تازہ ترین

دو ہزار چوبیس میں 118 حادثات، 2025 ءمیں 97 ٹرین حادثات پیش آ چکے

بہاولپور(ڈسٹرکٹ رپورٹر )پاکستان ریلوے میں حادثات کا نہ رکنے والا سلسلہ جاری۔حالیہ شالیمار ایکسپریس اور تیزگام کے سنگین حادثات کے بعد ایک اور ہولناک واقعہ ٹل گیا۔ مورخہ 26 مارچ 2026 کو قراقرم ایکسپریس خانیوال اور عبدالحکیم کے درمیان چلتے ہوئے حادثے سے بال بال بچ گئی جس نے ریلوے کے حفاظتی نظام پر سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں۔پاکستان ریلوے کئی سالوں سے زبوں حالی کا شکار ہےاور حالیہ دور میں سیفٹی اور محفوظ سفر کے حوالے سے صورتحال انتہائی تشویشناک ہو چکی ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق 2024 میں 118 حادثات، 2025 میں 97 حادثات جبکہ رواں سال کے صرف تین ماہ میں 15 حادثات پیش آ چکے ہیں۔جن میں قیمتی انسانی جانیں ضائع اور متعدد افراد زخمی ہوئے۔ ان حادثات نے نہ صرف مسافروں کو نقصان پہنچایا بلکہ پہلے سے خستہ حال ریلوے کو کروڑوں روپے کے معاشی نقصان سے بھی دوچار کر دیا ہے۔حادثات کی بڑی وجوہات میں رولنگ سٹاک یعنی کوچز اور انجنز کی خستہ حالی، بروقت مرمت کا فقدان اور بوسیدہ ریلوے ٹریک شامل ہیںجو اپنی مدت پوری کر چکے ہیں مگر تاحال تبدیل نہیں کیے گئے۔مزید تشویشناک پہلو یہ ہے کہ شعبہ مکینیکل میں ہیڈ ٹرین ایگزامینرز برسوں سے ایک ہی جگہ تعینات ہو کر اجارہ داری قائم کیے ہوئے ہیں، جس کے باعث انسپکشن اور مینٹیننس کا نظام بری طرح متاثر ہو رہا ہے۔ یہی غفلت اس وقت کھل کر سامنے آئی جب تیزگام ٹرین کی روانگی سے محض ایک گھنٹہ قبل انسپیکشن کے باوجود کپلنگ ٹوٹ گئی اور لودھراں کے قریب ادم وان اسٹیشن پر ٹرین کا حصہ الٹ گیا۔اسی طرز کا واقعہ 26 مارچ کو قراقرم ایکسپریس کے ساتھ بھی پیش آیا، جہاں کپلنگ ٹوٹنے کے باوجود قدرت نے ہزاروں مسافروں کو محفوظ رکھا۔ حیران کن امر یہ ہے کہ دونوں ٹرینیں روانگی سے صرف 40 منٹ سے ایک گھنٹہ قبل فٹ قرار دی گئی تھیں، جس میں ملتان اور خانیوال کے ٹرین ایگزامنرز کا کردار سوالیہ نشان بن چکا ہے—تاہم تاحال ان کے خلاف کوئی کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی۔ریلوے میں حادثات کے بعد سیفٹی ڈائریکٹوریٹ اور ایف جی آئی آر کی جانب سے باقاعدہ انکوائریاں کی جاتی ہیں، مگر افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ سینکڑوں حادثات کے باوجود کسی بڑے افسر کو ذمہ دار نہیں ٹھہرایا گیا۔ اکثر اوقات نچلے درجے کے ملازمین کو قربانی کا بکرا بنا دیا جاتا ہے۔ذرائع کے مطابق ریلوے منسٹری اسلام آباد میں متعدد اہم انکوائری رپورٹس سرد خانے کی نذر ہو چکی ہیں، جن میں گریڈ 17 سے 20 تک کے افسران کو ذمہ دار قرار دیا گیا، مگر ان رپورٹس پر عملدرآمد کے بجائے انہیں دبا دیا گیا۔یاد رہے کہ لودھراں اسٹیشن کے خوفناک حادثے کی رپورٹ بھی کئی ماہ گزرنے کے باوجود منظر عام پر نہ آ سکی، جبکہ لاہور اور راولپنڈی کے درمیان نئی ریل کار کا افتتاحی سفر بھی حادثے کا شکار ہو گیا تھا—جس کی انکوائری رپورٹ میں اعلیٰ افسران کو ذمہ دار ٹھہرایا گیا، مگر وہ رپورٹ بھی غائب کر دی گئی۔سوال یہ ہے: کیا پاکستان ریلوے میں انسانی جانوں کی کوئی قیمت باقی رہ گئی ہے؟ یا حادثات صرف فائلوں میں دفن ہونے کے لیے ہوتے ہیں؟۔

شیئر کریں

:مزید خبریں