانونی اقدام قرار دیا جا رہا ہے۔ ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ اگست سے دسمبر 2025 کے دوران ان جعلی بلوں کے عوض نہ صرف چیکس تیار کیے گئے بلکہ مبینہ طور پر کئی ملین روپے کی ادائیگیاں بھی کر دی گئیں۔ اس سارے عمل میں خزانچی طارق محمود شیخ کا کردار مرکزی حیثیت اختیار کر چکا ہے، جن پر الزام ہے کہ انہوں نے چیک سیکشن کے بعض افراد کے ساتھ مل کر اس پورے فراڈ کو عملی جامہ پہنایا۔ مزید برآں، اس پورے معاملے کی تحقیقات کے لیے قائم پروب کمیٹی، جس کے کنوینیر پروفیسر ڈاکٹر عبدالرؤف جبکہ اہم رکن ڈاکٹر محمد امجد ہیں، نے اپنی رپورٹ تقریباً 15 روز قبل وائس چانسلر آفس میں جمع کروا دی تھی۔ اس رپورٹ میں نہایت واضح اور سخت سفارشات دی گئی ہیں کہ طارق محمود شیخ کو کسی بھی مالیاتی یا اکاؤنٹس سے متعلق عہدے پر تعینات نہ کیا جائے، ان سے پانچ کروڑ روپے کی فوری ریکوری کی جائے اور ان کے خلاف پیڈا ایکٹ کے تحت کارروائی عمل میں لائی جائے۔ تاہم، انتہائی حیران کن اور تشویشناک امر یہ ہے کہ وائس چانسلر ڈاکٹر محمد کامران نہ صرف اس رپورٹ پر دستخط کرنے سے مسلسل گریزاں ہیں بلکہ ان الزامات کے باوجود طارق محمود شیخ کو خزانچی کے عہدے کے لیے باقاعدہ پینل میں شامل کر کے گورنر سے منظوری بھی حاصل کر لی گئی۔ اس پیش رفت نے پورے معاملے کو مزید مشکوک بنا دیا ہے اور یہ تاثر مضبوط ہو رہا ہے کہ ادارے کے اندر ایک منظم نیٹ ورک کے تحت بااثر افراد کو تحفظ فراہم کیا جا رہا ہے۔ تعلیمی و قانونی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر عدالتوں سے مسترد شدہ بلوں پر دوبارہ ادائیگیاں کی جا سکتی ہیں، انکوائری رپورٹس کو دبا کر ملزمان کو ترقی دی جا سکتی ہے اور کروڑوں روپے کے اسکینڈلز میں ملوث افراد کو اعلیٰ عہدوں پر بٹھایا جا سکتا ہے تو پھر احتساب کا پورا نظام محض ایک مذاق بن کر رہ گیا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ کیس اب صرف مالی بے ضابطگی نہیں بلکہ “ادارہ جاتی کرپشن” کی بدترین مثال بنتا جا رہا ہے۔ یہ اسکینڈل نہ صرف اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور بلکہ ملک بھر کے تعلیمی اداروں کے لیے ایک خطرناک مثال بن جائے گا جہاں کرپشن کو تحفظ اور احتساب کو دفن کر دیا جاتا ہے۔اس بارے میں اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کے پی آر او شہزاد خالد نے کوئی جواب نہ دیا۔







