تیز گام حادثہ: ملتان میں چیکنگ لاپروائی، شعبہ مکینیکل نے انجینئرنگ پر ملبہ ڈال دیا، نئے انکشافات-تیز گام حادثہ: ملتان میں چیکنگ لاپروائی، شعبہ مکینیکل نے انجینئرنگ پر ملبہ ڈال دیا، نئے انکشافات-محکمہ صحت لودھراں میں کروڑ پتی کمپیوٹر آپریٹر، طاہر شاہ کا راج، منتھلیاں مقرر، گھر "مال خانہ"-محکمہ صحت لودھراں میں کروڑ پتی کمپیوٹر آپریٹر، طاہر شاہ کا راج، منتھلیاں مقرر، گھر "مال خانہ"-ایمرسن یونیورسٹی میں سپلی کا کاروبار، ذہین طلبہ ایک مضمون میں فیل، پرچہ فیس 10 ہزار-ایمرسن یونیورسٹی میں سپلی کا کاروبار، ذہین طلبہ ایک مضمون میں فیل، پرچہ فیس 10 ہزار-ویمن یونیورسٹی ملتان: ڈاکٹر پراچہ کی باقیات برقرار، دیبا شہوار کے وار، عملہ خوار، مریم نواز سے امید-ویمن یونیورسٹی ملتان: ڈاکٹر پراچہ کی باقیات برقرار، دیبا شہوار کے وار، عملہ خوار، مریم نواز سے امید-ویمن یونیورسٹی ملتان: عارضی رجسٹرار کی من مانی، امتحان شیڈول تبدیل، طالبات پریشان-ویمن یونیورسٹی ملتان: عارضی رجسٹرار کی من مانی، امتحان شیڈول تبدیل، طالبات پریشان

تازہ ترین

ویمن یونیورسٹی ملتان: ڈاکٹر پراچہ کی باقیات برقرار، دیبا شہوار کے وار، عملہ خوار، مریم نواز سے امید

ملتان (سٹاف رپورٹر) خواتین یونیورسٹی ملتان کی 3 تاریخ پیدائش رکھنے والی اور سیرت کانفرنس جیسی مقدس کانفرنس کے طلبا و طالبات کے پیسے ذاتی اکاؤنٹ میں منگوا کر ہڑپ کرنے والی سابق غیر قانونی وائس چانسلر ڈاکٹر کلثوم پراچہ نے اپنی تعینات کردہ عارضی رجسٹرار ڈاکٹر دیبا شہوار کے ذریعے پہلے پہل کانووکیشن کا اعلان کروایا جبکہ روزنامہ قوم اپنی ذمہ دارانہ رپورٹنگ کے ذریعے بارہا اس بات کی نشاندہی کر چکا تھا کہ ڈاکٹر کلثوم پراچہ چونکہ 16 مارچ کو اپنے عہدے کی مدت غیر قانونی ہونے کے باوجود پوری کر جائیں گی تو 28 مارچ کو کانووکیشن کا انعقاد ممکن نہ ہو گا۔ دوسری طرف عارضی رجسٹرار ڈاکٹر دیبا شہوار نے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی ہدایات کو بھی پس پشت ڈالتے ہوئے کانووکیشن کے انعقاد کا اعلان کیا جبکہ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف پنجاب لیول کا سالانہ میلہ کفایت شعاری مہم کے تحت ملتوی کر چکی تھیں مگر عارضی رجسٹرار ڈاکٹر دیبا شہوار وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی ہدایات کو پس پشت ڈالتے ہوئے صرف عارضی وائس چانسلر ڈاکٹر کلثوم پراچہ کی خوشنودی کو اہمیت دی اور تاحال ان کے ٹینیور کے اختتام کے بعد بھی ان سے ہدایات لے کر میڈیا کو یونیورسٹی کے تمام ملازمین کے خلاف خبریں جاری کرتے ہوئے بعد ازاں وہ تمام خبریں یونیورسٹی کے آفیشل فیس بک پیج پر اپلوڈ کروا کر یونیورسٹی خواتین ٹیچرز اور ملازمین کو کرپٹ ثابت کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ عارضی رجسٹرار ڈاکٹر دیبا شہوار کی جانب سے اس طرح کا طرز عمل یونیورسٹی کی خواتین ملازمین کے لیے نہایت اذیت ناک ہے اور اسی بابت تمام خواتین ٹیچرز اور ملازمین نے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف، گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر خان ، سیکرٹری ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب غلام فرید ، ایڈیشنل سیکرٹری زاہدہ اظہر سے اپیل کی ہے کہ ڈاکٹر کلثوم پراچہ کی باقیات جن میں ڈاکٹر دیبا شہوار سر فہرست ہیں ان کوعارضی عہدے سے برخاست کیا جائے۔ دوسری جانب وائس چانسلر ڈاکٹر کلثوم پراچہ کے جانے کے بعد خزانچی طاہرہ یونس کا بھی 3 ماہ کا ٹینیور گزشتہ روز پورا ہونے کے باعث اب وائس چانسلر کے ساتھ ساتھ خزانچی کا عہدہ بھی خالی ہے۔ جبکہ ڈاکٹر کلثوم پراچہ کو خوش کرنے کی خاطر 80 خواتین ٹیچرز اور سٹاف آفیسرز کو کرپٹ ثابت کرنے والی اور ان کی خبریں یونیورسٹی کے آفیشل فیس بک پیج پر اپلوڈ کروانے والی عارضی رجسٹرار ڈاکٹر دیبا شہوار بھی اگلے ماہ اپنی 3 ماہ کی عارضی مدت پوری کر جائیں گی۔ خواتین اساتذہ اور ملازمین کی جانب سے اعلیٰ حکام سے اپیل کی گئی ہے کہ اس معاملے کا فوری نوٹس لیا جائے اور تمام الزامات کی شفاف تحقیقات کر کے ذمہ داران کے خلاف کارروائی کی جائے تاکہ ادارے میں میرٹ، انصاف اور پیشہ ورانہ وقار کو بحال کیا جا سکے۔ تعلیمی حلقوں کے مطابق یہ معاملہ صرف ایک یونیورسٹی تک محدود نہیں بلکہ پورے نظام کے لیے ایک سنجیدہ سوال ہے؟ کیا اعلیٰ تعلیمی ادارے شخصیات کے زیر اثر چلیں گے یا قانون اور ضابطے بالادست ہوں گے؟ اس بارے میں اپریل میں ٹینیور پورا کرنے والی عارضی رجسٹرار ڈاکٹر دیبا شہوار نے کوئی جواب نہ دیا۔

