ملتان(نمائندہ قوم)عید کے موقع پر پنجاب کی جیلوں میں غیر معمولی سرگرمیاں، 70 ہزار سے زائد قیدیوں کی ملاقاتیں، اصلاحات اور فلاحی منصوبوں کا اعلان ،عید کے پرمسرت موقع پر انسپکٹر جنرل جیل خانہ جات پنجاب میاں فاروق نذیر نے روزنامہ قوم کے دفتر کا خصوصی دورہ کیا جہاں انہوں نے جوائنٹ ایڈیٹر ناصر محمود شیخ سے تفصیلی گفتگو کرتے ہوئے جیلوں میں جاری اصلاحاتی اقدامات، قیدیوں کو دی جانے والی سہولیات اور آئندہ کے منصوبوں سے آگاہ کیا۔آئی جی جیل خانہ جات نے بتایا کہ عید سے دو روز قبل اور عید کے دو روز کے دوران پنجاب بھر کی جیلوں میں 70 ہزار سے زائد قیدیوں نے اپنے عزیز و اقارب سے ملاقاتیں کیں جبکہ ملاقات کرنے والوں کی مجموعی تعداد 2 لاکھ سے تجاوز کر گئی۔ انہوں نے کہا کہ اس موقع پر قیدیوں کو خصوصی سہولیات فراہم کی گئیںجن میں عید کے کپڑے، بہتر کھانے پینے کی اشیاء اور دیگر بنیادی ضروریات شامل تھیں۔انہوں نے مزید بتایا کہ پنجاب کی تمام جیلوں کے ریجنل ڈی آئی جیز کی نگرانی میں اضافی عملہ تعینات کیا گیاجس نے ملاقاتوں کی رجسٹریشن اور سامان کی مؤثر چیکنگ کو یقینی بنایا تاکہ کسی بھی قسم کی ممنوعہ اشیاء یا منشیات جیلوں کے اندر نہ پہنچ سکیں۔ ان کے مطابق ماضی میں اس حوالے سے شکایات موصول ہو رہی تھیں جس پر وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی ہدایت پر سخت اقدامات کیے گئے ہیں۔آئی جی جیل خانہ جات نے قیدیوں کی بحالی اور ہنر مندی کے فروغ کے حوالے سے اہم منصوبوں کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ حکومت پنجاب جیلوں میں سکل ڈویلپمنٹ پروگرامز کا دائرہ کار بڑھا رہی ہے۔ اس ضمن میں شاہ پور جیل میں واشنگ سوپ، سنٹرل جیل ملتان میں مختلف مصنوعات جبکہ بہاولپور جیل میں سوفٹی چپل بنانے کے یونٹس قائم کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چونکہ جیلوں میں زیادہ تر قیدی سوفٹی چپل استعمال کرتے ہیں، اس لیے اس کی مقامی سطح پر تیاری نہ صرف سستی ہوگی بلکہ قیدیوں کو روزگار کے مواقع بھی فراہم کرے گی۔انہوں نے مزید بتایا کہ گوجرانوالہ جیل میں برتن سازی، راولپنڈی جیل میں فینائل بنانے کا یونٹ پہلے ہی کام کر رہا ہے جبکہ 9 جیلوں میں ٹف ٹائل یونٹس قائم کیے جا رہے ہیں۔ ملتان میں قائم ہونے والے یونٹ کا 25 فیصد منافع قیدیوں کو دیا جائے گا جبکہ باقی رقم پریزن فاؤنڈیشن کے ذریعے نظام کی بہتری پر خرچ کی جائے گی۔آئی جی کے مطابق آئندہ ایک ماہ کے دوران ڈسٹرکٹ جیل ملتان، سنٹرل جیل ملتان اور بہاولپور جیل میں نئے صنعتی یونٹس فعال کر دیئے جائیں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ جیلوں میں یوٹیلیٹی سٹورز کی بندش کے بعد پریزن ویلفیئر سٹورز کے قیام کا فیصلہ کیا گیا ہے، جہاں 72 معیاری اشیاء کم قیمت پر قیدیوں کو فراہم کی جائیں گی۔ ان سٹورز پر غیر معیاری اشیاء کا مکمل خاتمہ کیا جائے گا جبکہ جیل ملازمین ہی ان کی نگرانی کریں گے۔ مزید برآں اگر اوپن مارکیٹ سے آرڈرز موصول ہوئے تو ان مصنوعات کی فراہمی بھی ممکن بنائی جائے گی گنجائش کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے میاں فاروق نذیر نے بتایا کہ ملتان، خانیوال، وہاڑی، لودھراں، راجن پور، لیہ اور مظفر گڑھ کی جیلوں میں اس وقت گنجائش کا کوئی بڑا مسئلہ نہیں، تاہم لاہور، قصور، شیخوپورہ، سیالکوٹ، گجرات اور راولپنڈی کی جیلوں میں قیدیوں کی تعداد گنجائش سے زیادہ ہے۔ اس مسئلے کے حل کے لیے لاہور اور سیالکوٹ میں نئی جیلوں کی تعمیر جاری ہے جبکہ دیگر جیلوں میں اضافی بیرکس بھی بنائی جا رہی ہیں۔آخر میں آئی جی جیل خانہ جات نے میڈیا کے کردار کو سراہتے ہوئے اعلان کیا کہ صحافیوں کو جلد جیلوں کے دورے کی اجازت دی جائے گی، جہاں وہ پریس کلب کے نمائندوں کے ہمراہ جیلوں کے کچن اور دیگر انتظامات کا خود جائزہ لے سکیں گے تاکہ شفافیت کو مزید فروغ دیا جا سکے۔قبل ازیںانسپکٹر جنرل جیل خانہ میاں فاروق نذیر تمغہ امتیاز نے قوم میڈیا کے ملتان آفس کا وزٹ کیا اور پوڈ کاسٹ میں گفتگو کی۔ چیف ایڈیٹر میاں غفار کی شاندار صحافتی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا اور ادارے کی مزید کامیابیوں کے لئے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔
ڈسٹرکٹ جیل ملتان میں قیدی باورچیوں کا جذبہ خدمت، خصوصی سحروافطار انتظام
ملتان ( سیدقلب حسن سے) ڈسٹرکٹ جیل ملتان میں رمضان المبارک کے دوران روزہ دار قیدیوں کے لیے سحری و افطاری کا خصوصی انتظام کیا گیا۔ جیل انتظامیہ کی جانب سے قیدیوں کے لیے ترتیب دیے گئے کھانے میں قیدی باورچیوں نے نہایت محنت اور خلوص سے خدمات انجام دیںجس پر دیگر قیدیوں نے ان کے جذبہ خدمت کو سراہا۔تفصیلات کے مطابق ڈسٹرکٹ جیل ملتان میں رمضان کے مقدس مہینے میں روزہ دار قیدیوں کے لیے سحری اور افطاری کے اوقات میں متوازن اور معیاری غذائیں تیار کی گئیں۔ اس سلسلے میں جیل انتظامیہ نے قیدی باورچیوں کی خدمات حاصل کیںجنہوں نے نہایت خوش اسلوبی اور دیانتداری سے فرائض سرانجام د یئے۔قیدی باورچیوں کا کہنا تھا کہ ہمیں بہت خوشی ہے کہ ہم نے رمضان کے مقدس مہینے میں اپنے ساتھی قیدیوں کے لیے سحری اور افطاری کا کھانا تیار کیا۔ ان کی دعاؤں اور مسکراہٹوں نے ہمارے دل و روح کو سکون بخشا۔ اللہ کا شکر ہے کہ ہمیں یہ موقع ملا کہ ہم دوسروں کی خدمت کر سکے۔ آئندہ بھی ہم اپنی خدمات پیش کرتے رہیں گے اور کسی بھی مشکل وقت میں اپنے ساتھیوں کی مدد کے لیے تیار ہیں۔جیل انتظامیہ کے ایک افسر نے بتایاکہ رمضان المبارک میں قیدیوں کی سہولت کے لیے خصوصی اقدامات کیے گئے۔ سحری اور افطاری کے اوقات میں قیدیوں کو تازہ، معیاری اور غذائیت سے بھرپور کھانا فراہم کیا گیا۔ قیدی باورچیوں کی خدمات کو سراہا گیا اور ان کے جذبہ خدمت کو قدر کی نگاہ سے دیکھا گیا۔ایک روزہ دار قیدی نے بتایا کہ اس بار رمضان میں ہمیں بہت اچھی سہولیات ملی ہیں۔ سحری اور افطاری کا کھانا بہت مزیدار اور معیاری تھا۔ قیدی باورچیوں نے بڑے پیار اور محنت سے کھانا تیار کیاجس کی وجہ سے ہمیں گھر سے دور ہونے کا احساس بھی کم ہوا۔ ہم ان کے مشکور ہیں۔جیل کے سپرنٹنڈنٹ نے بتایا کہ قیدیوں کی بہبود اور ان کے حقوق کی فراہمی جیل انتظامیہ کی اولین ترجیح ہے۔ رمضان میں قیدیوں کی روحانی اور جسمانی ضروریات کا خاص خیال رکھا گیا۔ قیدی باورچیوں کی خدمات کو سراہتے ہوئے انہیں اعزازی اسناد بھی دی گئیں۔اس موقع پر جیل کے دیگر قیدیوں نے بھی قیدی باورچیوں کی خدمات کو سراہا اور ان کے لیے دعا کی۔ قیدیوں کا کہنا تھا کہ اس طرح کے اقدامات سے جیل میں موجود قیدیوں میں بھائی چارہ اور اخوت کا جذبہ فروغ پاتا ہے۔واضح رہے کہ ڈسٹرکٹ جیل ملتان میں اس وقت سینکڑوں قیدی زیر حراست ہیں۔ جیل انتظامیہ ان کی رہائش، خوراک اور دیگر بنیادی ضروریات کی فراہمی کے لیے بھرپور اقدامات کر رہی ہے۔ رمضان کے مقدس مہینے میں قیدیوں کے لیے سحری و افطاری کے ساتھ ساتھ تراویح اور دینی تعلیم کا بھی خصوصی انتظام کیا گیا ۔







