ریلوے: طویل رخصت، افسران کی ڈبل موجیں، حاضر ملازمین جائز چھٹی سے بھی محروم

ملتان(واثق رؤف)ریلوے کے طاقتور اور مضبوط لابی رکھنے والے افسران کی طرف سےطویل رخصت لےکر بیرون ملک اور ڈیپوٹیشن پرجانے کے معاملات سامنے آئے ہیں۔ان افسران نےوفاقی وزرات ریلوے کی طرف سے محکمہ کو فوری واپس جوائن کرنے کےاحکامات کو یکسر نظر انداز کردیاہے۔وفاقی وزرات ریلوے نے بھی اپنے جاری مراسلہ پر عملدرآمد کروانے کی بجائے خاموشی اختیار کرلی ہے۔ریلوے میں طویل چھٹیوں کے ساتھ بیرون ملک جانے والے افسران نے وزرات ریلوے کی احکامات کے باجود نہ صرف واپس محکمہ کو رپورٹ نہیں کیا بلکہ انکی فیملی اور وہ خود ریلوے کی لگژری رہائش گاہیں اپنے زیر استعمال رکھنے سمیت سفری اور دیگر مراعات سے بھی مستفید ہو رہے ہیں۔مختلف جواز کی بنا پر بیرون ملک گئے افسران نے ریلوے سے طویل رخصت کے ساتھ ساتھ بیرون ملک نیشنلٹی بھی حاصل کرلی ہے۔سالہاسال سے چھٹیوں اور ڈیپوٹیشن پر گئےافسران کے خلاف کسی نوعیت کی محکمانہ کاروائی نہ ہونے پر وہ افسران جنھیں ضروری نوعیت کی چھٹیوں سے بھی محروم کردیا جاتا ہے سراپا احتجاج بن کر رہ گئے ہیں۔انہوں نے ریلوے میں افسر شاہی کے لئے موجود دوہرے معیار کے خاتمہ اور طویل چھٹیوں پر گئے افسران کے خلاف قواعد و ضوابط کے تحت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق چند ماہ قبل وزرات ریلوے نے ایسے افسران سے متعلق ایک مراسلہ جاری کیا تھا جو ریلوے سے طویل رخصت لے کر یا تو بیرون ملک گئے ہوئے ہیں یا پھر ڈیپوٹیشن پر دیگر محکموں کے لئے خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔بتایا جاتا ہے کہ افسران مذکورہ محکمہ میں مضبوط لابی اور اثر رسوخ رکھتے ہیں جس کا بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے گورنمنٹ سروس رولز اور ریلوے قواعد و ضوابط سے استثنیٰ حاصل کئے ہوئے ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ وہ ریلوے آفیسر جو دو سال یا اس سے زائد عرصہ سے رخصت پر یا ڈیپوٹیشن پر ہوں انہیں ریلوے رہائشگاہ سمیت ریلوے کی طرف سے دی جانے والی سفری سہولیات اور دیگر مراعات سے بھی دستبردار ہونا پڑتا ہے تاہم محکمہ ریلوےاسطرح کے افسران پر مہربان ہے ان سے گورنمنٹ سروس رولز اور ریلوے قواعد و ضوابط کے مطابق باز پرس یا عملدرآمد نہیں کروایا جا رہا۔بتایا جاتا ہے کہ چند ماہ قبل وزرات ریلوے نے طویل چھٹیوں پر بیرون ملک یا پھر ڈیپوٹیشن پر دیگر محکمہ میں جانے والے افسران کو ایک مراسلہ جاری کرتے ہوئے فوری طور پر ریلوے میں حاضر ہونے کی تاکید کی تھی جس پر جزوی عملدرآمد کیا گیا تاہم اثر رسوخ اور مضبوط لابی رکھنے والے افسران نے اس مراسلہ کو اہمیت نہیں دی جبکہ وزرات ریلوے نے بھی مراسلہ کا جواب نہ دینے والے افسران کے خلاف خاموشی ہی اختیار کرلی ہے۔