سپریم کورٹ کے احکامات نظرانداز،ریلوے اراضی پرفیصلوں پر عملدرآمد نہ ہوسکا

بہاولپور (ڈسٹرکٹ رپورٹر)سپریم کورٹ آف پاکستان کے اہم احکامات پر عملدرآمد نہ ہونے کا معاملہ ایک بار پھر سنگین صورت اختیار کر گیا ہے، جہاں سو موٹو کیس نمبر 18 آف 2011 کے فیصلوں پر عملدرآمد میں تاخیر پر عدالت نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ اداروں کو وارننگ جاری کر دی تھی مگر پراپرٹی اینڈ لینڈ ریلوے ملتان عمل درآمد کرنے میں قاصرذرائع کے مطابق، عدالت عظمیٰ کے 27 دسمبر 2011 اور بعد ازاں 29 اگست 2018 کے واضح احکامات کے باوجود خصوصاً پنجاب اور سندھ میں پاکستان ریلوے کی اراضی سے متعلق فیصلوں پر مکمل عملدرآمد نہ ہو سکا، جس پر عدالت نے تین ہفتوں کی حتمی ڈیڈ لائن دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ عدم تعمیل کی صورت میں ذمہ داران کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔دستاویزات کے مطابق، پاکستان ریلوے کی قیمتی اراضی کی ملکیت، منتقلی، لیز اور فروخت سے حاصل ہونے والی آمدنی کی تقسیم کا معاملہ طویل عرصے سے وفاق اور صوبوں کے درمیان تنازع کا شکار ہے۔ اگرچہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں جزوی پیش رفت سامنے آئی ہے، تاہم پنجاب اور سندھ میں صورتحال مبہم بتائی جا رہی ہے۔عدالت نے مزید ہدایت جاری کی ہے کہ پاکستان ریلوے ہر صوبے کے لیے ایک ہفتے کے اندر فوکل پرسن مقرر کرے تاکہ ریونیو ڈیپارٹمنٹس کے ساتھ رابطہ مؤثر بنایا جا سکے۔ اس کے ساتھ ہی چیف سیکرٹری پنجاب کی سربراہی میں 24 اگست 2018 کو ہونے والے اجلاس میں مختلف عملدرآمد کمیٹیاں تشکیل دی گئیں، جنہیں اب فوری طور پر فعال کرنے کی ہدایت دی گئی تھی نوٹیفکیشن 5 ستمبر 2018 کے تحت ضلعی عملدرآمد کمیٹیوں کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ ریلوے کی فراہم کردہ اراضی کی تفصیلات کو ریونیو ریکارڈ سے ہم آہنگ کریں اور ناجائز قابضین کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کریں۔عدالت عظمیٰ نے اپنے فیصلے میں واضح کیا تھا کہ پاکستان ریلوے قومی اہمیت کا ادارہ ہے، لہٰذاریلوے بورڈ کے اجلاس باقاعدگی سے منعقد کیے جائیں۔غیر فعال انجنوں (لوکوموٹوز) کو فوری بحال کیا جائےمالی وسائل کی فراہمی یقینی بنائی جائےریلوے اراضی کا مکمل ریکارڈ مرتب کر کے ریونیو میں شامل کیا جائےتجاوزات کے خلاف سخت کارروائی کی جائےمزید برآں، قومی احتساب بیورو (نیب) کو بھی ہدایت کی گئی تھی کہ وہ ریلوے میں سکریپ کنٹریکٹس، خریداریوں اور دیگر بے ضابطگیوں کی تحقیقات مکمل کر کے رپورٹ پیش کرے، تاہم اس حوالے سے بھی پیش رفت سوالیہ نشان بنی ہوئی ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر اس بار بھی احکامات پر عملدرآمد نہ کیا گیا تو اعلیٰ سطح پر بڑے پیمانے پر کارروائیاں متوقع تھی جس سے بیوروکریسی اور متعلقہ محکموں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی تھی مگر باثر قبضہ مافیہ وافسران بالا نے سپریم کورٹ اف پاکستان کے آرڈر کو ہوا میں اڑا دیا اور سو موٹو آرڈر پر تاحل کوئی بھی کارروائی عمل میں نہ لائی گئی جس سے ریلوے کو ذریعہ اراضی کی مد اور کمرشل اراضی کی مد میں کروڑوں روپے کا نقصان ماہانہ ہو رہا ہے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں