ملتان (سٹاف رپورٹر) یونیورسٹی آف لیہ کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر زبیر ابو بکر کی جانب سے اختیارات کے ناجائز استعمال و میرٹ سے ہٹ کر بھرتیاں کرنےو پہلے سے منتخب شدہ افراد کو تعینات کرنے اور صرف کورم پورا کرنے کے لیے دور دراز علاقوں سے امیدواران کو بلا کر صرف ذلیل کرنے کے انکشافات سامنے آ گئے ہیں۔حالیہ بھرتیوں کے عمل نے شفافیت، میرٹ اور انصاف کے تمام دعوؤں کو مشکوک بنا دیا ہے۔ کچھ روز قبل بھی یونیورسٹی کی سینڈیکیٹ کے ایک ممبر و سابق ایم پی اے مہر اعجاز اچلانہ غیر قانونی تعیناتیوں کے حوالے سے ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب کو خط لکھ چکے ہیں۔ ذرائع کے مطابق سلیکشن کے پورے عمل کو اس قدر خفیہ رکھا گیا کہ امیدواروں کو نہ تو بروقت آگاہ کیا گیا اور نہ ہی کسی باقاعدہ طریقہ کار کی پیروی کی گئی۔ انکشاف ہوا ہے کہ امیدواروں کو انٹرویو لیٹرز بھی انتہائی تاخیر سے جاری کیے گئے۔ بعض امیدواروں کو تو صرف تین دن قبل معلوم ہوا کہ لیٹرز جاری ہو چکے ہیںجبکہ کئی امیدواروں کو سرے سے اطلاع ہی نہیں دی گئی اور محض ویب سائٹ پر ایک فہرست آویزاں کر دی گئی جس میں انہیں’’غیر منتخب‘‘ظاہر کر دیا گیا۔ اس غیر پیشہ ورانہ رویے نے امیدواروں میں شدید بے چینی پیدا کی۔ مزید حیران کن بات یہ سامنے آئی کہ ایک امیدوار کو رجسٹرار آفس کی جانب سے یہ اعتراض لگا کر مسترد کیا گیا کہ اس نے فیس واؤچر جمع نہیں کروایا حالانکہ متعلقہ امیدوار کے مطابق اس نے نہ صرف مکمل فیس جمع کروائی بلکہ اس کے ثبوت کے طور پر ای میل اور واٹس ایپ پر رسیدیں بھی فراہم کیں۔ بعد ازاں اسی دباؤ کے نتیجے میں اسے عجلت میں انٹرویو لیٹر جاری کیا گیاجس سے انتظامیہ کی سنجیدگی پر سوالات اٹھ گئے ہیں۔ صورتحال اس وقت مزید مشکوک ہو گئی جب انٹرویو سے قبل ہی یہ بات عام ہو چکی تھی کہ مذکورہ نشست پہلے سے ہی ایک مخصوص شخصیت، یعنی’’جعفری صاحب‘‘کے لیے مختص ہے۔ ذرائع کے مطابق یونیورسٹی میں موجود افراد بھی کھلے عام یہی کہتے پائے گئے کہ یہ سیٹ وائس چانسلر کے سابقہ پرسنل سیکرٹری جعفری صاحب کی ہے کیونکہ وہ وائس چانسلر کے ذاتی سیکرٹری رہ چکے ہیںجس کی وجہ سے انہیں’’خاص‘‘امیدوار سمجھا جا رہا ہے۔ اس قسم کے بیانات نے پورے سلیکشن عمل کو متنازع بنا دیا ہے۔ سب سے تشویشناک پہلو یہ ہے کہ یونیورسٹی میں باقاعدہ ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ موجود ہی نہیں اس کے باوجود اسی شعبے کے ایک ٹیچر کو سلیکٹ کرنا نہ صرف حیران کن بلکہ پورے نظام پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ حالانکہ متعلقہ ڈیپارٹمنٹ کا سرے سے وجود ہی نہیں رکھتا۔ تعلیمی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو یونیورسٹی آف لیہ میں میرٹ اور شفافیت محض نعروں تک محدود ہو کر رہ جائیں گے۔ ماہرین نے اعلیٰ حکام سے فوری نوٹس لینے اور وائس چانسلر ڈاکٹر زبیر ابو بکر کے اس مبینہ بے ضابطگیوں سے بھرپور عمل کی مکمل تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے تاکہ تعلیمی اداروں کا وقار بحال کیا جا سکے۔ اس بارے میں لیہ یونیورسٹی کے وائس چانسلر کوئی جواب نہ دے سکے۔







