اسلام آباد: عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے تحفظات کے بعد وفاقی حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کو عالمی منڈی کے مطابق ایڈجسٹ کرنے کی یقین دہانی کرا دی ہے، جس کے نتیجے میں آئندہ ہفتے سے فی لیٹر قیمت میں 100 روپے سے زائد اضافے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف نے پیٹرولیم مصنوعات پر مزید سبسڈی دینے پر سخت خدشات کا اظہار کیا، جس پر حکومت نے یقین دہانی کرائی ہے کہ قیمتوں کو عالمی سطح کے مطابق رکھا جائے گا اور سبسڈی میں کمی کی جائے گی۔
وزارت خزانہ کے حکام کا کہنا ہے کہ گزشتہ دنوں وزیراعظم شہباز شریف نے پیٹرول کی قیمت میں 95 روپے فی لیٹر اضافے اور ڈیزل کی قیمت میں 203 روپے فی لیٹر اضافے کی تجاویز کو مسترد کر دیا تھا۔ قیمتوں کو قابو میں رکھنے کے لیے حکومت نے تیل کمپنیوں کو ترقیاتی بجٹ سے فنڈز فراہم کیے تھے۔
ذرائع کے مطابق وزیراعظم کی ہدایت پر اس معاملے کو آئی ایم ایف کے سامنے بھی اٹھایا گیا۔ بتایا گیا ہے کہ ترقیاتی پروگرام (پی ایس ڈی پی) سے نکالی گئی 100 ارب روپے کی رقم میں سے تقریباً 56 ارب روپے سبسڈی کی مد میں خرچ کیے جا چکے ہیں۔ اگر مزید فنڈز استعمال کیے گئے تو ممکنہ اضافے کی شرح میں کمی لائی جا سکتی ہے۔
حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حتمی ردوبدل صوبوں سے مشاورت کے بعد کیا جائے گا۔
واضح رہے کہ عالمی مارکیٹ میں اس وقت تیل کی قیمتیں تقریباً 106 سے 108 ڈالر فی بیرل کے درمیان برقرار ہیں، جس کے باعث مقامی سطح پر قیمتوں میں اضافے کا دباؤ بڑھتا جا رہا ہے۔







