ملتان( رپورٹ: غلام دستگیرچوہان) بحیرہ احمر اور بحر ہند کے درمیان پھیلی پتلی سی آبی گزرگاہ دنیا کی تاریخ، جغرافیہ اور سیاست کا ایک ایسا نقطہ جہاں براعظم ٹکراتے ہیں، تہذیبیں گزریں اور آج بھی عالمی طاقتوں کی نگاہیں جمی ہوئی ہیں۔ یہ ہے آبنائے باب المندب۔ عربی زبان میں جس کے معنی ہیں ’’غم کا دروازہ‘‘۔ نام تو گویا اس کے مقدر کا حال بتا رہا ہے۔جب آپ نقشے پر نظر دوڑاتے ہیں تو یہ آبنائے افریقہ کے مشرقی کنارے اور عرب کے جنوبی سرے کو جدا کرتی نظر آتی ہے۔ ایک طرف جبوتی اور اریٹیریا کا ساحل ہے تو دوسری طرف یمن کا کنارہ۔ کل لمبائی تقریباً 50 کلومیٹر، چوڑائی بس 26 سے 32 کلومیٹر۔ اتنی سی آبی گزرگاہ کا حادثاتی نام نہیں۔ صدیوں پہلے جب تجارتی قافلے بحری جہازوں میں سوار ہو کر مشرق سے مغرب کا سفر کرتے تھے تو یہ راستہ ان کے لیے سب سے خطرناک مڈھ سمجھا جاتا تھا۔ چٹانیں، تیز لہریں، پراسرار جزیرے۔۔۔ یہاں سے گزرنے والا ہر جہاز موت کے منہ میں اترنے کا حوصلہ رکھتا تھا۔ اسی لیے نام رکھا گیا’’باب المندب‘‘۔
یہ نام صرف موت کی داستان نہیں سناتا۔ ماہرینِ بشریات بتاتے ہیں کہ یہیں سے انسانیت نے دنیا میں قدم رکھا۔ تقریباً ڈیڑھ لاکھ سال پہلے جب جدید انسان (ہومو سیپینز) افریقہ میں ارتقا پذیر ہوا تو وہ یہاں سے گزر کر ایشیا، یورپ اور پھر پوری دنیا میں پھیل گیا۔ یہی وہ نقطہ ہے جہاں افریقہ ختم ہوتا ہے اور ایشیا شروع ہوتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں انسان نے پہلی بار اپنے وطن کو پیچھے چھوڑ کر نئی دنیا کی تلاش شروع کی۔1869 میں جب نہر سوئز کھلی تو باب المندب کی اہمیت میں غیر معمولی اضافہ ہوا۔ برطانوی ایسٹ انڈیا کمپنی نے پہلے ہی پریم جزیرے پر قبضہ کر رکھا تھا اور روشنی کا مینار تعمیر کیا تھا۔ یہ وہ وقت تھا جب باب المندب صرف ایک آبی گزرگاہ نہیں رہابلکہ برطانوی سلطنت کی زندگی کی رگ بن گیا۔آج دنیا کی تجارت کا 10 سے 12 فیصد حصہ اس آبنائے سے گزرتا ہے۔ 25 فیصد کنٹینر شپنگ یہاں سے گذرتی ہے۔ روزانہ 6 سے 7 ملین بیرل تیل اس راستے سے نکلتا ہے۔ یہ اعداد و شمار محض کاغذی نہیں۔ یہ اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ اگر یہ راستہ کسی وجہ سے بند ہو جائے تو کیا ہو گا۔آج باب المندب کے دونوں کناروں پر دنیا کی بڑی طاقتوں کے فوجی اڈے موجود ہیں۔ جبوتی میں امریکہ کا سب سے بڑا افریقی فوجی اڈہ ہے۔ فرانس کی فوجی تنصیبات ہیں اور 2017 میں چین نے بھی یہاں اپنا پہلا غیر ملکی فوجی اڈہ قائم کیا۔ یمن میں ایران کے حمایت یافتہ حوثی باغی گروہ اس آبنائے سے کچھ ہی دور ہے۔ یہ وہی گروہ ہے جو پہلے بھی بحیرہ احمر میں جہازوں پر حملے کر چکا ہے۔ یہاں پر ہونے والی ہلکی سی کشیدگی پوری دنیا کی تجارت کو تھما سکتی ہے۔اگر کسی وجہ سے باب المندب بند ہو جائے تو جہازوں کو افریقہ کا چکر لگانا پڑے گا۔ کیپ آف گڈ ہوپ سے گزرنے کا مطلب ہے 10 سے 15 دن کا اضافی سفر۔ اضافی ایندھن، اضافی لاگت اور عالمی تجارتی سلسلہ جہاں سے گزرتا ہے وہاں تاخیر۔ یہ کوئی معمولی حساب نہیں۔ جب دنیا کے ہر کونے میں پہنچنے والی اشیا کی قیمت کا تعین یہاں ہونے والی ہلکی سی حرکت سے ہوتا ہے تو باب المندب محض ایک آبی گزرگاہ نہیں رہ جاتا۔26مارچ 2026 کو ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ اس کے خلاف زمینی کارروائی کرتا ہے تو وہ باب المندب میں جہاز رانی کو نشانہ بنائے گا۔ ایرانی فوجی ذرائع کے مطابق ان کے پاس اس آبی گزرگاہ کو بند کرنے کی مکمل صلاحیت ہے۔ یہ وہی آبی گزرگاہ ہے جسے ڈیڑھ لاکھ سال پہلے انسان نے پار کیا تھا۔ وہی آبی گزرگاہ جسے صدیوں پہلے تجارتی قافلے ’’غم کا دروازہ‘‘ کہتے تھے۔ اب وہی ’’غم کا دروازہ‘‘پوری دنیا کے لیے ایک نئے بحران کی صورت لے سکتا ہے۔ماہرین کے مطابق باب المندب آج صرف ایک جغرافیائی نقطہ نہیں رہا۔ یہ عالمی طاقتوں کے تصادم کا چوک ہے۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں مشرق وسطیٰ کی تیل کی دولت، ایشیا کی صنعت، یورپ کی مارکیٹ اور امریکہ کی فوجی طاقت ایک دوسرے سے ٹکراتی ہیں۔ یہاں ایک چھوٹا سا واقعہ پوری دنیا کی معیشت کو ہلا کر رکھ سکتا ہے۔ یہاں ہونے والی ہلکی سی کشیدگی براعظموں میں مہنگائی کی لہر دوڑا سکتی ہے۔صدیوں پہلے جب تجارتی قافلے یہاں سے گزرتے تھے تو وہ چٹانوں اور طوفانوں سے ڈرتے تھے۔ آج جہاز بڑے ہیں، راستے محفوظ ہیں، لیکن خطرہ کم نہیں ہوا۔ بس خطرے کی شکل بدل گئی ہے۔ اب خطرہ سیاست سے ہے، طاقت کے استعمال سے ہے، عالمی کشیدگی سے ہے۔ نام پرانی ہے، لیکن حقیقت نہیں بدلی۔ باب المندب آج بھی غم کا دروازہ ہے۔ صرف اب اس کے غم پوری دنیا کے غم ہیں۔







