نشتر میڈیکل یونیورسٹی ، آؤٹ سائیڈر ڈاکٹر نےامتحانی نظام متنازع بنادیا

ملتان (عوامی رپورٹر)نشتر میڈیکل یونیورسٹی میں جاری انڈرگریجویٹ ایم بی بی ایس کے امتحانات کے دوران امتحانی نظام کی شفافیت پر سنگین سوالات کھڑے ہو گئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق مولوی خضر نامی ایک شخص جو کہ نشتر ہسپتال کا ڈاکٹر بھی نہیں ہے، امتحانات کے دوران طلبا و طالبات کی غیر قانونی مدد اور سفارشوں میں ملوث ہے۔متعدد وارڈز کے ڈاکٹروں نے مولوی خضر کے خلاف شکایات کے انبار لگا دیے ہیں۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ دورانِ امتحان طلبہ کے آس پاس رہنا، ان کی سفارشیں کرنا اور انہیں نمبر بتانا جیسے اقدامات نے ملک کے معتبر طبی ادارے کے امتحانی نظام کی شفافیت کو مشکوک بنا دیا ہے۔ذرائع کے مطابق ایم بی بی ایس کے طلبہ و طالبات کے رابطہ نمبرز یونیورسٹی عملے سے حاصل کر کے ان سے رابطہ کیا جاتا ہے، ان کے امتحانات کی تاریخوں کے بارے میں پوچھ کر غیر قانونی مدد اور سفارش کی جاتی ہے اور پاس ہونے کی صورت میں سیاسی سپورٹ کا وعدہ کیا جاتا ہے۔ یہ سلسلہ گزشتہ کئی سالوں سے جاری ہے اور یونیورسٹی انتظامیہ مبینہ سیاسی دباؤ کے باعث کوئی قدم اٹھانے سے قاصر ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اس سلسلے میں ڈین آف میڈیسن و کنٹرولر امتحانات ڈاکٹر اعظم خان اور دیگر یونیورسٹی افسران کی مبینہ آشیرباد حاصل ہے۔ مزید برآںمولوی خضر نامی ڈاکٹر کی جانب سے طالبات کو خصوصی طور پر ویڈیو کال پر بات کرنے کے لیے اکسایا جاتا ہے۔اس صورتحال کے باعث محنتی اور قابل طلبہ و طالبات کی نہ صرف حلق تلفی ہو رہی ہے بلکہ طلبا و طالبات اس آئوٹ سائیڈر ڈاکٹر کی وجہ سے بے راہ روی کا شکار ہو رہے ہیں۔ نشتر ہسپتال کے سینئر و جونیئر ڈاکٹرز جو امتحانی عمل میں شریک ہیں، نے مولوی خضر جیسے عناصر کے خلاف سخت ایکشن اور بلیک لسٹ کر کے ہسپتال میں داخلے پر پابندی کا مطالبہ کیا ہے تاکہ یونیورسٹی امتحانات کو شفاف بنایا جا سکے اور ادارے کو مزید بدنامی سے بچایا جا سکے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں