راجن پور(ڈپٹی بیورو چیف) ضلع راجن پور میں محکمہ فوڈ میں مبینہ کرپشن کا بڑا اسکینڈل سامنے آ گیا ہے۔ آٹھ ہزار گندم کی بوری غائب،باقی موجود سٹاک میں مٹی ملا دی گئی جہاں گندم کی خریداری کے دوران مبینہ بے ضابطگیوں اور گھپلے کا انکشاف ہوا ہے۔ ذرائع کے مطابق حافظ عثمان نامی شخص جو بطور اے ایف سی (اسسٹنٹ فوڈ کنٹرولر) تعینات تھا، کافی عرصے سے گندم کی خریداری کے عمل میں مبینہ طور پر گھپلے کرتا رہا۔ابتدائی تحقیقات کے مطابق گندم کی خریداری میں کروڑوں روپے تقریباً آٹھ ہزار بوری گندم کے گھپلے کا انکشاف ہوا ہے۔ ڈسٹرکٹ فوڈ کنٹرولر راجن پور کی درخواست پر متعلقہ حکام نے فوری کارروائی کرتے ہوئے تھانہ صدر پولیس راجن پور نے اسسٹنٹ فوڈ کنٹرولر رانا محمد رفیق اور اسسٹنٹ فوڈ کنٹرولر محمد عثمان کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔مزید تحقیقات کے دوران یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ جو گندم سرکاری گوداموں میں باقی موجود تھی اس میں مٹی ملا کر فلور ملز کو فراہم کرنے کی گئی۔ڈسٹرکٹ فوڈ کنٹرولر راجن پور نے ہمراہ اسکواڈ پیرا فورس سنٹر ہزا پر ذخیرہ شدہ گندم بمقام محفوظ مصطفیٰ کاٹن فیکٹری کوٹ مٹھن روڈ کوٹلہ نصیر کا معائنہ کیا تواس میں مٹی کی آمیزش پائی گئی۔اس سنگین معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے ڈپٹی کمشنر راجن پور نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ایک اور ایف آئی آر انٹی کرپشن میں درج کروا دی ہے۔ذرائع کے مطابق مقدمات درج ہونے کے بعد فوڈ ڈیپارٹمنٹ کا مذکورہ اہلکار حافظ عثمان موقع سے فرار ہو گیا ہے جبکہ پولیس اس کی گرفتاری کے لیے مختلف مقامات پر چھاپے مار رہی ہے۔







