احمدپورشرقیہ (کرائم سیل)نواحی علاقہ نورپور نورنگا کی بستی موسانی میں چاند رات کو پیش آنے والا لرزہ خیز واقعہ نہ صرف ایک انسان کی جان لے گیا بلکہ پنجاب پولیس کی کارکردگی اختیارات کے استعمال اور عوامی تحفظ کے دعوؤں پر بھی بڑے سوالات کھڑے کر گیا ہے۔ رات تقریباً 11 بج کر 40 منٹ پر پولیس اہلکار مبینہ طور پر ہوٹل پر کام کرنے والے محنت کش معشوق علی کے گھر میں داخل ہوئے اور اسے بدترین تشدد کا نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں وہ موقع پر ہی دم توڑ گیا۔عینی شاہدین اور اہل علاقہ کے مطابق پولیس اہلکار بغیر کسی قانونی جواز اور وارنٹ کے گھر میں داخل ہوئے چادر اور چار دیواری کا تقدس پامال کیا اور طاقت کا بے دریغ استعمال کیا۔مزید برآں ورثاء کی جانب سے نہایت سنگین الزام سامنے آیا ہے کہ ملوث پولیس اہلکار مبینہ طور پر شراب کے نشے میں دھت تھے۔ علاقے میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ مقامی میڈیا نمائندگان کی بروقت نشاندہی پر ڈی پی او بہاولپور نے ایکشن لیتے ہوئے کانسٹیبل تنویر اور پرائیویٹ رضاکار ثاقب کے خلاف تھانہ مسافر خانہ میں قتل کا مقدمہ درج کرنے کے احکامات جاری کیے اور لاش کا پوسٹ مارٹم بھی کروایا گیا۔