ذرائع کے مطابق وزارت ریلوے کی طرف سے جاری مراسلہ کے بعد واپس نہ آنے والے افسران میں شعبہ ٹریفک کمرشل گریڈ19کے آفیسر جہانزیب خان یکم اکتوبر2025ءکو تین سال کے لئے ڈیپوٹیشن پر گئے تاحال واپس نہیں آسکے۔ گریڈ18شعبہ کمرشل اینڈ ٹریفک کے آفیسر ریاض علی حبیب یکم جنوری2024ء کو730روزکے لئے رخصت پر گئے اپنا عرصہ رخصت مکمل ہونے کے باوجود واپس نہیں آئے۔ اس ہی شعبہ گریڈ17کےافیسرداؤد خان5جنوری2024ءکو730روز کی رخصت پر بیرون ملک گئے وہ بھی اپنی رخصت کا عرصہ پورا ہونے کے باوجود واپس نہیں آئےشعبہ ٹریفک کمرشل گریڈ17کی خاتون آفیسرصباءاکبر27جون2019ءکو2273دن کےلئے رخصت پر گئیں وزارت ریلوے کے واضح احکامات کے باوجود واپس نہیں آئیں۔شعبہ سول انجینئرنگ گریڈ18کی خاتون آفیسرعنیرہ ظہور10اکتوبر2022ءکو1461روزکی رخصت پر گئیں تاہم وہ بھی واپس نہیں آئیں اس ہی شعبہ کی گریڈ18کی ایک اور خاتون آفیسر عریسہ صدیقی15مارچ2025ءکو730روز کی رخصت پر گئیں یہ بھی واپس نہیں آسکی ہیں۔شعبہ میڈیکل کی سینئر میڈیکل آفیسرڈاکٹر تسنیم جمالی 26جون2025ءکو1460روز کی رخصت پر گئیں یہ بھی واپس نہیں آئیں۔شعبہ ٹریفک کمرشل گریڈ20کے آفیسر حسن طاہر بخاری15اگست2024ءکو1095روزکی رخصت پر بیرون ملک گئے تاہم وزارت ریلوے کی طرف سے واپس ریلوے کو رپورٹ کرنے کے مراسلہ کو انہوں نے بھی اہمیت نہیں دی اور تاحال واپس نہیں آئےشعبہ مکینکل گریڈ18کے آفیسر احمد کمال مصطفی15اگست2024ءکو777روز کی رخصت پر بیرون ملک گئے انہوں نے بھی مراسلہ کا جواب دینا گورا نہیں کیا۔ ذرائع کے مطابق دو سال اور اس سے زائد رخصت پر جانے والے افسران کو سرکاری رہشگاہ سے دستبردار ہونا پڑتا ہےجبکہ گورنمنٹ سروس رولز کے مطابق طویل رخصت اورڈیپوٹیشن پر جانے والےافسران جب محکمہ کے طلب کرنے پر واپس نہیں آتےتو گورنمنٹ سروس رولز کے تحت ان کو محکمانہ مراعات سے محروم کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے خلاف محکمانہ کاروائی کی جاتی ہے تاہم افسران مذکورہ کے خلاف کسی قسم کی کاروائی عمل میں نہیں لائی جاسکی جس سے دیگر وہ افسران جنکو جائز رخصت کے حصول میں بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے بے چینی کا شکار ہو کر رہ گئے ہیں۔طویل رخصت پر جانے والے وہ افسران جنھوں نے وزارت ریلوے سے مراسلہ جاری ہونے پر واپس ریلوے کو رپورٹ کردی ہےمیں محمد علی چاچڑ نے تقریباً ایک سال تین ماہ کے بعد ریلوے میں دوبارہ سے اپنی زمہ داریاں سنبھال لی ہیں اس ہی شعبہ کے گریڈ20کے آفیسر فیاض خان نے بھی تقریباً ایک سال کے بعد دوبارہ سے ریلوے کو جوائن کر لیا ہے اسی شعبہ گریڈ17کی خاتون آفیسر راحمین اکرم(Rahimeen Akram)نے بھی تقریباًتین سال کے بعد محکمہ میں واپسی اختیار کر لی ہے۔شعبہ الیکٹرک انجنیئرنگ گریڈ20کی خاتون آفیسر عنبرین زمان نے بھی تقریباً2سال بعد واپسی اختیار کر لی ہے شعبہ میڈیکل کی خاتون آفیسر ڈاکٹر صبین منصور کی بھی تقریباً ایک سال بعد ریلوے میں واپسی ہوگئی ہے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں