اقراری بولا گینگ کی دہشت، ڈیرہ تونسہ تک پہنچ گئی، پولیس اور سی سی ڈی بے بس

بہاولپور (کرائم سیل)قتل ،اقدام قتل اور پولیس مقابلے کے درجنوں مقدمات میں مطلوب ضلع کوٹ ادو میں دہشت کی علامت سمجھے جانے والے اشتہاری ملزم’’اقراری بولا ‘‘کی شہرت کوٹ ادو سے نکل کر ڈیرہ غازی خان اور تونسہ شریف تک پہنچ گئی ۔ کوٹ ادو پولیس اور سی سی ڈی اس خطرناک گینگ کو قانون کے کٹہرے میں لانے میں بے بس مجبور اور لاچار نظر آرہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سنگین جرائم میں ملوث اقراری بولا اور اس کے گینگ کے خوف سے متاثرین اپنے کئی عزیز واقارب کو اپنی آنکھوں کے سامنے بے گناہ مرتا دیکھ کر اپنے گھروں تک محصور ہو کر رہ گئے ہیں جبکہ کئی خاندان اپنے بچوں سمیت علاقہ چھوڑنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔ذرائع کے مطابق اقراری بولا گینگ کی جانب سے مبینہ طور پر آڑھتیوں اور کاروباری افراد سے بھتہ وصولی کا سلسلہ جاری ہے۔ بھتہ نہ دینے والوں کو سنگین نتائج کی دھمکیاں دی جاتی ہیں اور مزاحمت کرنے والوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ اسی سلسلے میں چند روز قبل آن لائن کاروبار کرنے والے سرمایہ کار محمد یوسف چانڈیہ سے بھتہ طلب کیا گیا۔انکار پر پہلے اس کے ڈبل ڈور ڈالے کو آگ لگا دی گئی اور بعد ازاں اس کے چچا ظفر اقبال کو فائرنگ کر کے معذور کر دیا گیا۔گینگ کی کارروائیاں یہیں نہیں رکیں بلکہ چند ماہ قبل یوسف چانڈیہ کے ملازم سید عاقب کو بے گناہ قتل کر دیا گیا۔ تازہ واقعے میں عید سے دو روز قبل مزدور امان اللہ عرف ببلی مشہوری کو کلاشنکوف کے چھ فائر مار کر شدید زخمی کر دیا گیا جو اس وقت نشتر ہسپتال ملتان میں زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا ہے۔ ڈاکٹروں کے مطابق شدید زخموں کے باعث اس کی دونوں ٹانگیں کاٹنے کا خدشہ ہے۔اہل علاقہ کا کہنا ہے کہ اقراری بولا اور اس کے ساتھی سرعام اسلحہ لے کر گھومتے ہیں اور تھانہ دائرہ دین پناہ کی حدود سمیت گرد و نواح کے علاقوں میں کھلے عام وارداتیں کر رہے ہیں۔ مقامی ذرائع کے مطابق احسان پور اور ملحقہ علاقوں میں اس کے درجنوں سہولت کار اور مخبر موجود ہیں جو اسے پولیس کی نقل و حرکت سے آگاہ کرتے رہتے ہیں۔دوسری جانب کوٹ ادو پولیس اور سی سی ڈی کی ٹیمیں تاحال مرکزی ملزم کو گرفتار کرنے میں ناکام دکھائی دیتی ہیں جس پر شہریوں میں شدید خوف و ہراس پایا جا رہا ہے۔ کچھ عرصہ قبل ضلع لیہ کے علاقے پہاڑ پور تھل میں سی سی ڈی کے ساتھ مقابلے کے دوران اہلکار زخمی ہونے کے باوجود بھی ملزمان قانون کی گرفت میں نہیں آ سکے۔اہل علاقہ اور متاثرین نے مطالبہ کیا ہے کہ دہشت کی علامت بننے والے اقراری بولا گینگ کے سرغنہ اور اس کے ساتھیوں کو فوری گرفتار کر کے سخت قانونی کارروائی کی جائے تاکہ علاقے میں امن و امان بحال ہو سکے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں