تھانہ جہانیاں میں قانون کا جنازہ، 9 سالہ بچہ مجرم قرار، انصاف خواب بن گیا

بہاولپور (ڈسٹرکٹ رپورٹر) تھانہ جہانیاں پولیس نے مبینہ بدنیتی اور سیاسی دباؤ کی تمام حدیں عبور کر لیں۔ ایک غریب خاندان کے خلاف سنگین دفعات کے تحت مقدمہ درج کرتے ہوئے نہ صرف 9 سالہ معصوم بچے کو نامزد کر دیا گیا بلکہ لوکیشن ڈیٹا (CDR) کو بھی پسِ پشت ڈال کر قانون کا مذاق اڑایا گیا ہے۔ متاثرہ خاندان نے آئی جی پنجاب اور وزیرِ اعلیٰ مریم نواز سے انصاف کی دہائی دی ہے۔ پولیس گردی کی انتہا کہ 9 سالہ بچے احمد کو ایف آئی آر نمبر 425/26 میں نامزد کر دیا گیا۔ قانونی ماہرین کے مطابق یہ اقدام Juvenile Justice System Act کی کھلی خلاف ورزی ہے درخواست گزار عائشہ زرین کے مطابق مقدمے میں نامزد سعید احمد اور سعد انور وقوعہ کے وقت جہانیاں میں موجود ہی نہیں تھے بلکہ بہاولپور روڈ اور لودھراں میں تھے۔ ناقابلِ تردید دستاویزی ثبوت کے باوجود پولیس نے سیاسی دباؤ پر حقائق تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔متاثرہ خاتون کا دعویٰ ہے کہ وقوعہ کے وقت وہ خود تھانے میں موجود تھی، مگر اب ایس ایچ او جہانیاں مبینہ طور پر تھانے کا CCTV ریکارڈ غائب کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ خاتون کی موجودگی جائے وقوعہ پر ثابت کی جا سکے۔ ایس ایچ او اور سب انسپکٹر کا گٹھ جوڑ الزام ہے کہ ایس ایچ او مہر اخلاق اور سب انسپکٹر حذیفہ نے ملزم عرفان کے ساتھ ساز باز کر لی ہے۔ سائلہ کی جانب سے 15 پر کال اور فرنٹ ڈیسک پر اندراج کے باوجود ملزم کے خلاف کارروائی کرنے کے بجائے اسے وی آئی پی پروٹوکول دیا گیا۔تھانے میں ملزم عرفان دندناتا پھر رہا ہے جبکہ مظلوم خاتون کو تذلیل کا سامنا ہے۔ جب انصاف مانگا جائے تو ایس ایچ او ریڈ کا بہانہ بنا کر غائب ہو جاتے ہیں اور ماتحت عملہ شوہر کو جھوٹے مقدمات میں بند کرنے کی دھمکیاں دیتا ہے۔ تھانہ جہانیاں میں سرکاری امور کی انجام دہی کا ایک اور شرمناک پہلو سامنے آیا ہے۔ ذرائع کے مطابق جواد نامی ایک نجی کارندہ تھانے میں مثل لکھنے جیسے حساس کام کر رہا ہے اور سائلین کو دونوں ہاتھوں سے لوٹ رہا ہے۔ پولیس افسران نے تھانہ جیسے مقدس ادارے کو نجی ٹھیکیداروں کے حوالے کر رکھا ہے۔وزیرِ اعلیٰ پنجاب کے خواتین تحفظ مشن پر سوالیہ نشان وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز کے خواتین کے احترام اور تحفظ کے بلند بانگ دعوے تھانہ جہانیاں کی دہلیز پر دم توڑتے نظر آ رہے ہیں۔ متاثرہ خاتون نے الزام عائد کیا ہے کہ پولیس افسران عورت کو پیر کی جوتی سمجھ کر تذلیل کر رہے ہیں اور ملزم کی سہولت کاری میں مصروف ہیں۔اعلیٰ حکام سے فوری اپیل عوامی حلقوں اور متاثرہ خاندان نے درج ذیل مطالبات کیے ہیں ائی جی پنجاب اور آر پی او ملتان فوری طور پر اس کیس میں مداخلت کریں۔ایس ایچ او مہر اخلاق اور سب انسپکٹر حذیفہ کو معطل کر کے ان کے خلاف جوڈیشل انکوائری کی جائے۔ سی ڈی آر (CDR) اور سی سی ٹی وی کی روشنی میں بے گناہ افراد کے نام مقدمے سے خارج کیے جائیں۔​تھانے میں موجود پرائیویٹ کارندوں کا قلع قمع کیا جائے۔​متاثرین کا کہنا ہے کہ اگر ڈی پی او خانیوال نے فوری انصاف فراہم نہ کیا تو وہ احتجاج کا دائرہ کار وسیع کریں گے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں