ویمن یونیورسٹی، کلثوم پراچہ، دیبا شہوار کا ایک اور کارنامہ، 21 ملازمین کی غیر قانونی ترقی

ملتان (سٹاف رپورٹر) خواتین یونیورسٹی ملتان ایک نئے انتظامی و مالیاتی تنازعے کی زد میں آ گئی ہے جہاں سابق وائس چانسلر ڈاکٹر کلثوم پراچہ اور عارضی رجسٹرار ڈاکٹر دیبا شہوار کی جانب سے اپنے اختیارات سے تجاوز کرتے ہوئے مبینہ طور پر 21 ملازمین کو غیر قانونی طور پر بی پی ایس 11 سے بی پی ایس 14 میں ترقی دینے کا انکشاف ہوا ہے۔ ذرائع کے مطابق ان اقدامات میں عارضی رجسٹرار ڈاکٹر دیبا شہوار نے بھی کلیدی کردار ادا کیا۔دستاویزی شواہد کے مطابق یہ پروموشنز ایسے وقت میں کی گئیں جب نہ صرف متعلقہ ملازمین کی ابتدائی تعیناتیاں تاحال قانونی طور پر توثیق (validation) کے عمل سے نہیں گزریں بلکہ یونیورسٹی کے اپنے سٹیچوٹس بھی ان تعیناتیوں کے وقت موجود نہیں تھے۔ یہ بھرتیاں یونیورسٹی آف پنجاب کے سٹیچوٹس کے تحت کی گئی تھیں، جن کی باقاعدہ منظوری اور قانونی حیثیت کا تعین ابھی تک زیر التوا ہے۔ یاد رہے کہ ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب کی جانب سے 5 مارچ 2024 کو جاری کردہ نوٹیفکیشن میں واضح طور پر ایک کمیٹی تشکیل دی گئی تھی جس کا مقصد 2013 سے 2021 کے درمیان ہونے والی تمام بھرتیوں کا جائزہ لے کر ان کی قانونی حیثیت اور قواعد و ضوابط کی تکمیل کو یقینی بنانا تھا۔ اس کمیٹی کو ہدایت کی گئی تھی کہ وہ 60 روز کے اندر اپنی رپورٹ پیش کرے تاہم اس عمل کی تکمیل سے قبل ہی ترقیوں کا اجرا کئی قانونی سوالات کو جنم دے رہا ہے۔ قانونی ماہرین کے مطابق ایک عارضی چارج پر تعینات وائس چانسلر کو مستقل نوعیت کے فیصلے، خصوصاً پروموشنز کرنے کا اختیار حاصل نہیں ہوتا۔ مزید برآںجب بنیادی تعیناتیاں ہی غیر تصدیق شدہ ہوں تو ان ملازمین کو ترقی دینا نہ صرف قواعد کی خلاف ورزی ہے بلکہ یہ انتظامی بدعنوانی کے زمرے میں بھی آ سکتا ہے۔ یونیورسٹی ملازمین اور ٹیچرز کا کہنا تھا کہ 43 ویں سینڈیکیٹ اجلاس میں بھی حقائق کو چھپا کر اور گمراہ کن معلومات فراہم کر کے سینڈیکیٹ جیسی باڈی کو ڈاکٹر کلثوم پراچہ نے بے توقیر کر دیا۔ اس عمل کو ادارہ جاتی دھوکہ دہی قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ اس معاملے میں ملوث ڈاکٹر کلثوم پراچہ کے خلاف شفاف انکوائری کر کے سخت کارروائی کی جائے۔ مزید برآں یونیورسٹی ملازمین کا کہنا ہے کہ یونیورسٹی انتظامیہ میں میرٹ کے بجائے پسند و ناپسند کی بنیاد پر فیصلے کیے جا رہے ہیں جو نہ صرف ادارے کی ساکھ کو متاثر کر رہے ہیں بلکہ دیگر ملازمین میں بے چینی اور احساسِ محرومی کو بھی بڑھا رہے ہیں۔ تعلیمی و سماجی حلقوں نے گورنر پنجاب اور ہائر ایجوکیشن کمیشن سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری نوٹس لیتے ہوئے سابقہ وائس چانسلر ڈاکٹر کلثوم پراچہ اور عارضی رجسٹرار ڈاکٹر دیبا شہوار کے خلاف اس معاملے کی اعلیٰ سطحی تحقیقات کروائیں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ آئندہ کسی بھی سرکاری تعلیمی ادارے میں قانون سے ہٹ کر ایسے فیصلے نہ کیے جا سکیں۔

شیئر کریں

:مزید خبریں