پٹرول کی قیمتیں آسمان پر، شہری بسوں، رکشوں پر آگئے، گاڑیاں فروخت کیلئے کھڑی کر دیں

ملتان (غلام دستگیرچوہان سے)پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ریکارڈ اضافے کے بعد شہریوں کی زندگی اجیرن ہو کر رہ گئی ہے۔ ہائی آکٹین پٹرول کی قیمت ساڑھے پانچ سو روپے فی لٹر ہونے کے بعد شہری اپنی گاڑیاں استعمال کرنے سے قاصر ہو گئے ہیں۔ لاکھوں روپے مالیت کی قیمتی گاڑیاں اب گھروں میں کھڑی ہیں جبکہ بہت سے شہریوں نے اپنی گاڑیاں فروخت کے لیے شورومز میں لگا دی ہیں۔ذرائع کے مطابق پٹرول میں مزید 55 روپے اور ڈیزل میں 75 روپے فی لٹر اضافے کی تجویز زیر غور ہے جس کے بعدہائی آکٹین پٹرول کی قیمت600 روپے سے تجاوز کر جائے گی۔ اس خبر نے شہریوں کے ہوش اڑا دیئے ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ پٹرول کی اتنی زیادہ قیمت پر عام آدمی کے لیے گاڑی چلانا ممکن نہیں رہا۔ملتان شہر کے مختلف علاقوں میں واقع شورومز اور کار ڈیلرز کے پاس قیمتی گاڑیوں کی بھرمار دیکھنے میں آ رہی ہے۔ شہریوں نے اپنی مہنگی گاڑیاں فروخت کے لیے لگا دی ہیں۔ ایک شوروم کے مالک نے بتایا کہ پچھلے کچھ دنوں میں گاڑیاں فروخت کرنے والوں کی تعداد میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ لوگ مہنگے پٹرول کے باعث گاڑی چلانے سے قاصر ہیں اور انہیں فروخت کر رہے ہیں۔شہری محمد عارف نے بتایا کہ میں نے اپنی گاڑی فروخت کے لیے لگا دی ہے۔ ہائی آکٹین پٹرول ساڑھے پانچ سو روپے لٹر ہو گیا ہے۔ ایک ماہ میں پٹرول پر ہی میری 50 سے 60 ہزار روپے کی اضافی لاگت آ رہی تھی۔ میرے لیے گاڑی رکھنا ممکن نہیں رہا۔شہر کی بیشتر رہائش گاہوں کے باہر گاڑیاں کھڑی نظر آ رہی ہیں۔ بہت سےشہریوں نے پٹرول کی مہنگی قیمتوں کے باعث گاڑیاں استعمال کرنا تقریباً بند کر دیاہے۔ ایک شہری نے بتایا کہ پٹرول کی قیمت اتنی زیادہ ہو گئی ہے کہ اب گاڑی چلانا ایک عیش بن گیا ہے۔ ہم نے گاڑی گھر میں کھڑی کر دی ہے اور اب پبلک ٹرانسپورٹ استعمال کر رہے ہیں۔تیل کی مہنگی قیمتوں کے باعث شہریوں کا رخ پبلک ٹرانسپورٹ کی طرف بڑھ گیا ہے۔ میٹرو بس، ویڈا بس اور دیگر پبلک ٹرانسپورٹ میں مسافروں کی تعداد میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ مسافروں کا کہنا ہے کہ پبلک ٹرانسپورٹ ہی اب سفر کا واحد ذریعہ رہ گیا ہے۔ایک مسافر محمدفاروق نے بتایا کہ پہلے میں اپنی گاڑی سے آفس جاتا تھا۔ اب پٹرول اتنا مہنگا ہو گیا ہے کہ گاڑی چلانا میرے بس سے باہر ہے۔ اب میں میٹرو بس سے سفر کرتا ہوں۔ پبلک ٹرانسپورٹ پر بہت رش ہوتا ہے لیکہ مجبور ہیں۔پبلک ٹرانسپورٹ کے علاوہ چنگچی رکشوں پر بھی مسافروں کی بھیڑ بڑھ گئی ہے۔ رکشہ ڈرائیورز کے مطابق ان کے پاس مسافروں کی تعداد میں 50 فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا ہے۔ ایک رکشہ ڈرائیور نے بتایا کہ پہلے لوگ اپنی گاڑیوں میں سفر کرتے تھے۔ اب پٹرول مہنگا ہو گیا ہے تو لوگ رکشوں کا رخ کر رہے ہیں۔ ہماری روزی بھی بہتر ہو گئی ہے لیکن لوگوں کی مجبوری دیکھ کر افسوس بھی ہوتا ہے۔ماہرین معاشیات کا کہنا ہے کہ پٹرول کی قیمتوں میں اس قدر اضافے سے نہ صرف نقل و حمل متاثر ہوئی ہے بلکہ اشیائے ضروریہ کی قیمتیں بھی آسمان کو چھونے لگی ہیں۔ اشیاء خورد و نوش، سبزیاں، پھل اور دیگر بنیادی اشیاء کی قیمتوں میں 50 فیصد سے زائد اضافہ ہو چکا ہے۔ ماہرین توانائی کے مطابق پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا انحصار عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں اور ڈالر کی قدر پر ہوتا ہے۔ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافے اور پاکستانی روپے کی قدر میں کمی کے باعث مقامی مارکیٹ میں قیمتیں بڑھ رہی ہیں۔ تاہم حکومت پر زور دیا جا رہا ہے کہ وہ عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے ٹیکسز میں کمی کرے۔حکومتی ترجمان کا کہنا ہے کہ پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ عالمی منڈی کے تقاضوں کے مطابق کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے مختلف اقدامات کر رہی ہے۔ تاہم شہریوں کا کہنا ہے کہ اب تک انہیں کوئی ٹھوس ریلیف نہیں ملا۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہوا تو پاکستان میں بھی پٹرول کی قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں۔ ایسی صورت میں عوام کی مشکلات میں مزید اضافہ ہو گا اور زیادہ سے زیادہ لوگ اپنی گاڑیاں فروخت کرنے پر مجبور ہو جائیں گے۔شہریوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں فوری کمی کی جائے تاکہ عوام کو ریلیف مل سکے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر قیمتوں میں کمی نہ کی گئی تو مزید لوگ اپنی گاڑیاں فروخت کرنے پر مجبور ہو جائیں گے اور پبلک ٹرانسپورٹ پر دباؤ مزید بڑھ جائے گا۔ ادھر پٹرول ڈیلرز نے بھی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ قیمتوں میں اضافے سے پہلے انہیں اعتماد میں لیا جائے اور مارجن میں بھی اضافہ کیا جائے۔ ڈیلرز کا کہنا ہے کہ مہنگائی کے اس دور میں ان کا مارجن بہت کم ہے جس سے ان کا کاروبار مشکل ہو گیا ہے۔ ٹرانسپورٹرز نے بھی حکومت کو خبردار کیا ہے کہ اگر ڈیزل کی قیمت میں مزید اضافہ کیا گیا تو وہ کرایوں میں اضافہ کرنے پر مجبور ہوں گے۔ اس سے عام آدمی پر مزید بوجھ پڑے گا۔حکومت نے ابھی تک ان خدشات پر کوئی باضابطہ ردعمل جاری نہیں کیا ہے۔ تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ عالمی منڈی کے تقاضوں کے پیش نظر قیمتوں میں اضافہ ناگزیر ہے۔شہریوں کی مشکلات کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ شہر کے بیشتر شورومز پر فروخت کے لیے رکھی گئی گاڑیوں کی تعداد میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے۔ ایک شوروم مالک نے بتایا کہ پچھلے ایک ہفتے میں لوگ اپنی گاڑیاں بیچنے کے لیے بہت زیادہ آ رہے ہیں۔ زیادہ تر لوگ مہنگے پٹرول کی وجہ سے گاڑیاں نہیں چلا سکتے۔یہ صورتحال اس امر کی عکاس ہے کہ مہنگائی کی موجودہ لہر نے عوام کی زندگیاں اجیرن کر دی ہیں اور اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو یہ بحران مزید سنگین شکل اختیار کر سکتا ہے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں