ملتان،لودھراں(قوم نیوز،وقائع نگار، بیورورپورٹ ،لیڈی رپورٹر) لودھراں کےقریب تیز گام ایکسپریس ٹرین حادثے کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ سامنے آگئی، ٹرین حادثے کی رپورٹ میں کوچ ڈی ریل ہونے کی وجوہات پر حکام کے درمیان اختلافِ رائے بھی پائے گئے۔منگل کی رات پیش آنے والے ٹرین حادثے کے حوالے سے جاری کردہ جوائنٹ سرٹیفکیٹ اور اس پر آنے والے اختلافی نوٹ نے حادثے کی وجوہات کو متنازعہ بنا دیا ہے۔جوائنٹ سرٹیفکیٹ کے مطابق ٹرین نمبر 8-DN (جس کو انجن نمبر 6315 کھینچ رہا تھا) حادثے کا شکار ہوئی۔ ٹرین رات 20:50 بجے روانہ ہوئی تھی اور 20:53 بجے اے ڈی ڈبلیو(ADW) سٹیشن سے گزرتے ہوئے اس کی چھٹی (6th) کوچ نمبر 11152-2 پٹری سے اتر گئی۔ٹرین کا ٹرالی حصہ پٹری سے اترنے کے بعد تقریباً 1.33 کلومیٹر تک گھسٹتا رہا۔اس دوران ٹرین ڈاؤن سائیڈ پلیٹ فارم سے ٹکرائی،اس حادثے کے نتیجے میں پیچھے آنے والی مزید 7 کوچز بھی پٹری سے اتر گئیںجس سے ریلوے ٹریک کو شدید نقصان پہنچا۔حادثے کی وجوہات میں متضاد بیانات سامنے آئے، کمیٹی کی ابتدائی رپورٹ جوائنٹ سرٹیفکیٹ میں حادثے کی بنیادی وجہ مکینیکل نقص قرار دی گئی ہے۔رپورٹ کے مطابق چھٹی کوچ کی اگلی ٹرالی میں لوز کپلنگ (Loose Coupling) کے اثرات کی وجہ سے حادثہ پیش آیا۔ جبکہ اختلافی نوٹ میں دوسری جانب ایک اعلیٰ افسر نے اس رپورٹ سے مکمل اختلاف کیا ہے۔اپنے تحریری نوٹ میں انہوں نے موقف اختیار کیا ہے کہ مذکورہ کوچ مکمل طور پر فٹ تھی اور اس کے پہیوں کا فاصلہ (Wheel Gauge) اور پروفائل مقررہ حدود کے اندر تھا۔یہ کوچ مسلسل اسی ٹرین میں چل رہی تھی اور اس کی پہلے کوئی شکایت موصول نہیں ہوئی،افسر کے مطابق حادثے کو صرف کوچ کی خرابی پر نہیں ڈالا جا سکتا بلکہ ڈرائیور کی جانب سے آپریشنل غلطی کے امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ نقصانات کا تخمینہ لگایا جا رہا ہےتاہم تکنیکی ماہرین کے درمیان حادثے کی اصل وجہ (مکینیکل خرابی یا انسانی غلطی) پر تاحال اتفاق نہیں ہو سکا ہے۔دوسری جانب ریلوے حکام نے کہا کہ 18گھنٹوں کے بعد ریلوےٹریک بحالی کا آپریشن مکمل کرلیا گیا، اسسٹنٹ اسٹیشن ماسٹر آدم واہن محمد اشفاق نے کہا کہ اپ کے بعد ڈائون ٹریک بھی بحال کردیا گیا، مختلف ریلوے سٹیشنز پر کھڑی ٹرینوں کو ڈائون ٹریک سےکراچی روانہ کردیا گیا ہے، ڈائون ٹریک سے کراچی روانہ ہونے والی ٹرینوں میں کراچی ایکسپریس، زکریا ایکسپریس ،بزنس اور قراقرم ایکسپریس شامل ہیں۔راولپنڈی سےکراچی جانے والی تیز گام گزشتہ سےپیوستہ رات لودھراں میں حادثے کا شکار ہوئی تھی، حادثے میں تیزگام کی 4 بوگیاں الٹنے سے 25مسافر زخمی ہوگئے تھے، اپ اور ڈائون دونوں ٹریک کلیئر کرکے ٹرین آپریشن بحال کردیا گیا ہے۔حادثے کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر لودھراں محمد اشرف نے بتایا کہ ٹوٹل 25 مسافر زخمی ہوئے تھے جن میں سے 8 زخمیوں کو ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال لودھراں شفٹ کیا گیا جبکہ دیگر معمولی زخمیوں کو موقع پر ہی طبی امداد دے کر فارغ کر دیا گیا ہے۔سٹیشن ماسٹر آدم واہن احد حسین کے مطابق تیزگام کوانجن کے ساتھ 5 بوگیوں سمیت کراچی روانہ کردیا گیا،تیز گام کی 4 بوگیاں الٹی ہیں۔ 4 بوگیاں ڈی ریل ہوئی ہیں۔ تیزگام کی الٹ جانے والی بوگیوں میں ایک بزنس کلاس ،ڈائننگ کار اور دو اکانومی کلاس کی بوگیاں شامل ہیں۔ڈپٹی ایم ایس ڈی ایچ کیو ہسپتال ڈاکٹر علی حسن رانا کے مطابق ٹرین حادثہ میں ریسکیو1122کے ذریعے ڈی ایچ کیو ہسپتال لائے گئے۔معمولی زخمیوں خالد ولد احمد،عبدالمجید ولد اسحاق،عابد ٹرین گارڈ، جمیل ولد محمد سیف، عزیزالرحمان،سرداد دلہادی کو طبی امداد کی دینے کے بعد ہسپتال سے ڈسچارج کر دیا گیا ہے۔ عباد علی ولد نواب علی اور فرزانہ ہیڈ ودیگر انجری کے باعث ہسپتال میں زیر علاج ہیں۔حادثے کی اطلاع ملتے ہی نشتر ہسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر راؤ امجد علی خاں نے شعبہ حادثات (ایمرجنسی) میں فوری الرٹ جاری کر دیا۔ ترجمان نشتر ہسپتال کے مطابق ایم ایس نے ڈائریکٹر ایمرجنسی ڈاکٹر زاہد احمد سے رابطہ کیا اور شعبہ حادثات میں تمام تیاریوں کا جائزہ لیا۔







