ملتان(وقائع نگار)کتے مار مہم بندےمار مہم بن گئی ۔اناڑی شوٹر کی غفلت سے ایک بچی سمیت چار افراد زخمی ہوگئے۔محکمہ لوکل گورنمنٹ ملتان کی آوارہ کتوں کے خلاف شروع کی گئی مہم ایک بار پھر انسانی جانوں کے لیے خطرہ بن گئی۔ شیر شاہ روڑ پر یونین کونسل نمبر 96 کے سیکرٹری ملک ابراہیم کے ہمراہ مہم پر گئے ایک شوٹر نے کتوں کو نشانہ بنانےکے بجائے شہریوں کو گولیاں مار دیں، جس کے نتیجے میں ایک بچی سمیت چار افراد زخمی ہو گئے۔واقعہ جمعہ کی شام شیر شاہ روڑ کے علاقے میں پیش آیا۔ محکمہ لوکل گورنمنٹ کی ٹیم آوارہ کتوں کی بھرمار کے خلاف مہم چلا رہی تھی۔ شوٹر نے کتوں پر فائرنگ کی مگر گولیاں نشانے سے چوک کر قریبی شہریوں پر جا لگیں۔ زخمی ہونے والوں میں ایک معصوم بچی بھی شامل ہے۔زخمیوں کو فوری طور پر رورل ہیلتھ سنٹر شیر شاہ منتقل کر دیا گیاجہاں انہیں ابتدائی طبی امداد دی گئی۔ پولیس کی ٹیم تھانہ مظفر آباد بھی موقع پر پہنچ گئی اور واقعے کی ابتدائی تفتیش شروع کر دی ہے۔شہریوں نے اس واقعے پر شدید غم و غصہ کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ آوارہ کتوں کا مسئلہ حل کرنے کے بجائے محکمہ کی لاپروائی سے انسانی جانوں کو خطرہ لاحق ہو رہا ہے۔ ایک شہری نے بتایاکتے مارنے کی مہم تو خیر ہے، مگر اناڑی شوٹرز کی وجہ سے اب شہریوں کی جان خطرے میں پڑ گئی ہے۔ حکومت کو اس مہم کو محفوظ طریقے سے چلانے کے لیے تربیت یافتہ اہلکار تعینات کرنے چاہئیں۔ ملتان سمیت جنوبی پنجاب کے کئی علاقوں میں آوارہ کتوں کی بھرمار ایک بڑا مسئلہ بن چکا ہے، جس سے شہری شدید پریشان ہیں۔ تاہم کتے مار مہم کے دوران بار بار ایسے واقعات سامنے آنے سے لوگوں میں محکمہ لوکل گورنمنٹ کے طریقہ کار پر سوالات اٹھنے لگے ہیں ۔واضح رہے کہ کچھ عرصہ قبل خانیوال کے علاقے اڈا گل آباد کے قریب کتا مار مہم کے دوران فائرنگ سے 8سالہ بچی سکینہ زخمی ہو گئی تھی۔







