تازہ ترین

ایمرسن یونیورسٹی میں سپلی کا کاروبار، ذہین طلبہ ایک مضمون میں فیل، پرچہ فیس 10 ہزار

ملتان (سٹاف رپورٹر) ایمرسن یونیورسٹی ملتان کے شعبہ ایمرجنگ ٹیکنالوجیز کے بی ایس ڈیٹا سائنسز تیسرے سمسٹر کے نتائج نے طلبا، والدین اور تعلیمی حلقوں میں شدید تشویش اور غم و غصہ پیدا کر دیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق ’’انٹروڈکشن ٹو ڈیٹا سائنسز‘‘کے مضمون میں غیر معمولی طور پر 22 طلبا و طالبات کو سپلی (فیل) کر دیا گیاحالانکہ یہی طلبا دیگر تمام مضامین میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کر چکے تھے۔ نتائج کے تفصیلی جائزے سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ متعدد طلباء نے مختلف مضامین میں 3.5 سے 4.0 تک اعلیٰ جی پی اے حاصل کیا مگر حیران کن طور پر اسی ایک مضمون میں انہیں یا تو فیل کر دیا گیا یا انتہائی کم نمبر دے کر ان کا مجموعی سی جی پی اے بری طرح متاثر کیا گیا۔ طالبہ حنا شاہد جس نے کمپیوٹر آرگنائزیشن اینڈ اسمبلی لینگویج کی لیب میں 3.5 جی پی اے حاصل کیا کو اسی مضمون میں فیل قرار دینا کئی سوالات کو جنم دے رہا ہے۔ اسی طرح مناہل سحر جس نے سافٹ ویئر انجینئرنگ میں 4.0 جی پی اے حاصل کیا، کو ڈیٹا سائنسز میں صرف 2.1 جی پی اے دے دیا گیا، جبکہ حلیمہ سعدیہ جس نے سوشل اینڈ کمیونٹی انگیجمنٹ میں 3.7 جی پی اے حاصل کیااس مضمون میں ناکام قرار پائی۔اسی فہرست میں محمد عمر، احسن معاویہ، تابش سلیمان، علی حمزہ، محمد فرحان، تقی شاہ، طلحہ عزیز، عثمان محمد، محمد کہیان وقاص، محمد صائم، محمد فہد اور محمد احسن جیسے طلباء شامل ہیں، جنہوں نے دیگر مضامین میں بہترین کارکردگی دکھائی مگر صرف ایک ہی مضمون میں اجتماعی ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ متاثرہ طلباء کا مؤقف ہے کہ انہوں نے نہ صرف اپنی لیبز مکمل کیں بلکہ حاضری اور اسائنمنٹس کے تمام تقاضے بھی پورے کیے اس کے باوجود انہیں فیل کر دینا کسی بھی تعلیمی انصاف کے اصولوں کے منافی ہے۔ طلباء اور والدین نے الزام عائد کیا ہے کہ یہ اقدام مبینہ طور پر اضافی آمدن حاصل کرنے کے لیے کیا گیا ہے، کیونکہ سپلی کے ایک پرچے کی فیس 10 ہزار روپے تک پہنچ چکی ہے، جو پہلے ہی بڑھتی ہوئی سمسٹر فیسوں کے ساتھ ایک ناقابل برداشت بوجھ بن چکی ہے۔ ذرائع کے مطابق یونیورسٹی انتظامیہ ہر سیمسٹر میں تقریباً 40 فیصد تک فیسوں میں اضافہ کر رہی ہے، جبکہ دوسری جانب طلباء کو غیر متوقع طور پر فیل کر کے مزید مالی دباؤ میں ڈالا جا رہا ہے۔ طلباء کا کہنا ہے کہ جب وہ اس معاملے پر اساتذہ یا انتظامیہ سے رجوع کرتے ہیں تو انہیں ایک دفتر سے دوسرے دفتر بھیج دیا جاتا ہے اور کوئی بھی ذمہ داری لینے کو تیار نہیں ہوتا۔ مزید یہ کہ ڈیپارٹمنٹ ڈائریکٹر سے شکایات کے باوجود محض یقین دہانیوں پر اکتفا کیا جاتا ہے اور متعلقہ اساتذہ کے خلاف کسی قسم کی عملی کارروائی سامنے نہیں آئی۔ اس صورتحال نے ادارے کی شفافیت، تدریسی معیار اور امتحانی نظام پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ تعلیمی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ایک ہی مضمون میں اتنی بڑی تعداد میں طلباء فیل ہو جائیں تو یہ طلباء کی ناکامی نہیں بلکہ تدریسی نظام، امتحانی جانچ اور نگرانی کے فقدان کی واضح علامت ہوتی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ اس معاملے کی فوری، شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کروائی جائیں تاکہ اصل حقائق سامنے آ سکیں اور طلباء کے ساتھ ہونے والی ممکنہ ناانصافی کا ازالہ کیا جا سکے۔ یہاں سوالات یہ پیدا ہوتے ہیں کہ یوں ایک ہی مضمون میں 22 طلباء کو بغیر واضح جواز کے فیل کیا گیا؟کیا اتنی بڑی ناکامی کا ذمہ دار صرف اور صرف طلباء و طالبات کیوں؟ صرف اس مضمون میں ناکامی کا ذمہ دار ٹیچر نہیں؟ کیا ٹیچر نے اپنی زمہ داری ٹھیک طرح ادا کرتے ہوئے طلباء و طالبات کو بہتر انداز میں کیوں نہیں پڑھایا کہ صرف اسی مضمون میں اتنے طلباء و طالبات فیل ہو گئے؟ اتنی بڑی تعداد میں طلباء و طالبات کی ناکامی دراصل ٹیچر کی ناکامی ہے۔ اگر طلباء دیگر مضامین میں کامیاب تھے تو صرف ڈیٹا سائنسز میں ناکامی کی وجہ کیا ہے؟ کیا یہ تدریسی ناکامی ہے یا جانچ کے نظام میں کوئی خرابی؟ لیبز مکمل کرنے اور حاضری پوری ہونے کے باوجود طلباء کو کیوں فیل کیا گیا؟ کیا یہ اضافی فیسیں وصول کرنے کا ایک ذریعہ ہے؟ یونیورسٹی فیسوں میں مسلسل 40 فیصد اضافے کے باوجود طلباء پر مزید مالی بوجھ کیوں ڈالا جا رہا ہے؟ انتظامیہ اس معاملے پر واضح مؤقف دینے سے کیوں گریزاں ہے؟ متعلقہ اساتذہ کے خلاف کارروائی کیوں نہیں کی جا رہی؟ اور سب سے اہم سوال یہ کہ کیا یہ محض تعلیمی بے ضابطگی ہے یا طلباء کے ساتھ ایک منظم استحصال؟۔

شیئر کریں

:مزید خبریں