کیوایس رینکنگ: اسلام آباد پہلے، لاہور دوسرے نمبر پر، کراچی، ملتان، پہاولپور بہت پیچھے

ملتان (سٹاف رپورٹر) کیو ایس ورلڈ یونیورسٹی رینکنگ 2026 نے پاکستان کے اعلیٰ تعلیمی نظام کی ایسی تصویر پیش کر دی ہے جو نہ صرف چونکا دینے والی ہے بلکہ کئی تلخ سوالات بھی کھڑے کرتی ہے۔ ملک بھر کی درجنوں جامعات کے دعوؤں اور بلند و بانگ نعروں کے برعکس رینکنگ میں جگہ بنانے والی یونیورسٹیوں کی تعداد نہایت محدود اور جغرافیائی طور پر چند بڑے شہروں تک سمٹ کر رہ گئی ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق اسلام آباد ایک بار پھر سب پر بازی لے گیا جہاں سے چھ جامعات رینکنگ میں شامل ہوئیں۔ ان میں نیشنل یونیورسٹی آف سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی (نسٹ)، قائد اعظم یونیورسٹی، انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی، پاکستان انسٹیٹیوٹ آف انجینئرنگ اینڈ اپلائیڈ سائنسز، رفاہ انٹرنیشنل یونیورسٹی اور کامسیٹس یونیورسٹی اسلام آباد شامل ہیں۔ یہ واضح برتری اس بات کا ثبوت ہے کہ اسلام آباد میں تدریس، تحقیق اور معیار اس وقت پورے پاکستان میں سب سے زیادہ ہے۔ دوسری جانب لاہور پانچ جامعات کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہا جن میں یونیورسٹی آف دی پنجاب، لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز، یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی لاہور، یونیورسٹی آف لاہور اور لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ اینڈ ٹیکنالوجی شامل ہیں۔ اسلام آباد کے بعد لاہور میں بھی تعلیمی و تدریسی معیار بہت اعلیٰ رہا۔ فیصل آباد جیسے بڑے شہر کی کارکردگی جامعات کے تناسب سے بہت بہتر دکھائی دی جہاں سے دو جامعات رینکنگ میں جگہ بنا سکیں۔ فیصل آباد سے گورنمنٹ کالج یونیورسٹی اور زرعی یونیورسٹی جبکہ کراچی جیسا پاکستان کا سب سے بڑا شہر تعلیمی و تدریسی اور تحقیقی معیار میں جامعات کے تناسب سے بہت پیچھے رہا۔ کراچی سے یونیورسٹی آف کراچی اور آغا خان یونیورسٹی شامل ہیں۔ یہ صورتحال اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ ملک کے صنعتی اور معاشی مراکز بھی تعلیمی میدان میں اپنی پوری صلاحیت دکھانے میں ناکام رہے ہیں۔ مزید تشویشناک پہلو یہ ہے کہ پشاور، ملتان اور بہاولپور جیسے اہم شہروں سے محض ایک، ایک یونیورسٹی ہی رینکنگ میں جگہ بنا سکی۔ پشاور سے یونیورسٹی آف پشاور، جنوبی پنجاب کے بڑے شہر ہونے اور 15 کے قریب یونیورسٹیاں اور ان کے کیمپس ہونے کے باوجود ملتان سے بہاالدین زکریا یونیورسٹی اور بہاولپور سے اسلامیہ یونیورسٹی شامل ہیں۔ یہ نہایت کمزور نمائندگی ملک میں تعلیمی عدم توازن کی واضح عکاسی کرتی ہے۔

16 خواتین یونیورسٹیوں میں سےایک بھی عالمی فہرست میں شامل نہ ہو سکی

ملتان (سٹاف رپورٹر) پاکستان کے اعلیٰ تعلیمی نظام کے لیے ایک اور چونکا دینے والی اور افسوسناک خبر سامنے آگئی ہے۔ کیو ایس ورلڈ رینکنگ 2026 میں جہاں ملک کی چند بڑی جامعات اپنی موجودگی برقرار رکھنے میں کامیاب رہیں، وہیں ایک تلخ حقیقت نے سب کو ہلا کر رکھ دیا۔ پورے پاکستان میں 278 یونیورسٹیوں میں سے 16 خواتین یونیورسٹیوں میں کسی بھی خواتین یونیورسٹی کا نام اس عالمی فہرست میں شامل نہ ہو سکا۔ یہ محض ایک عددی کمی نہیں بلکہ ایک ایسا زوردار تھپڑ ہے جو برسوں سے کیے جانے والے دعوؤں، پالیسیوں اور منصوبہ بندی کی حقیقت کو بے نقاب کر رہا ہے۔ خواتین کی تعلیم کے فروغ کے نام پر اربوں روپے خرچ کیے گئے، سیمینارز اور کانفرنسز منعقد ہوئیں، مگر نتیجہ صفر! سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر یہ تمام وسائل کہاں صرف ہو رہے ہیں؟۔

