پنجاب: بچوں کی موجیں ختم، تعلیمی ادارے کل سے اوپن، 5 دن کلاسز، ہائبرڈ نظام مسترد

ملتان (وقائع نگار)بچوں کی موجیں ختم ہوگئیں۔ پنجاب بھر کے تعلیمی ادارے کل یکم اپریل سے کھل جائیں گے پنجاب میں سکولز یکم اپریل سے پانچ دن ہفتہ وار کھلیں گے، ہائبرڈ نظام مسترد کردیاگیا۔صوبائی وزیر تعلیم پنجاب رانا سکندر حیات نے واضح کر دیا ہے کہ تعلیمی اداروں میں ہفتے میں تین یا چار دن کلاسز لینے والا کوئی ہائبرڈ نظام نافذ نہیں کیا جائے گا۔ صوبہ بھر کے تمام سکولز اور تعلیمی ادارے یکم اپریل 2026 سے مکمل طور پر کھل جائیں گے اور ہفتے میں پانچ دن باقاعدہ کلاسز ہوں گی۔وزیر تعلیم نے اپنے بیان میں کہا کہ آن لائن کلاسز میں بچوں کے لیے لیکچرز پر مکمل توجہ دینا مشکل ہے، اس لیے حکومت تعلیمی کیلنڈر میں تبدیلی لا رہی ہے تاکہ آئندہ سال امتحانات دینے والے طلباء و طالبات کو مکمل وقت مل سکے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ 70 فیصد مفت درسی کتب پنجاب کے تمام اضلاع میں پہنچا دی گئی ہیں جبکہ باقی کتب کی ترسیل بھی جلد مکمل کر لی جائے گی۔ میٹرک کے 246 امتحانی مراکز کی سی سی ٹی وی کیمروں سے مانیٹرنگ کی جا رہی ہے۔رانا سکندر حیات کا کہنا تھا کہ ہائبرڈ نظام کی تجویز مسترد کر دی گئی ہے، اب سکولز معمول کے مطابق پانچ دن کھلے رہیں گے تاکہ تعلیم کا تسلسل برقرار رہے اور طلباء کا تعلیمی نقصان کم سے کم ہو۔دوسری جانب پنجاب حکومت نے سکولز دوبارہ کھولنے سے قبل طلباء و اساتذہ کے تحفظ کے لیے نئی ہدایات جاری کر دی ہیں۔ ڈائریکٹر پبلک انسٹرکشنز (ڈی پی آئی) سیکنڈری ایجوکیشن سکولز پنجاب قیصر رشید نے مراسلہ جاری کرتے ہوئے کہا کہ حکومت شہریوں کے تحفظ کی مکمل ذمہ دار ہے۔20 اور 21 فروری کو جاری ہدایات کی یاد دہانی کراتے ہوئے انہوں نے تاکید کی کہ سکول اوقات کار میں طلباء اور اساتذہ کا تحفظ انتہائی اہم ہے۔ سکولوں میں موجود مکمل خطرناک اور جزوی خطرناک عمارتوں کے گرد حفاظتی باڑ، تار یا دیگر تدابیر فوری طور پر لگائی جائیں۔ سکول اوقات کے دوران ان عمارتوں تک رسائی مکمل طور پر بند رہے اور کوئی بھی شخص ان کی طرف نہ جائے۔تعمیراتی کاموں کے گرد بھی مناسب حفاظتی تدابیر اختیار کی جائیں اور کسی استاد یا ملازم کو ڈیوٹی دی جائے کہ وہ سکول اوقات میں طلباء اور عملے کو حفاظتی ہدایات سے آگاہ کرتا رہے۔ڈی پی آئی نے واضح کیا کہ کسی بھی لاپروائی یا نقصان کی صورت میں متعلقہ سی ای او، ڈی ای او، ڈپٹی ڈی ای او، اے ای او اور ادارے کے سربراہ ذمہ دار ہوں گے اور ان کے خلاف کارروائی کی جا سکتی ہے۔یہ فیصلے طلباء کی تعلیم کو تسلسل دینے اور ان کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے کیے گئے ہیں۔ والدین اور اساتذہ سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ سرکاری ہدایات پر عمل کریں۔

شیئر کریں

:مزید خبریں