ملتان (سٹاف رپورٹر) یونیورسٹی آف رسول منڈی بہاالدین ان دنوں شدید انتظامی بحران اور بدتمیزی کے کلچر کی لپیٹ میں آ چکی ہے مبینہ طور پر اعلیٰ عہدیداروں کے رویے نے تعلیمی ماحول کو زہر آلود بنا دیا ہے۔ یونیورسٹی ملازمین کی جانب سے روزنامہ قوم کو موصول ہونے والی مصدقہ اطلاعات کے مطابق ڈاکٹر ظہور الحق کے یونیورسٹی کا چارج سنبھالنے کے بعد سے ادارے میں نظم و ضبط کے بجائے بدسلوکی، دھمکیوں اور غیر پیشہ ورانہ رویوں کا راج قائم ہو چکا ہے۔ یونیورسٹی کے اندرونی حلقوں کا کہنا ہے کہ وائس چانسلر کے گرد چند مخصوص افراد کا ایک ایسا گروہ تشکیل دیا گیا ہے جو نہ صرف غیر مہذب زبان استعمال کرتا ہے بلکہ جونیئر ملازمین کو مسلسل ہراساں اور گالم گلوچ کا نشانہ بھی بناتا ہے۔ ملازمین کے مطابق انہیں معمولی باتوں پر ذلیل کیا جاتا ہےجبکہ اساتذہ تک کو نہیں بخشا جا رہا۔ ذرائع کے مطابق خواتین اساتذہ کے ساتھ مبینہ طور پر نہایت سخت اور غیر مناسب لہجے میں گفتگو کی جاتی ہے اور انہیں نوکری سے نکالنے کی دھمکیاں دی جاتی ہیں۔ اس صورتحال نے یونیورسٹی میں خوف اور عدم تحفظ کی فضا پیدا کر دی ہے، تدریسی عملہ خود کو غیر محفوظ محسوس کر رہا ہے۔ مزید برآںکچھ عرصہ قبل مختلف شعبہ جات کے چیئرپرسنز اور اساتذہ نے ڈاکٹر شائستہ سے ایک اہم ملاقات کی جس میں ایک لیکچرر کے غیر مہذب رویے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا۔ اجلاس میں شریک تمام اساتذہ نے متفقہ طور پر مطالبہ کیا کہ مذکورہ فرد کے رویے کو فوری طور پر درست کیا جائےتاہم حیران کن طور پر اس پر کوئی عملی اقدام نہیں اٹھایا گیا۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ ایک نئی قائم ہونے والی یونیورسٹی میں اس قدر تیزی سے تنزلی نہ صرف تشویشناک ہے بلکہ یہ اعلیٰ تعلیم کے نظام پر بھی سوالیہ نشان ہے۔ اگر فوری اصلاحی اقدامات نہ کیے گئے تو یہ ادارہ مزید بحرانوں کا شکار ہو سکتا ہے۔ متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ وہ اس سنگین صورتحال کا نوٹس لیں اور یونیورسٹی میں شفاف تحقیقات کے ذریعے ذمہ داران کے خلاف کارروائی عمل میں لائیںتاکہ تعلیمی ماحول کو بحال کیا جا سکے۔ اس بارے میں جب روزنامہ قوم ایجوکیشن ریسرچ سیل کی جانب سے وائس چانسلر یونیورسٹی آف رسول پروفیسر ڈاکٹر ظہور الحق سے رابطہ کیا گیا تو خبر کی اشاعت تک جواب موصول نہ ہو سکا۔ تاہم جیسے ہی کوئی موقف موصول ہوتا ہے، ادارہ ان کے موقف کو من و عن شائع کرے گا۔