بلوچستان کی جامعات عالمی منظرنامے سے غائب، 12 میں سے ایک بھی نہیں

ملتان (سٹاف رپورٹر) کیو ایس ورلڈ یونیورسٹیز رینکنگ 2026 سامنے آتے ہی ملک بھر میں جہاں چند جامعات کی کارکردگی کو سراہا جا رہا ہے، وہیں ایک ایسا چونکا دینے والا اور افسوسناک انکشاف بھی سامنے آیا ہے جس نے پورے تعلیمی نظام کی بنیادیں ہلا کر رکھ دی ہیں۔ دنیا کی 1500 بہترین یونیورسٹیوں کی اس فہرست میں بلوچستان کی 12 میں سے ایک بھی یونیورسٹی شامل نہ ہو سکی۔ یہ محض ایک معمولی کمی نہیں بلکہ ایک پورے صوبے کی عالمی تعلیمی منظرنامے سے مکمل غیر موجودگی ہے۔ بلوچستان جہاں لاکھوں طلبہ اعلیٰ تعلیم حاصل کر رہے ہیں، عالمی سطح پر اپنی کوئی شناخت بنانے میں ناکام رہا۔ یہ صورتحال نہ صرف تشویشناک ہے بلکہ حکومتی دعوؤں اور تعلیمی پالیسیوں پر ایک بڑا سوالیہ نشان بھی کھڑا کرتی ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ ناکامی اچانک نہیں ہوئی بلکہ برسوں کی غفلت، ناقص پالیسی سازی، فنڈز کی کمی، اور تعلیمی اداروں میں معیار کی گرتی ہوئی سطح کا نتیجہ ہے۔ بلوچستان کی جامعات نہ تحقیق میں نمایاں کارکردگی دکھا سکیں، نہ عالمی معیار کی تدریس فراہم کر سکیں، اور نہ ہی بین الاقوامی روابط قائم کر پائیں۔

سوشیالوجی میں کارکردگی کا بھانڈا پھوٹ گیا، پاکستان کی ایک بھی یونیورسٹی شامل نہیں

ملتان (سٹاف رپورٹر) عالمی تعلیمی منظرنامے میں پاکستان کے لیے ایک اور لمحۂ فکریہ سامنے آ گیا ہے جہاں QS World University Rankings کی تازہ درجہ بندی نے سوشیالوجی (Sociology) کے شعبے میں ملکی جامعات کی کارکردگی کا بھانڈا پھوڑ دیا ہے۔ افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ اس اہم سماجی علم کے میدان میں پاکستان کی ایک بھی یونیورسٹی عالمی فہرست میں کوئی نمایاں مقام حاصل نہ کر سکی جو نہ صرف تعلیمی معیار بلکہ پالیسی سازی کی ناکامی کا کھلا اعتراف ہے۔ تفصیلات کے مطابق دنیا بھر کی جامعات جہاں سوشیالوجی جیسے حساس اور پالیسی ساز شعبے میں تحقیق، جدت اور علمی اثرات کے ذریعے اپنا لوہا منوا رہی ہیں، وہیں پاکستان مکمل طور پر اس دوڑ سے باہر دکھائی دیتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ محض ایک اتفاق نہیں بلکہ برسوں سے جاری غفلت، ناقص حکمتِ عملی اور ادارہ جاتی کمزوریوں کا نتیجہ ہے۔

قانون کی تعلیم کے معیار پر سنگین سوالات، کوئی یونیورسٹی نمایاں مقام حاصل نہ کرسکی

ملتان (سٹاف رپورٹر)عالمی درجہ بندی کے معتبر ادارے QS World University Rankings کی تازہ فہرست نے پاکستان کے تعلیمی نظام، خصوصاً قانون (لا) کی تعلیم کے معیار پر سنگین سوالات کھڑے کر دیئے ہیں۔ حیران کن اور تشویشناک امر یہ ہے کہ لا کے شعبے میں پاکستان کی کوئی بھی یونیورسٹی عالمی سطح پر نمایاں مقام حاصل کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہی ہےجو نہ صرف تعلیمی پالیسیوں بلکہ متعلقہ اداروں کی کارکردگی پر بھی ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ دنیا بھر کی صفِ اول یونیورسٹیوں کی اس رینکنگ میں جہاں دیگر ممالک اپنی قانونی تعلیم کے معیار کے باعث نمایاں نظر آئے، وہیں پاکستان مکمل طور پر منظرنامے سے غائب دکھائی دیا۔ ماہرین تعلیم کے مطابق یہ صورتحال کسی ایک ادارے کی ناکامی نہیں بلکہ پورے نظام کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

پولیٹکس اور انٹرنیشنل سٹڈیزجیسے اہم اہم شعبے میں صرف لمز ہی اپنا مقام بنانے میں کامیاب

ملتان (سٹاف رپورٹر) عالمی درجہ بندی کے معتبر ادارے QS World University Rankings کی 2026 کی تازہ فہرست نے پاکستان کے اعلیٰ تعلیمی نظام کی سنگین خامیوں کو بے نقاب کر دیا ہے۔ پولیٹکس اور انٹرنیشنل سٹڈیز جیسے انتہائی اہم اور پالیسی ساز شعبے میں صرف Lahore University of Management Sciences (لمز) ہی اپنا مقام بنانے میں کامیاب ہو سکی جبکہ ملک کی باقی تمام جامعات اس عالمی دوڑ سے مکمل طور پر باہر دکھائی دیتی ہیں۔ یہ صورتحال نہ صرف تشویشناک بلکہ شرمناک بھی قرار دی جا رہی ہے، جہاں ایک طرف دنیا کی یونیورسٹیاں بین الاقوامی تعلقات، سفارتکاری اور پالیسی سازی میں نئی جہتیں متعارف کرا رہی ہیں، وہیں پاکستان کی جامعات کی اکثریت اس بنیادی میدان میں بھی کوئی نمایاں حیثیت حاصل نہ کر سکی۔

شیئر کریں

:مزید خبریں