اسلامیہ یونیورسٹی، کروڑوں کے معاہدے مشکوک، متنازع افسر کی ترقی، احتسابی نظام ناکام

ملتان (سٹاف رپورٹر) اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کو تباہی کے دہانے پر پہنچانے والے وائس چانسلر ڈاکٹر اطہر محبوب جو آج کل کراچی کی ایک نجی الکوثر یونیورسٹی میں وائس چانسلر تعینات ہیں اور اس وقت کے رجسٹرار معظم جمیل اس وقت کے خزانچی ڈاکٹر محمد ابوبکر اور ڈپٹی خزانچی طارق محمود شیخ کے بارے میں حرام خوری کے حوالے سے شرمناک انکشافات سامنے آ گئے ہیں اور اتنے بڑے مالیاتی سکینڈل کے بعد بھی ڈاکٹر اطہر محبوب کو سرکاری اور عدالتی سطح کی سہولت کاری دے کر کھلا چھوڑ کر آزاد کر دیا گیا۔ ڈاکٹر معظم جمیل ریٹائر ہو گئے جبکہ وقت کے خزانچی ڈاکٹر ابوبکر جن پر بہاول نگر کیمپس میں مبینہ طور پر طالبات حتیٰ کہ لیڈی ٹیچرز کو بھی بلیک میل کرنے کے متعدد الزامات ہیں، اس وقت بھی یونیورسٹی میں پروفیسر کی سیٹ پر براجمان ہیں جبکہ کرپشن میں سر تا پاؤں تک لتھڑے ڈپٹی خزانچی طارق محمود شیخ کو محض دو روز قبل 18 مارچ 2026 کو گریڈ 20 کا خزانچی تین سال کے لیے تعینات کیا گیا جو کہ ایک متنازع 41 کروڑ روپے کی “غیر مشروط اور ناقابلِ تنسیخ” بینک گارنٹی کے سٹامپ پیپر پر بطور ڈپٹی خزانچی دستخط کنندہ بھی ہیں۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا طارق محمود شیخ کا کرپشن کے الزامات کے باوجود خزانچی بننا ڈاکٹر اطہر محبوب کی کرپشن کے سلسلوں کو جاری رکھنے کی پالیسی نہیں ہے؟ اسی بینک گارنٹی پر بطور خزانچی پروفیسر ڈاکٹر محمد ابوبکر کے دستخط بھی موجود ہیں جن کو چند روز قبل سٹینڈنگ کمیٹی برائے ایجوکیشن نے یونیورسٹی کو بری طرح ڈبونے کے معاملے میں طلب بھی کر رکھا ہے۔ نئے تعینات ہونے والے خزانچی طارق محمود شیخ کے بارے میں اس انکشاف نے نہ صرف اس مالی معاہدے کو مشکوک بنا دیا ہے بلکہ ایسے شخص کی اہم ترین مالی عہدے پر تعیناتی کو بھی شدید تنقید کی زد میں لا کھڑا کیا ہے، جس کے بارے میں حلقوں کا کہنا ہے کہ انہیں اکاؤنٹس اور مالی نظم و نسق سے بنیادی واقفیت بھی حاصل نہیں اور وہ پہلے ہی یونیورسٹی کے معاملات میں تباہ کن خطرناک فیصلوں سے منسلک رہے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق بہاولپور سے موصول ہونے والی انتہائی سنسنی خیز اور چونکا دینے والی دستاویزات نے اسلامیہ یونیورسٹی کی انتظامیہ کے مالی معاملات پر جہاں سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں پر انہیں ڈاکٹر اطہر محبوب کے دور کا تسلسل قرار دیا جا رہا ہے جہاں مبینہ طور پر 20 کروڑ روپے کی ایک “غیر مشروط اور ناقابلِ تنسیخ” بینک گارنٹی کے ذریعے قومی ادارے کو کھلے عام مالی خطرات کے حوالے کر دیا گیا۔ یونیورسٹی کی جانب سے حبیب بینک لمیٹڈ کی کی اسلامیہ یونیورسٹی برانچ کو ایک ایسا انڈیمنٹی بانڈ فراہم کیا گیا جس میں واضح طور پر یہ تسلیم کیا گیا ہے کہ اگر Treinador International Services Pvt. Ltd. (مستفید کنندہ) کسی بھی وقت گارنٹی کی رقم کا مطالبہ کرے تو بینک بلا چون و چرا یہ ادائیگی کرے گا اور یونیورسٹی بغیر کسی اعتراض، تحقیق یا قانونی چارہ جوئی کے فوری طور پر وہ رقم ادا کرنے کی پابند ہوگی۔ دستاویز کے مطابق صورتحال اس حد تک سنگین ہے کہ نہ صرف مستفید کمپنی بلکہ اس کے کسی بھی نمائیندے کو بھی مکمل اختیار دے دیا گیا ہے کہ وہ اس گارنٹی کو کہیں بھی منتقل کرکے رقم وصول کر سکے، جبکہ یونیورسٹی نے اپنے آپ کو مکمل طور پر بے اختیار کرتے اپنے ہاتھ کاٹتے ہوئے یہ عہد بھی کیا ہے کہ وہ کسی بھی قسم کا اعتراض، سوال یا قانونی کارروائی نہیں کرے گی حتیٰ کہ اگر معاملہ مشکوک ہی کیوں نہ ہو۔ مزید حیران کن انکشاف یہ ہے کہ یونیورسٹی نے بینک کو یہ اختیار بھی دے دیا ہے کہ وہ کسی بھی وقت یونیورسٹی کے اکاؤنٹس سے بغیر کسی پیشگی اطلاع یا منظوری کے خود یہ رقم لے نکلوا سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ شق کسی بھی سرکاری ادارے کے لیے “مالی خودکشی” کے مترادف ہے۔ تعلیمی و مالی حلقوں میں اس تقرری پر شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ ایک ایسا شخص جس کا اکاؤنٹس اور مالی معاملات سے بنیادی تعلق ہی مشکوک ہو، اور جس کے دستخط ایک ایسے انتہائی خطرناک اور یکطرفہ مالی معاہدے پر موجود ہوں جس میں یونیورسٹی کو مکمل طور پر بے اختیار کر دیا گیا ہو، اسے ادارے کے سب سے حساس مالی عہدے پر فائز کرنا نہ صرف ناقابلِ فہم بلکہ کھلی نااہلی اور حرام خوری اور بدانتظامی کی بدترین مثال ہے۔ تعلیمی حلقوں کے مطابق یہ تقرری اس بات کا ثبوت ہے کہ میرٹ، شفافیت اور احتساب جیسے اصول صرف کاغذی دعوے بن چکے ہیں۔ ماہرین کے مطابق اس قسم کی شرائط تو نجی کاروباری لین دین میں بھی انتہائی احتیاط سے استعمال کی جاتی ہے، جبکہ یہاں ایک سرکاری تعلیمی ادارہ خود کو مکمل طور پر ایک نجی کمپنی کے رحم و کرم پر چھوڑ چکا ہے اور اسی عمل میں ملوث کسی فرد کو ترقی دے دینا شفافیت اور احتساب کے دعوؤں کا کھلا مذاق ہے اور ظاہر کرتا ہے کہ موجودہ وائس چانسلر ڈاکٹر کامران بھی ڈاکٹر اطہر محبوب کی مبینہ طور پر پیروی کر رہے ہیں۔ تعلیمی حلقوں نے اس انکشاف پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فوری تحقیقات، خزانچی طارق محمود شیخ سمیت ذمہ داران کے تعین اور اس گارنٹی سے فائدہ اٹھانے والوں کو قانون کے کٹہرے میں لانے کا مطالبہ کیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے کو فوری طور پر نہ روکا گیا تو قومی خزانے کو کروڑوں روپے کا ناقابلِ تلافی نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے۔ یہ اسکینڈل نہ صرف یونیورسٹی کی مالی شفافیت پر سوالیہ نشان ہے بلکہ یہ بھی ظاہر کرتا ہے کہ اعلیٰ تعلیمی اداروں میں مالی نظم و نسق کس قدر کمزور ہو چکا ہے اور اگر بروقت کارروائی نہ کی گئی تو ایسے مزید “خفیہ معاہدے” سامنے آنے کا خدشہ بھی بڑھتا جا رہا ہے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں