اسلامیہ یونیورسٹی، 42 کڑور کا غبن، تحقیقات میں تہلکہ خیز انکشافات، حکام کا گھیرا تنگ

ملتان (سٹاف رپورٹر) اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور میں مالیاتی سکینڈل کس تسلسل جاری ہے اور تحقیقات میں ایک اور تہلکہ خیز اور چونکا دینے والا انکشاف سامنے آیا ہے، جس نے نہ صرف سابقہ انتظامیہ بلکہ موجودہ قیادت کو بھی سخت سوالات کے کٹہرے میں لا کھڑا کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق سابق وائس چانسلر ڈاکٹر اطہر محبوب، اُس وقت کے خزانچی ڈاکٹر محمد ابوبکر، ڈپٹی خزانچی (موجودہ خزانچی) طارق محمود شیخ اور ان تمام معاملات کی مبینہ پشت پناہی کرنے والے موجودہ وائس چانسلر ڈاکٹر محمد کامران کے گرد گھیرا مزید تنگ ہو رہا ہے۔ دستاویزی شواہد کے مطابق ایک نجی وینڈر کے حق میں جمع کروایا جانے والا انڈیمنٹی بانڈ نہ صرف انتہائی مشکوک تھا بلکہ حیران کن طور پر اس کی کسی بھی مجاز فورم، سنڈیکیٹ یا متعلقہ اتھارٹی سے باقاعدہ منظوری ہی نہیں لی گئی۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ یہ بانڈ مبینہ ملی بھگت کے تحت خفیہ طریقے سے تیار کیا گیا اور خاموشی کے ساتھ بینک میں جمع کروا دیا گیا، جس کے نتائج انتہائی بھیانک صورت میں سامنے آئے ییں۔ یہ انکشاف ہوا ہے کہ اسی متنازع انڈیمنٹی بانڈ کو بنیاد بنا کر متعلقہ وینڈر نے بدترین مالی مسائل کا شکار اسلامیہ یونیورسٹی کے کھاتے سے تقریباً 42 کروڑ روپے کی خطیر رقم نکلوا لی اور ملک سے فرار ہو کر امریکہ جا بسا۔ اس سنسنی خیز انکشاف کے بعد جب یونیورسٹی انتظامیہ نے وینڈر سے رابطہ کرنے کی کوشش کی تو نہ ای میلز کا کوئی جواب ملا اور نہ ہی کوئی قانونی تعاون سامنے آیا، جس سے اس پورے معاملے میں سنگین بدنیتی کے شبہات مزید گہرے ہو گئے ہیں۔ حیران کن امر یہ ہے کہ اس بڑے مالیاتی نقصان کے باوجود ذمہ داری ان افراد پر ڈالنے کے بجائے جنہوں نے مبینہ طور پر غیر قانونی اور بغیر منظوری کے یہ انڈیمنٹی بانڈ جمع کروایا، توجہ صرف وینڈر کے خلاف کارروائی تک محدود رکھی جا رہی ہے۔ ذرائع کے مطابق موجودہ خزانچی طارق محمود شیخ کی جانب سے وینڈر کو مسلسل تحفظ فراہم کیا گیا، مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا اصل ذمہ داران کو بچانے کی کوشش کی جا رہی ہے؟ یا وہ خود اپنے آپ کو بچانا چاہ رہے ہیں؟ تعلیمی و قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ معاملہ محض ایک وینڈر کی دھوکہ دہی نہیں بلکہ وینڈر سمیت سابقہ وائس چانسلر ڈاکٹر اطہر محبوب، نئے تعینات ہونے والے کرپشن میں لتھڑے خزانچی طارق محمود شیخ ، سابقہ خزانچی ڈاکٹر ابو بکر اور ان کو بچانے والے حالیہ وائس چانسلر ڈاکٹر محمد کامران سمیت ایک منظم مالی بے ضابطگی کا شاخسانہ معلوم ہوتا ہے، جس میں اندرونی سطح پر منظوری کے بغیر ایسے خطرناک مالی معاہدے کو ممکن بنایا گیا۔ اور پھر سونے پر سہاگا کہ ماضی کے ایک کرپٹ شخص طارق محمود شیخ کو وائس چانسلر ڈاکٹر محمد کامران کی ملی بھگت سے، ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب کی سر پرستی میں چانسلر کی منظوری سے خزانچی لگانا صوبہ پنجاب کے تعلیمی نظام پر ایک سوالیہ نشان ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر کسی سرکاری ادارے میں اتنی بڑی رقم کے انڈیمنٹی بانڈ کی منظوری ہی نہ لی گئی ہو تو یہ محض غفلت نہیں بلکہ سنگین بدانتظامی اور ممکنہ ملی بھگت کا واضح ثبوت ہے۔ مزید برآں، حلقوں کا کہنا ہے کہ موجودہ وائس چانسلر ڈاکٹر محمد کامران کی خاموشی اور مبینہ سرپرستی اس پورے معاملے کو مزید پیچیدہ بنا رہی ہے، جس سے یہ تاثر مضبوط ہو رہا ہے کہ یہ سب کچھ سابقہ دور کی پالیسیوں کا تسلسل ہے۔ ذرائع کے مطابق اگر واقعی شفافیت مطلوب ہے تو صرف وینڈر نہیں بلکہ ان تمام افسران کے خلاف بھی فوری کارروائی ہونی چاہیے جنہوں نے اس مالی معاہدے کو ممکن بنایا۔ اسلامیہ یونیورسٹی کے تعلیمی اور تدریسی حلقوں میں اس انکشاف کے بعد شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے اور مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ نہ صرف اس اسکینڈل کی اعلیٰ سطحی اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کروائی جائیں بلکہ ذمہ داران کا تعین کر کے ان سے رقم کی ریکوری بھی یقینی بنائی جائے۔ بصورت دیگر یہ معاملہ نہ صرف قومی خزانے کے لیے ایک مستقل خطرہ بن سکتا ہے بلکہ اعلیٰ تعلیمی اداروں کی ساکھ کو بھی ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا سکتا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر اس اسکینڈل کی جڑوں تک پہنچ کر سخت احتساب نہ کیا گیا تو مستقبل میں اس سے بھی بڑے مالیاتی فراڈز کے دروازے کھل سکتے ہیں، اور یونیورسٹیاں بدعنوانی کے ایسے گڑھ میں تبدیل ہو سکتی ہیں جہاں قانون اور ضابطے محض رسمی کارروائی بن کر رہ جائیں گے۔ یونیورسٹی کے حلقوں نے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف، چانسلر سردار سلیم حیدر خان ، سیکرٹری ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب غلام فرید سمیت اداروں سے اس تعیناتی کو ریویو کرنے کی درخواست کی ہے۔ اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کے ترجمان (پی آر او) نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ مذکورہ معاملے پر اعلیٰ سطحی انکوائری کمیٹی یونیورسٹی قوانین کے مطابق تحقیقات کر رہی ہے اور تحقیقاتی رپورٹ کی روشنی میں قانون کے مطابق لائحہ عمل اختیار کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس معاملے پر خبر پہلے بھی شائع ہو چکی ہے۔ ترجمان سے جب انکوائری کمیٹی کے نوٹیفکیشن، اس کے دائرہ اختیار اور ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ (HED) کی سطح پر کمیٹی کی تشکیل سے متعلق سوالات کیے گئے، نیز یہ استفسار کیا گیا کہ اگر مالی بے ضابطگیوں کی انکوائری جاری تھی تو وائس چانسلر ڈاکٹر کامران کی جانب سے طارق محمود شیخ کا نام ٹریژرر کے پینل میں کیسے تجویز کیا گیا، تو انہوں نے جواب دیا کہ آپ دو مختلف معاملات کو یکجا کر رہا ہے جن کے ٹائم فریم الگ الگ ہیں۔ پی آر او کے مطابق تقرری کے لیے سلیکشن بورڈ کا عمل اور انکوائری دو مختلف اوقات میں ہونے والے پراسیس ہیں، اس لیے انہیں ایک ساتھ نہیں دیکھا جا سکتا۔ انہوں نے مزید کہا کہ حتمی فیصلہ یونیورسٹی سنڈیکیٹ کرے گی۔ جب ان سے دوبارہ سوال کیا گیا کہ اگر متعلقہ افسر کے خلاف مالی معاملات کی انکوائری تھی تو سلیکشن کمیٹی کو اس سے آگاہ کیوں نہیں کیا گیا، تو ترجمان نے ایک بار پھر مؤقف دہرایا کہ تقرری اور انکوائری کے ٹائم لائنز مختلف ہیں۔ مزید سوالات میں یہ بھی پوچھا گیا کہ حالیہ تقرری سے قبل اشتہار اور انٹرویوز چند ماہ قبل ہی ہوئے تھے، اس دوران زیرِ التوا معاملات سلیکشن کمیٹی کے سامنے کیوں نہیں لائے گئے اور انکوائری کمیٹی کا باضابطہ نوٹیفکیشن بھی فراہم کیا جائے، تاہم اس حوالے سے کوئی واضح جواب موصول نہیں ہو سکا۔

شیئر کریں

:مزید خبریں