ملتان (سٹاف رپورٹر) ان دنوں تعلیمی و سرکاری حلقوں میں ایک خود ساختہ بااثر شخص کا چرچا زوروں پر ہے جو مبینہ طور پر گورنر ہاؤس، ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ اور دیگر اہم دفاتر سے معاملات مینج کروانے کے نام پر وائس چانسلر حضرات کو میٹھی گولیاں دینے میں مصروف ہے۔ یہ صاحب کبھی وائس چانسلر حضرات کو گورنر آفس سے انکوائریاں ختم کروانے کی بابت میٹھی گولی دیتے نظر آتے ہیں تو کبھی کسی وائس چانسلر کے بچوں کی شادیوں میں بغیر دعوت کے جلوہ افروز ہوتے نظر آتے ہیں اور کبھی کسی اہم کانفرنس میں غیر متعلقہ ہونے کے باوجود خود کو زبردستی شامل کروا لیتے ہیں اور پھر اس کے بعد باقاعدہ ٹی اے ڈی اے کا مطالبہ بھی شروع کر دیتے ہیں۔ ذرائع کے مطابق اس مسلسل مشق اور چالاکی کے نتیجے میں کچھ وائس چانسلرز نے بھی اپنے فرنٹ مین کے طور پر اسی شخص کا نام دینا شروع کر دیا ہے، گویا وہ ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب اور گورنر آفس میں ہر مشکل کام باآسانی حل کروا سکتا ہو،یہی نہیں بلکہ مختلف وائس چانسلرز کو بڑے بڑے دعوؤں اور خوش کن وعدوں کے ذریعے رام کرنے کی کوششیں بھی جاری ہیں۔ حال ہی میں ملتان سے تعلق رکھنے والی ایک وائس چانسلر کو بھی اسی قسم کی میٹھی گولیوں کا نشانہ بنایا گیا مگر نتیجہ صفر نکلا۔ اس ناکامی کے باوجود یہ سلسلہ رکا نہیں بلکہ مزید شدت اختیار کر گیا۔ اسی تناظر میں ملتان کی ایک اور یونیورسٹی کے وائس چانسلر نے جب ان سے رابطہ کرکے ایک دوسری یونیورسٹی کے وائس چانسلر کے طور پر اپنی تعیناتی کے لیے معاملات طے کروانے کی بات کی تو یہ صورتحال الٹی پڑ گئی اور انہیں سبکی کا سامنا کرنا پڑا۔ باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ بیوروکریسی کے کچھ طاقتور عناصرجو اپنی مرضی کے وائس چانسلر کو لانا چاہتے تھے، انہوں نے اس معاملے پر فوری اپنے کام سے کام رکھو کا حکم جاری کیا جس کے بعد متعلقہ وائس چانسلر کو پسپائی اختیار کرنا پڑی تاہم اس تمام صورتحال کے باوجود میٹھی گولیوں کا کاروبار بدستور جاری ہے اور یہ پورے پنجاب میں پھیل چکا ہے۔ مزید حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اب یہی حربے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی جامعات تک بھی پہنچ چکے ہیںجہاں بعض وائس چانسلرز کو اسی انداز میں متاثر کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ بظاہر یہ کمبائنڈ بارگیننگ ایجنٹ (سی بی اے) کا ایک ایسا محفوظ کھیل بن چکا ہے جس میں نہ صرف بیوروکریسی خود کو محفوظ سمجھتی ہے بلکہ بعض وائس چانسلرز بھی تدریس پر توجہ دینے کے بجائے اس خاموش گٹھ جوڑ کا حصہ بن کر فائدہ اٹھانے کی ناکام کوششوں میں مصروف ہیں۔ یہ سلسلہ بڑھتے بڑھتے اب ان صاحب کی بیٹھک تک جا پہنچا ہے اور آئے روز متعدد وائس چانسلر حضرات اپنی من پسند تحریریں لکھوانے ان کے پاس پہنچ جاتے ہیں جو کہ صرف ایک ملاقات میں بغیر کسی ثبوت کے وائس چانسلرز کی شان میں وہ تمام تعریفیں لکھ دیتے ہیں جن کا سر پیر کوئی نہیں ہوتا۔ ایک یونیورسٹی انتظامیہ سے ان تعریفوں بارے سوال کیا گیا تو آج تک کوئی جواب موصول نہ ہو سکا جبکہ یونیورسٹی کے اندرونی ذرائع کے مطابق تحریر میں جو چیزیں نمایاں تھیں ان میں تعلیم، تدریس و تحقیق بالکل موجود نہیں تھی۔ کیا اس طرح کی سوشل میڈیا پوسٹس اس بات کا ثبوت ہو سکتی ہیں کہ یونیورسٹی ترقی کی راہ پر گامزن ہے؟ جبکہ حیران کن طور پر حقیقی معنوں میں عالمی رینکنگ میں مذکورہ یونیورسٹی سوائے 2 مضمون کے کہیں موجود نہ تھی۔ وائس چانسلر حضرات یونیورسٹیوں کی اصل ترقی پر فوکس کرنے کے بجائے سہولت کاری لینے پر توجہ دے رہے ہیں جس سے تعلیمی معیار، تحقیق و تدریس پر توجہ ہٹتی جا رہی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا سوشل میڈیا کی حد تک با اثر نظر آنے والے صاحب کی یہ میٹھی گولیاں ہمیشہ چلتی رہیں گی، ایک سینئر پروفیسر نے اس صورتحال پر موقف دیتے ہوئے کہا کہ ماضی میں اس قسم کے سی بی اے فیکٹری مالکان کے پاس ہوتے تھے حضرات کو یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ یونیورسٹیاں فیکٹریاں نہیں ہوتیں۔







