میونسپل کارپوریشن کرپشن کا گڑھ، کروڑوں ہڑپ، چیف آفیسر سمیت 8 افراد پر مقدمہ

ملتان (سپیشل رپورٹر) اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ ملتان نے میونسپل کارپوریشن ملتان میں ترقیاتی سکیموں میں مبینہ مالی بے ضابطگیوں اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے الزام میں چیف آفیسر اقبال خان سمیت آٹھ افراد کے خلاف مقدمہ درج کر لیا۔ یہ کارروائی شہری محمد بشیر ولد رب نواز کی جانب سے دی گئی درخواست پر عمل میں لائی گئی جس میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ متعلقہ افسران نے ٹھیکیداروں کے ساتھ ملی بھگت کر کے مختلف سکیموں میں قواعد کے برعکس ادائیگیاں کیں اور سرکاری خزانے کو دو کروڑ 15 لاکھ روپے سے زائد کا نقصان پہنچایا۔درخواست کے مطابق سکیم نمبر 70/2020 کے تحت گرین ویو ہاؤسنگ سکیم میں پارک کی بہتری، پیور بلاک، واک وے اور دیگر ترقیاتی کاموں کے لیے فنڈز جاری کیے گئے۔ الزام لگایا گیا کہ موقع پر کام کی نوعیت تبدیل کر دی گئی جبکہ پیمائش کے بغیر بل پاس کیے گئے۔ درخواست میں کہا گیا کہ پارک کی بہتری کے نام پر مکمل کام ظاہر کیا گیا مگر زمینی حقائق اس کے برعکس تھے، جس سے لاکھوں روپے کی زائد ادائیگی کی گئی۔اسی طرح سکیم نمبر 75/2020 یونین کونسل نمبر 94 موضع بکھری ضلع کونسل کی حدود میں سڑک اور سیوریج کی تعمیر کے لیے منظور کی گئی۔ درخواست گزار کے مطابق اس سکیم میں غیر ضروری آئٹمز شامل کر کے تخمینہ لاگت بڑھائی گئی اور ٹینڈر کے بعد ڈیزائن میں تبدیلی کر کے ٹھیکیدار کو فائدہ پہنچایا گیا۔ مزید کہا گیا کہ کام مکمل ہونے سے قبل ہی بل پاس کیے گئے جبکہ بعض مقامات پر کام جزوی تھا مگر ریکارڈ میں مکمل ظاہر کیا گیا۔درخواست میں سکیم نمبر 70/2021 کی تفصیلات بھی بیان کی گئیں جس کے تحت بلال اسٹیٹ کی گلی نمبر 57، 58، 59 اور 60 میں سڑکوں کی تعمیر و مرمت، سیوریج کی درستگی اور دیگر ترقیاتی کام ظاہر کیے گئے۔ درخواست گزار کے مطابق متعلقہ افسران نے مذکورہ گلیوں کے لیے تیار کردہ تخمینہ لاگت میں مقداریں بڑھا چڑھا کر شامل کیں اور بعد ازاں پیمائش بُک میں مکمل کام ظاہر کر دیا گیا، جبکہ موقع پر کئی حصوں میں کام نامکمل پایا گیا۔ درخواست میں الزام عائد کیا گیا کہ بعض مقامات پر پرانے فرش کو برقرار رکھتے ہوئے نئے کام کی ادائیگی دکھائی گئی، جبکہ کہیں جزوی مرمت کو مکمل تعمیر ظاہر کیا گیا۔ مزید کہا گیا کہ تعمیراتی معیار کو نظر انداز کرتے ہوئے کم درجے کا میٹریل استعمال کیا گیا اور مقداروں میں اضافہ کر کے ٹھیکیدار کو فائدہ پہنچایا گیا۔ اس طرح غیر ضروری مقداریں شامل کر کے اضافی بل پاس کیے گئے جس سے سرکاری خزانے کو لاکھوں روپے کا نقصان پہنچنے کا اندیشہ ظاہر کیا گیا۔درخواست میں مزید کہا گیا کہ متعلقہ افسران نے تکنیکی منظوری کے بغیر ورک آرڈرز جاری کیے، تخمینہ لاگت میں غیر قانونی رد و بدل کیا اور بعض سکیموں میں پہلے سے منظور شدہ کاموں کو نئے ناموں سے ظاہر کر کے دوبارہ فنڈز حاصل کیے۔ الزام کے مطابق ریکارڈ میں رد و بدل کر کے ٹھیکیداروں کو فائدہ پہنچایا گیا جبکہ ادائیگیوں کے مراحل میں مالیاتی قواعد کی خلاف ورزی کی گئی۔اینٹی کرپشن حکام کے مطابق درخواست کی ابتدائی جانچ پڑتال کے بعد الزامات درست پائے گئے جس پر چیف آفیسر میونسپل کارپوریشن اقبال خان، ایم او فنانس فرخ گلزار، اے ایم او عبدالمجید قندرانی، ڈی ایم او عباس سرور نقوی، میونسپل آفیسر انفراسٹرکچر زاہد قیوم، سب انجینئر خضر خان، سرکاری ٹھکیدار صدیق اور ایک نجی کالونی کے مالک کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ ملزمان نے مبینہ طور پر ملی بھگت سے ترقیاتی سکیموں میں بے ضابطگیاں کیں جس سے قومی خزانے کو نقصان پہنچا۔اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ ملتان نے مقدمہ درج کر کے مزید تحقیقات شروع کر دی ہیں جبکہ متعلقہ ریکارڈ قبضے میں لے لیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق دوران تفتیش سکیموں کی تکنیکی جانچ، پیمائش اور ادائیگیوں کا تفصیلی جائزہ لیا جا رہا ہے اور شواہد کی بنیاد پر مزید قانونی کارروائی کی جائے گی۔

شیئر کریں

:مزید خبریں