رحیم یارخان(بیورو رپورٹ)ستھرا پنجاب پروگرام نے ٹھیکیداروں اور آپریشنل منیجر نے حکومت پنجاب کے ساتھ’’ستھری‘‘کردی،ملازمین کی تنخواہوں،کوڑا کرکٹ اٹھانے والی گاڑیوں،لوڈر رکشوں کی مینٹیننس،پٹرول،ڈیزل اور موبائل آئل کے اخراجات کی مد میں ہر ماہ حکومت پنجاب لاکھوں روپے کی بلوں کی وصولی کرنے کے بعد بھی صفائی نظام کو بہتر نہ بنایا،اندرون شہر میں گند مچ گیا،ملازمین کی تنخواہوں سے جبری کٹوتی،ہرماہ لاکھوں کا گوٹالہ ،حکومتی قوانین کو چیلنج کردیا گیا،ڈپٹی کمشنر،ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل،اسسٹنٹ کمشنر رحیم یارخان معاملات سے لاعلم۔تفصیل کے مطابق وزیر اعلیٰ پنجاب کا خواب صاف ستھرا پنجاب،رحیم یارخان تحصیل میں شرمندہ تعبیر نہ ہوسکا،بہاولپور ویسٹ مینجمنٹ کمپنی کے ٹھیکیداروں حاجی محمد سلیم،چوہدری ارشد گجر اور انکے کماؤ پتر آپریشنل منیجر چوہدری سمیع اللہ نے ستھرا پنجاب پروگرام کے نام پر پنجاب حکومت کے ساتھ”ستھری”کرنا شروع کر رکھی ہے۔ذرائع نے بتایا کہ ستھرا پنجاب پروگرام کے حکام کا دعویٰ ہے انہوں نے رحیم یارخان تحصیل میں صفائی ستھرائی کے نظام کر بہتر بنانے کیلئے تقریباً1300 کے قریب اہلکار بھرتی کر رکھے ہیں جن میں تقریباً300 سے زائد بلدیہ کے ملازم ہیں اورتقریباً900 سے زائد ملازمین پرائیویٹ سطح پر بھرتی کئے گئے ہیں اور شہر سے کوڑا کرکٹ اٹھانے کیلئے درجنوں ٹریکٹر ٹرالیاں،تقریبا100 سے زائد لوڈ رکشے اور منی گاڑیاں متعارف کروائی ہیں،ملازمین کی تنخواہوں،ٹرک،لوڈروں،ٹریکٹر ٹرالیوں،لوڈر رکشوں کی مینٹیننس،پٹرول ڈیزل اور موبائل آئل کی مد میں پنجاب حکومت کے خزانے سے لاکھوں روپے کے بل پاس کروائے جاتے ہیں،ذرائع کا کہنا ہے کہ سینکڑوں پرائیویٹ و سرکاری ملازمین کی فوج بھرتی ہونے کے باوجود اندرون شہر صفائی ستھرائی کا نظام مفلوج ہو چکا ہے،گلیاں محلے گندگی سے بھر چکے ہیں،تعفن سے مکینوں کا سانس لینا محال ہو چکا ہے،مچھروں اور مکھیوں کی بہتات ہو چکی ہے،شہری جلدی ،پیٹ اور ہیضہ جیسے امراض میں مبتلا ہو رہے ہیں،جبکہ ستھرا پنجاب پروگرام کے آپریشنل منیجر کی جانب سے ڈپٹی کمشنر،ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل،اسسٹنٹ کمشنر رحیم یارخان کو مسلسل”ماموں”بنایا جارہا ہے،مذکورہ افسران کو سرکاری رہائش گاہوں،فیملی پارکوں،کھیلوں کے گراؤنڈز،سرکاری دفاتروں کے اطراف،مین شاہی روڈ،سٹی پل سے ملحقہ بازاروں کا معائنہ کروا کے “سب اچھا ہے”کی رپورٹ دی جارہی ہے،جبکہ زمینی حقائق اسکے بر عکس ہیں،خانپور اڈا،پیر شہیداں روڈ،ٹبہ بابا غریب شاہ،مستان شاہ،نورے والی،اسلامیہ کالونی،جمال ٹاؤن،عبداللہ ٹاؤن،حسین آباد،گلشن عثمان،مڈ درباری،تھلی مہاتما روڈ تا چوک پٹھانستان،رحمن کالونی،دستگیر کالونی،شاہ فیصل کالونی،اوڈھ کالونی،کچی آبادی سمیت دیگر درجنوں علاقوں میں صفائی ستھرائی کا نظام نہ ہونے کے برابر ہیں۔جبکہ ٹھیکیداروں اور آپریشنل منیجر سمیع اللہ چوہدری کا دعویٰ ہے کہ شہر کو کوڑا کرکٹ سے پاک کردیا گیا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ ستھرا پنجاب پروگرام کی انتظامیہ پنجاب حکومت سے ملازمین کی تنخواہوں،ٹرانسپورٹ اخراجات کی مد میں لاکھوں روپے وصول کرتی ہے جس میں تقریباً50 فیصد ہی خرچ ہوتا ہے اور 50 فیصد گول کردیا جاتا ہے اسکے علاوہ شہر بھر سے اٹھایا جانے والا کوڑاکڑکٹ ڈمپ کرنے کی بجائے فروخت کیا جارہا ہے،ذرائع کا کہنا ہے کہ ستھرا پنجاب پروگرام کے ٹھیکیدار اور آپریشنل منیجر ایک ہاتھ سے پنجاب حکومت لوٹ رہے ہیں اور دوسرے ہاتھ سے کوڑا کرکٹ فروخت کرکے کروڑوں روپے کما رہے ہیں۔جبکہ ڈپٹی کمشنر ظہیر انور جپہ،ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر فاروق احمد اور اسسٹنٹ کمشنر عبدالحنان خان معاملات سے لاعلم ہیں جبکہ ستھرا پنجاب پروگرام کے حکام کا کہنا ہے کہ الزامات بے بنیاد ہے شہر بھر میں صفائی ستھرائی کا عمل جاری ہے کہیں کسی علاقے میں اگر ایک دن ورکر نہیں آتے تو دوسرے دن لازمی جاتے ہیں تاکہ صفائی ستھرائی کے معاملات کو بہتر بنایا جاسکے،ملازمین کی تنخواہوں کے حوالے سے پوچھے جانیوالے ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ تمام ملازمین کی تنخواہیں لیبر بائے لاز اور حکومتی قوانین کے مطابق جاری کی جاتی ہیں کسی سے کوئی کمیشن یا کٹوتی نہیں کی جاتی ۔







