ملتان(یوسف عابد سے)پاکستان میں جنسی زیادتی کے مقدمات میں صرف 0.5 فیصد سزائیں دینے کا انکشاف ہوا ہے، ملک میں خواتین اور بچوں کے تحفظ کے متعدد قوانین کے باوجود انصاف ناپید ہے۔ ملک میں رائج فوجداری نظام میں پولیس کی متعلقہ مقدمات کے اندراج، تفتیش اور چالان کی تکمیل کی ٹریننگ نہیں ہونے کے ساتھ عدالتی نظام میں کئی خامیوں کو بھی بے نقاب کیا گیا ہے۔ پاکستان میں خواتین اور بچیوں کے خلاف زیادتی کے مقدمات میں انصاف کی فراہمی سے متعلق ایک جامع رپورٹ نے انکشاف کیا ہے کہ قوانین میں متعدد ترامیم کے باوجود فوجداری نظام کی کمزوریوں کے باعث متاثرین کو انصاف حاصل کرنا بدستور ایک مشکل مرحلہ ہے۔ رپورٹ کے مطابق قانونی خلاء، ناقص تفتیش، عدالتی تاخیر اور سماجی رکاوٹیں مل کر انصاف کے عمل کو غیر مؤثر بنا رہی ہیں۔ رپورٹ میں نشاندہی کی گئی ہے کہ پاکستان پینل کوڈ 1860 میں 2021 کی ترامیم کے ذریعے زیادتی کی تعریف کو وسیع کیا گیا اور سزاؤں کو مزید سخت بنایا گیاجبکہ اینٹی ریپ (انویسٹی گیشن اینڈ ٹرائل) ایکٹ 2021 کے تحت تیز تر تفتیش، خصوصی عدالتوں کے قیام، متاثرین کے تحفظ اور ٹرائل کو محدود مدت میں مکمل کرنے جیسے اقدامات بھی متعارف کروائے گئے۔ اس کے باوجود عملی سطح پر ان قوانین پر مکمل عملدرآمد نہیں ہو سکا۔ رپورٹ کے مطابق عدالتی نظام میں موجود افسران اور تفتیشی ادارے نئی قانونی تعریف اور طریقہ کار کو مکمل طور پر سمجھنے اور نافذ کرنے میں ناکام ہیں، جس کے باعث متاثرین کو انصاف تک رسائی محدود ہو جاتی ہے۔ اگرچہ
اعلیٰ عدلیہ کے فیصلوں میں یہ واضح کیا جا چکا ہے کہ متاثرہ خاتون کا بیان بھی سزا کے لیے کافی ہو سکتا ہے، تاہم نچلی عدالتیں اب بھی اضافی شواہد، جسمانی مزاحمت کے نشانات اور روایتی تصورات کو بنیاد بناتی ہیں۔ قانونی ماہرین کے مطابق ضابطہ فوجداری 1898 میں سال 2016ء اور بعد ازاں سال 2021ء کی ترامیم کے ذریعے متاثرہ خاتون کے بیان کو محفوظ ماحول میں ریکارڈ کرنے، خواتین پولیس افسر کی موجودگی، ویڈیو لنک کے ذریعے گواہی اور کردار سے متعلق سوالات پر پابندی جیسے اقدامات شامل کیے گئے مگر ان پر بھی مکمل عملدرآمد نہیں ہو رہا۔ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ زیادتی کے مقدمات میں سزا کی شرح صرف 0اعشاریہ5 فیصد ہے، جبکہ ایک مقدمے کے فیصلے میں اوسطاً دو سے تین سال لگ جاتے ہیں۔ اس تاخیر کی بڑی وجہ کمزور تفتیش، پراسیکیوشن اور عدالتی نظام میں موجود نقائص ہیں۔ پولیس تفتیش زیادہ تر میڈیکل شواہد تک محدود رہتی ہے جبکہ دیگر فرانزک شواہد کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے اور ملک میں محدود فرانزک لیبارٹریز پہلے ہی بوجھ کا شکار ہیں۔ رپورٹ کے مطابق پراسیکیوشن اور پولیس کے درمیان مؤثر رابطے کا فقدان ہے، جبکہ تفتیشی افسران کی تربیت اور احتساب کا نظام بھی کمزور ہے۔ خواتین میڈیکو لیگل افسران کی کمی اور فرسودہ طریقہ کار بھی اہم شواہد کے ضائع ہونے کا سبب بنتے ہیں۔ اگرچہ دو انگلیوں کے ٹیسٹ پر پابندی عائد کی جا چکی ہے، تاہم بعض کیسز میں اب بھی غیر متعلقہ اور غیر سائنسی نتائج کو اہمیت دی جاتی ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ازدواجی زیادتی (marital rape) کے حوالے سے قانون میں گنجائش موجود ہونے کے باوجود عدالتیں اکثر شادی کو استثنا قرار دیتی ہیں، جس کے باعث ایسے کیسز رپورٹ ہی نہیں ہوتے یا انہیں پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 377 کے تحت کم سزاؤں والے مقدمات میں تبدیل کر دیا جاتا ہے۔ کم عمری کی شادی کے قوانین میں تضاد بھی ایک اہم مسئلہ قرار دیا گیا ہے، جہاں ایک طرف چائلڈ میرج ریسٹرینٹ قوانین کم از کم عمر مقرر کرتے ہیں، جبکہ دوسری طرف بلوغت کو رضامندی کی بنیاد مان کر کم عمر شادیوں کو قانونی تحفظ دیا جاتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق متاثرین کو انصاف کے عمل تک رسائی میں سماجی اور ثقافتی رکاوٹیں بھی حائل ہیں، جہاں اکثر خواتین اپنے خاندان کے مرد افراد کے ذریعے مقدمات درج کرواتی ہیں اور انہیں مکمل خودمختاری حاصل نہیں ہوتی۔ گواہوں کے تحفظ کے مؤثر نظام کے فقدان کے باعث عدالت سے باہر سمجھوتے اور بیانات سے منحرف ہونے کے واقعات بھی عام ہیں، حالانکہ زیادتی ایک ناقابلِ راضی نامہ جرم ہے۔ عالمی اقتصادی فورم کے گلوبل جینڈر گیپ انڈیکس 2025 کے مطابق پاکستان 148 ممالک میں آخری نمبر پر ہےجس کی ایک بڑی وجہ خواتین کے خلاف تشدد اور انصاف کی عدم فراہمی ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی نشاندہی کی گئی ہے کہ اقلیتی برادریوں، خصوصاً ہندو اور مسیحی خواتین، کو اغوا، جبری تبدیلی مذہب اور کم عمری کی شادی جیسے اضافی خطرات کا سامنا ہے، جبکہ معذور خواتین کے ساتھ جنسی تشدد کے امکانات تین گنا زیادہ ہیں۔ ماہرین کے مطابق اگرچہ قوانین موجود ہیں، مگر ان پر مؤثر عملدرآمد، تفتیشی نظام کی بہتری، پراسیکیوشن کی مضبوطی اور متاثرین کے تحفظ کے عملی اقدامات کے بغیر انصاف کا نظام بہتر نہیں ہو سکتا۔ رپورٹ نے حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ قانونی اصلاحات کے ساتھ ساتھ ادارہ جاتی سطح پر بھی جامع اقدامات کرے تاکہ جنسی تشدد کے متاثرین کو بروقت اور مؤثر انصاف فراہم کیا جا سکے۔







