بہاولپور کے تھانوں میں ٹاؤٹ مافیا راج، آرپی او نے ایکشن لے لیا، ڈی پی او کا امتحان

بہاولپور (کرائم سیل)روزنامہ ’’قوم ‘‘میں ضلع بہاولپور کے مختلف تھانوں میں رضاکاروں اور ٹاؤٹوں کی اجارہ داری کی مسلسل نشاندہی ،تھانہ مسافر خانہ چوکی نورپور سے رضاکار کی نشاندہی پر ریڈ کے دوران شہری کی ہلاکت اور سٹی سرکل میں رضاکاروں کے منظم گروہوں کی تفتیشی افسران کے ساتھ رابطے اور مک مکا ثابت ہونے کے باوجود ڈی پی او بہاولپور کسی ایس ایچ او کے خلاف کسی قسم کی کوئی بھی کارروائی نہ کر سکے۔ماتحت عملے کو معطل اور چارج شیٹ کر کے ڈی پی او آفس کی وہی مخصوص لابی جو پیسے لیکر بغیر میرٹ کے ایس ایچ او لگوانے کی شہرت رکھتی ہے معاملے کو دبانے کی کوششوں میں مصروف رہی۔یہی وجہ ہے کہ بہاولپور کے مختلف تھانوں بغداد الجدید میں امری اور چھیما، سرکل احمد پور شرقیہ کے تھانہ چنی گوٹھ میں فہیم عباسی عرف بلا اور طاہر جگا، اوچشریف میں کھڑتل شاہ اور ہارون میاں ،سٹی احمد پور میں منیر عرف منی تھانہ صدر بہاولپور میں نیدو وغیرہ رضاکاروں کے خلاف کسی قسم کی کوئی کارروائی نہ ہوئی۔ ضلع کے کئی ایس ایچ اوز کی تبدیلی کے امکانات بھی زیر غور ہیںجبکہ آر پی او بہاولپور نے ایس ایچ او مسافر خانہ سجاد احمد سندھو کو کلوز ٹو لائن کر دیا جو کہ ڈی پی او آفس کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔یاد رہے کہ روزنامہ قوم نے مسلسل یہ خبریں شائع کیں کہ بہاولپور ضلع کے مختلف تھانوں میں ٹاؤٹوں کا راج ہے، پرائیویٹ رضاکار ہر کام کے لیے سائلین سے مک مکا کر رہے ہیں۔ تین فروری کے شمار ےمیں خبر شائع کی گئی کہ بہاولپور میں اصلاحات فیل ہر کام میں رضاکار حاوی، ایف آئی آر سے انصاف تک مک مکا اور ٹاؤٹوں کی تھانوں میں آزادانہ آمد و رفت اور مبینہ وی آئی پی پروٹوکول کی فراہمی نے سائلین کا جینا دو بھر کر دیا۔بدھ چار فروری کو خبر شائع کی گئی کہ احمد پورکے مختلف تھانوں میں ٹاؤٹ مافیا بلی،منی، کھڑتل اور علی سب سے آگے، متعلقہ ایس ایچ اوز لاعلم یاحصہ بقدر جثہ لے کر خاموش ہیں۔ آٹھ فروری کو خبر شائع کی گئی کہ تھانہ نوشہرہ جدید میں پرائیویٹ جرائم پیشہ افراد سرگرم تھے، اسماعیل جوئیہ وغیرہ نے تھانے میں ہر جائز اور ناجائز کام کے لیے ریٹ مقرر کر رکھے ہیں۔مگر ان تمام تر تفصیلات کے باوجود، ڈی پی او آفس میں تعینات کرپٹ لابی جو مختلف ایس ایچ اوز کو بغیر میرٹ کے پیسے لے کر تعینات کرواتی ہے اور جس کے بارے میں مختلف حلقوں میں یہ باتیں زد عام رہی ہیں، نے ان خبروں پر کسی قسم کی کوئی کارروائی نہ ہونے دی۔ جس کے بعد عید کے روز تھانہ مسافر خانہ کی چوکی نورپور کی حدود میں پرائیویٹ رضاکار ثاقب کی نشاندہی پر ایک ریڈ کے دوران مقامی شہری کی ہلاکت اور اسی طرح تھانہ بغداد الجدید میں وسیم ،حمید اور مجید نامی رضاکار کی مختلف تفتیشی افسران کے ساتھ رابطہ اور افسران کے لیے مک مکا کے تمام تر نشاندہی ثبوتوں کے ساتھ سامنے آنے کے بعد اس کرپٹ لابی نے گزشتہ سے پیوستہ روز ہونے والے ڈی پی او بہاولپور کی ایس ایچ او کے ساتھ میٹنگ میں بھی ایس ایچ اوز کا تحفظ کیا اور چند تفتیشی افسران، محرران کو معطل کروا کر تمام تر معاملات پر پردہ ڈالنے کی کوشش کی مگر گزشتہ روز آر پی او بہاولپور نے ایس ایچ او مسافر خانہ سجاد احمد سندھو کو کلوز ٹو لائن کر دیا جس سے اس کرپٹ لابی کے تمام تر خوابوں پر پانی پھیر دیا گیا۔ بہاولپور کے شہری، سیاسی و سماجی حلقے ان تمام تر صورتحال پر سنجیدہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا ضلع بہاولپور کی پولیس پرائیویٹ رضاکاروں کے علاوہ کسی قسم کا کوئی کام نہیں کر سکتی؟ جب ڈی پی او بہاولپور کو تمام تر ثبوت مل گئے تھےتو اس کے خلاف کسی قسم کی کوئی تادیبی کارروائی کیوں نہیں کی گئی؟کیونکہ عام طور پر تاثر یہی ہے کہ اگر تھانے میں کوئی موٹر سائیکل بھی پکڑی جاتی ہے تو ایس ایچ او کی مرضی کے بغیر نہیں چھوڑا جاتا اور اس طریقے سے اس بڑے پیمانے پر پرائیویٹ رضاکاروں اور ٹائوٹوں کی تھانوں میں مداخلت ایس ایچ او سے کیسے ڈھکی چھپی رہ سکتی ہے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں