دو ہزار چبیس رینکنگ: پاکستانی جامعات عالمی معیار سے دور، گراف مزید نیچے، اربوں ضائع

ملتان (سٹاف رپورٹر) ہائر ایجوکیشن کمیشن آف پاکستان اور چاروں صوبوں کے ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹس پنجاب، خیبر پختونخوا، سندھ اور بلوچستان کی کارروائیاں اور بلند و بالا دعوے ایک بار پھر سوالیہ نشان بن گئے اور 2026 کی تازہ عالمی یونیورسٹی رینکنگ میں پاکستان کی جامعات مجموعی طور پر مزید تنزلی کا شکار ہو گئی ہیں۔ اربوں روپے کے فنڈز، اصلاحات کے دعوے اور تعلیمی انقلاب کے نعروں کے باوجود کارکردگی کا گراف نیچے کی جانب جانا ملک کے تعلیمی نظام کی سنگین ناکامی اور اعلیٰ تعلیم کے حوالے سے حکومتی عدم دلچسپی کو ظاہر کرتا ہے۔ رینکنگ کے حالیہ اعلان کے مطابق قائداعظم یونیورسٹی اسلام آباد جو گزشتہ سال 315 ویں نمبر پر تھی اب اپنا تعلیمی معیار مزید گرا کر 354 نمبر پر پہنچ چکی ہے۔ البتہ نیشنل یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی 371 رینکنگ پر موجود رہی۔ دوسری جانب چند جامعات میں بہتری ضرور دیکھی گئی جہاں یونیورسٹی آف پنجاب نے 570 سے بہتر ہو کر 542 ویں پوزیشن حاصل کی جبکہ یونیورسٹی آف ایگریکلچر فیصل آباد 681 سے 654 پر آگئی۔ اسی طرح کامسیٹس یونیورسٹی اسلام آباد نے بھی 711 سے بہتری کے ساتھ 664 ویں نمبر پر جگہ بنائی۔ تاہم یہ بہتری مجموعی تنزلی کے مقابلے میں نہایت محدود دکھائی دیتی ہے۔ حیران کن طور پر لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز کی رینکنگ 535 سے گر کر 555 ہو گئی جبکہ پاکستان انسٹیٹیوٹ آف انجینئرنگ اینڈ اپلائیڈ سائنسز بھی 691 سے تنزلی کا شکار ہو کر 721 پر آ گئی۔ مزید برآں یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی لاہور کی پوزیشن 751-760 سے گر کر 801-850 کے درمیان پہنچ گئی ہے۔ دیگر جامعات میں یونیورسٹی آف پشاور اور یونیورسٹی آف لاہور نے اپنی پوزیشن برقرار رکھی جبکہ آغا خان یونیورسٹی اور یونیورسٹی آف کراچی 1001-1200 کے درمیان موجود رہیں۔ بہاالدین زکریا یونیورسٹی ملتان بھی 1201-1400 کے درمیان جمود کا شکار رہی۔ تشویشناک امر یہ ہے کہ انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد مزید تنزلی کے بعد 1201-1400 میں جا پہنچی جبکہ اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور بھی مزید تنزلی کا شکار ہو کر 1401 پلس کی کیٹیگری میں چلی گئی ہے۔یہ اعداد و شمار نہ صرف اداروں بلکہ پالیسی سازوں کی کارکردگی پر بھی بڑا سوال اٹھا رہے ہیں۔ تعلیمی ماہرین کے مطابق یہ صورتحال اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ پالیسی سازی، میرٹ، ریسرچ کلچر اور فنڈز کے مؤثر استعمال میں شدید خامیاں موجود ہیں۔ مراعات اور سہولیات بڑھتی جا رہی ہیں جبکہ تعلیمی درجہ بندی کمتر ہوتی جا رہی ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اربوں روپے کے فنڈز کہاں خرچ ہو رہے ہیں؟ تعلیمی اصلاحات کے دعوے عملی شکل کیوں اختیار نہیں کر پا رہے؟ کیا تقرریاں اور انتظامی فیصلے میرٹ کے بجائے سفارش پر ہو رہے ہیں؟ اور سب سے اہم، کیا پاکستان کی جامعات عالمی معیار سے مزید دور ہوتی جا رہی ہیں؟ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو خدشہ ہے کہ آنے والے برسوں میں پاکستان کی اعلیٰ تعلیم عالمی سطح پر مزید غیر متعلق ہو کر رہ جائے گی اور یہ قومی مستقبل کے لیے ایک سنگین خطرہ بن سکتا ہے۔ کیا ملک بھر کی 300 یونیورسٹیوں میں صرف 20 یونیورسٹیاں اس رینکنگ کی دوڑ میں شامل ہیں؟ کیا باقی یونیورسٹیوں میں تعلیمی معیار کی کوئی نگرانی ہے بھی ہے یا صرف وہ یونیورسٹیاں ٹھیکے داری نظام پر چلائی جا رہی ہیں؟۔

شیئر کریں

:مزید خبریں