ایران کی مسلح افواج کے کمانڈر کی سخت ہدایات، اگر زمینی کارروائی ہوئی تو ایک بھی امریکی و اسرائیلی فوجی زندہ واپس نہیں جائے گا-ایران کی مسلح افواج کے کمانڈر کی سخت ہدایات، اگر زمینی کارروائی ہوئی تو ایک بھی امریکی و اسرائیلی فوجی زندہ واپس نہیں جائے گا-پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں شدید مندی، کے ایس ای 100 میں ہزاروں پوائنٹس کی کمی-پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں شدید مندی، کے ایس ای 100 میں ہزاروں پوائنٹس کی کمی-آئی ایم ایف کا دباؤ، پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 100 روپے فی لیٹر تک بڑے اضافے کا امکان-آئی ایم ایف کا دباؤ، پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 100 روپے فی لیٹر تک بڑے اضافے کا امکان-پیٹرولیم سبسڈی کا بوجھ تقسیم کرنے کی تجویز، وفاق نے صوبوں سے حصہ مانگ لیا-پیٹرولیم سبسڈی کا بوجھ تقسیم کرنے کی تجویز، وفاق نے صوبوں سے حصہ مانگ لیا-ویمن یونیورسٹی بہاول پور: بیوروکریٹک دباؤ پر آؤٹ سائیڈرز کو غیر قانونی رہائشیں، فیکلٹی محروم-ویمن یونیورسٹی بہاول پور: بیوروکریٹک دباؤ پر آؤٹ سائیڈرز کو غیر قانونی رہائشیں، فیکلٹی محروم

تازہ ترین

ویمن یونیورسٹی بہاول پور: بیوروکریٹک دباؤ پر آؤٹ سائیڈرز کو غیر قانونی رہائشیں، فیکلٹی محروم

ملتان(سٹاف رپورٹر)گورنمنٹ صادق کالج ویمن یونیورسٹی بہاولپور کے فیکلٹی کوارٹرزجو صرف اساتذہ اور ملازمین کے لیے مختص ہوتے ہیں، میں ایسے افراد اپنی فیملیز کے ساتھ مقیم پائے گئے ہیں جن کا اس یونیورسٹی سے کوئی براہِ راست تعلق ہی نہیں۔ ذرائع کے مطابق ان’’آؤٹ سائیڈرز‘‘ کو رہائش کی الاٹمنٹ کسی میرٹ یا پالیسی کے تحت نہیں بلکہ مبینہ طور پر بیوروکریٹک دباؤ اور ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کی سفارشات کے ذریعے دی گئی۔ معلوم ہوا ہے کہ ان افراد میں کالجز میں خدمات انجام دینے والے اساتذہ بھی شامل ہیں جو بیک وقت اپنے اصل اداروں میں ملازمت کرتے ہوئے یونیورسٹی کی رہائش گاہوں سے بھی فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ ذرائع نے بتایا کہ ایک کالج ٹیچر فریدہ باجوہ اپنی فیملی سمیت یونیورسٹی کے فیکلٹی کوارٹرز میں مقیم ہیںحالانکہ ان کا یونیورسٹی سے کوئی باضابطہ تعلق نہیں۔ اسی طرح اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور سے وابستہ اسسٹنٹ پروفیسر انعم رفیق کا نام بھی سامنے آیا ہے، جن کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ انہیں یہ رہائش مبینہ طور پر اعلیٰ سطح سفارش کے تحت فراہم کی گئی۔ تعلیمی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ معاملہ صرف غیر قانونی رہائش تک محدود نہیں بلکہ یہ یونیورسٹی کے سسٹم کے لیے بھی سوالیہ نشان ہے۔ اساتذہ کا کہنا ہے کہ ایک طرف اصل فیکلٹی ممبران رہائش کی سہولت سے محروم ہیں جبکہ دوسری طرف سفارشی کلچر کے ذریعے غیر متعلقہ افراد کو نوازا جا رہا ہےجو کھلی ناانصافی اور بدانتظامی کی بدترین مثال ہے۔ تاہم سوال یہ ہے کہ کیا واقعی یہ سب کچھ قواعد کے مطابق ہو رہا ہے یا پھر قوانین کو طاقتور حلقوں کے سامنے بے بس کر دیا گیا ہے؟ یہ نہ صرف گورنمنٹ صادق کالج ویمن یونیورسٹی بہاولپور کی ساکھ متاثر کرتا ہے بلکہ تعلیم کے متعلقہ انتظامی محکموں کی کارکردگی اور شفافیت پر بھی سوالیہ نشان بن چکا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا اس معاملے کی شفاف تحقیقات ہوتی ہیں یا یہ بھی دیگر غیر قانونی امور کی طرح فائلوں میں دفن ہو کر رہ جائے گا۔ اس بارے میں یونیورسٹی پی آر او نے کوئی جواب نہ دیا۔ وائس چانسلر آفس کے ملازمین کے مطابق وائس چانسلر ڈاکٹر شازیہ انجم خود بھی ان 2 خواتین کو نکالنا چاہتی ہیں مگرہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب میں بیٹھے افراد کی مضبوط اور مخصوص سفارش کی بنیاد پر ان کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں۔

شیئر کریں

:مزید خبریں