ایمرسن یونیورسٹی میں سپلی کا کاروبار، ذہین طلبہ ایک مضمون میں فیل، پرچہ فیس 10 ہزار

ملتان (سٹاف رپورٹر) خواتین یونیورسٹی ملتان ایک نئے انتظامی بحران کا شکار ہو گئی ہے جہاں عارضی رجسٹرار ڈاکٹر دیبا شہوار نے مڈ ٹرم امتحانات کا شیڈول اپنی صوابدید پر تبدیل کر کے نہ صرف اکیڈمک قواعد و ضوابط کی کھلم کھلا خلاف ورزی کی بلکہ تعلیمی نظام کی شفافیت اور ساکھ پر بھی سنگین سوالیہ نشان کھڑا کر دیا ہے۔ عارضی رجسٹرار ڈاکٹر دیبا شہوار کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں گورنمنٹ آف پنجاب کے نوٹیفکیشن کا حوالہ دیا گیا مگر اس نوٹیفکیشن میں امتحانات کی تبدیلی کا ذکر موجود نہیں تھا۔ یونیورسٹی ذرائع کے مطابق موجودہ اکیڈمک کیلنڈر سنڈیکیٹ اور اکیڈمک کونسل سے باقاعدہ منظور شدہ تھا جس میں کسی بھی قسم کی تبدیلی صرف مجاز فورمز کی منظوری کے بعد ممکن ہے۔ تاہم عارضی رجسٹرار ڈاکٹر دیبا شہوار نے مبینہ طور پر اپنے ذاتی مفادات اور مصروفیات کی بنیاد پر تمام امتحانات کی تاریخیں آگے کر دیں، خواتین ٹیچرز اور ملازمین کے مطابق یہ اقدام سابقہ غیر قانونی وائس چانسلر ڈاکٹر کلثوم پراچہ کے اثر و رسوخ کے تحت کیا گیا جن پر ماضی میں یونیورسٹی فنڈز، خاص طور پر سیرت کانفرنس کے فنڈز کے مبینہ ناجائز استعمال کے شواہد موجود ہیں۔ خواتین اساتذہ کا کہنا ہے کہ اس طرح کے اقدامات ادارے کی ساکھ کے لیے انتہائی نقصان دہ ہیں اور یہ واضح طور پر اختیارات سے تجاوز اور انتظامی نااہلی کی نشاندہی کرتے ہیں۔ حکومتِ پنجاب کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن میں تمام اداروں کو آن لائن تدریس پر منتقل کرنے کی ہدایت موجود تھی مگر امتحانات کو پہلے سے طے شدہ شیڈول کے مطابق منعقد کرنے کی سخت ہدایت بھی موجود تھی۔ اس کے باوجود عارضی رجسٹرار نے اپنی مرضی سے مڈ ٹرم امتحانات کی تاریخیں آگے کر دی جبکہ نوٹیفکیشن میں انگریزی کے ناقص استعمال اور مبہم جملوں نے معاملے کو مزید غیر شفاف بنا دیا ہے۔ طالبات نے اس اقدام پر شدید ردعمل ظاہر کیا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ امتحانات کو فوری طور پر اصل شیڈول کے مطابق بحال کیا جائے اور عارضی رجسٹرار ڈاکٹر دیبا شہوار سمیت ذمہ داران کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے۔ اساتذہ تنظیموں نے اس اقدام کوتعلیمی قتل قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ اگر فوری اصلاح نہ کی گئی تو احتجاج کا دائرہ وسیع کیا جائے گا۔ تعلیمی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس قسم کے غیر ذمہ دارانہ فیصلے نہ صرف یونیورسٹی کی ساکھ کو نقصان پہنچاتے ہیں بلکہ طلبہ کے تعلیمی مستقبل کو بھی خطرے میں ڈال دیتے ہیں۔ ماہرین نے سیکرٹری ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ، ایڈیشنل سیکرٹری زاہدہ اظہر اور حکومتِ پنجاب سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری نوٹس لے کر شفاف تحقیقات کروائی جائیں اور اس طرح کے اختیارات کے ناجائز استعمال کو روکنے کے لیے مضبوط اقدامات کیے جائیں۔ اس صورتحال نے کئی سوالات کو جنم دے دیا ہے کہ کیا ایک عارضی رجسٹرار کو اتنے بڑے تعلیمی فیصلے کرنے کا اختیار حاصل ہے؟کیا سرکاری احکامات کی غلط تشریح جان بوجھ کر کی گئی؟ اور آخر کب تک تعلیمی ادارے ذاتی مفادات اور ماضی کے غیر قانونی اثر و رسوخ کی بھینٹ چڑھتے رہیں گے؟ یہ معاملہ انتظامی نااہلی، اختیارات سے تجاوز اور تعلیمی سسٹم کی کمزوریوں کو بے نقاب کر رہا ہے، جس پر فوری توجہ ناگزیر ہے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں