یو ای ٹی ملتان: 9 وی سی آئے اور گئے، عارضی رجسٹرار ڈاکٹر عاصم عمر برقرار، مریم نواز کو دھوکا

ملتان (سٹاف رپورٹر) محمد نواز شریف یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی ملتان میں انتظامی بے ضابطگیوں، قانون کی کھلم کھلا خلاف ورزیوں اور مبینہ’’ مینجمنٹ کلچر‘‘نے ادارے کو ایک ایسے بحران میں دھکیل دیا ہے جسے مبصرین اندھیر نگری چوپٹ راج سے تعبیر کر رہے ہیں۔ گزشتہ ایک دہائی سے زائد عرصے سے جاری یہ سلسلہ اب نہ صرف تعلیمی حلقوں بلکہ اعلیٰ سرکاری ایوانوں میں بھی سوالیہ نشان بن چکا ہے۔ اس بارے میں سب سے زیادہ قصور ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کا بنتا ہے جنہوں نے اس بات کو وزیراعلیٰ پنجاب سے مسلسل چھپائے رکھا کہ سپریم کورٹ کے احکامات کی کھلم کھلا خلاف ورزی کی جا رہی ہے اور اس کے بجائے انہوں نے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کو اندھیرے میں رکھتے ہوئے ہر تین ماہ بعد ان سے سمری منظور کروا لی۔ 14 سال کے عرصے کے دوران اگر ریگولر رجسٹرار کی تقرری کا عرصہ دیکھا جائے تو ریگولر رجسٹرار کا پانچواں ٹینیور بنتا ہے جو کہ ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ نے جان بوجھ کر عارضی مدت کے گلے ڈال دیا۔ تبھی وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے والد کے نام پر بننے والی محمد نواز شریف یونیورسٹی کو ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب نے اپنی ہی نااہلی کی وجہ سے ترقی نہ ہونے دی۔ ذرائع کے مطابق یونیورسٹی کے عارضی رجسٹرار ڈاکٹر عاصم عمر گزشتہ تقریباً 14 سال سے اسی عہدے پر براجمان ہیں حالانکہ وہ مستقل تقرری کے بغیر’’عارضی‘‘حیثیت میں کام کر رہے ہیں۔ دستاویزی تفصیلات کے مطابق محمد نواز شریف یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی ملتان میں گزشتہ برسوں کے دوران وائس چانسلرز کی تقرری اور ان کی مدتِ ملازمت ایک مسلسل تبدیلی کی تصویر پیش کرتی ہے، جہاں لیفٹیننٹ جنرل (ر) محمد اکرم خان نے 08-09-2012 سے 15-10-2014 تک خدمات انجام دیں، ان کے بعد انجینئر پروفیسر ڈاکٹر زبیر احمد خان 16-10-2014 سے 17-12-2014 تک مختصر مدت کے لیے اس عہدے پر فائز رہے، پھر انجینئر پروفیسر ڈاکٹر فضل احمد خالد نے 18-12-2014 سے 27-12-2016 تک ذمہ داریاں سنبھالیں، جس کے بعد پروفیسر ڈاکٹر محمد زبیر 28-12-2016 سے 23-11-2017 تک وائس چانسلر رہے، بعد ازاں انجینئر پروفیسر ڈاکٹر عامر اعجاز نے 24-11-2017 سے 23-11-2021 تک طویل ترین مدت میں یہ منصب سنبھالا، ان کے بعد انجینئر پروفیسر ڈاکٹر سید منصور سرور 29-12-2021 سے 09-09-2022 تک اس عہدے پر رہے، پھر انجینئر پروفیسر ڈاکٹر محمد کامران 10-09-2022 سے 07-05-2025 تک تعینات رہے، اس کے بعد انجینئر پروفیسر ڈاکٹر طاہر سلطان نے 08-05-2025 سے 07-01-2026 تک ذمہ داریاں ادا کیں، جبکہ موجودہ وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر توصیف ایزد08-01-2026 سے تاحال اس منصب پر فائز ہیں۔ تاہم ذرائع کے مطابق ان تمام ادوار میں ایک حیران کن پہلو مستقل طور پر برقرار رہا اور وہ رجسٹرار کے عہدے پر ڈاکٹر عاصم عمر کی مسلسل موجودگی ہےجو ہر آنے والے وائس چانسلر کے دور میں بطور عارضی رجسٹرار برقرار رہے جسے تعلیمی حلقے محض انتظامی تسلسل نہیں بلکہ مبینہ اثر و رسوخ اور ایک منظم سسٹم مینجمنٹ کا شاخسانہ قرار دے رہے ہیں۔ دستاویزی شواہد کے مطابق 2012 سے لے کر اب تک ہر آنے والے وائس چانسلر کے ساتھ ڈاکٹر عاصم عمر نے نہ صرف اپنے عہدے کو برقرار رکھا بلکہ مبینہ طور پر یونیورسٹی کے انتظامی و تدریسی معاملات پر بھی مکمل گرفت قائم رکھی۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ اسی اثر و رسوخ کے ذریعے غیر قانونی تقرریوں اور ترقیوں کا ایک ایسا سلسلہ شروع ہوا جس نے میرٹ کو پس پشت ڈال دیا۔ خاص طور پر 2012 میں بطور اسسٹنٹ پروفیسر تعینات ہونے والے افراد کی غیر معمولی رفتار سے ترقی کر کے ایسوسی ایٹ پروفیسر اور پروفیسر کے عہدوں تک رسائی کو تعلیمی ماہرین سنگین بے ضابطگی قرار دے رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ تمام عمل قواعد و ضوابط کے برعکس اور مبینہ طور پر مخصوص افراد کو نوازنے کے لیے کیا گیا۔ قانونی پہلوؤں پر نظر ڈالی جائے تو صورتحال مزید سنگین دکھائی دیتی ہے۔ سپریم کورٹ میں دائر کیس (سی پی 7/24) کے فیصلے میں واضح طور پر کہا گیا تھا کہ کسی بھی سرکاری عہدے پر ایڈیشنل چارج صرف چھ ماہ کے لیے دیا جا سکتا ہے۔ تاہم اس واضح حکم کے باوجود ڈاکٹر عاصم عمر کو مسلسل 14 سال تک عارضی بنیادوں پر رجسٹرار کا چارج دینا نہ صرف عدالتی احکامات کی خلاف ورزی ہے بلکہ قانون کی صریح نفی بھی ہے۔ مزید برآںیہ انکشاف بھی سامنے آیا ہے کہ ہر تین ماہ بعد عارضی تقرری کی سمری ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب کی جانب سے وزیر اعلیٰ پنجاب کو بھجوائی جاتی رہی اور اس کی منظوری حاصل کی جاتی رہی۔ ماہرین تعلیم اس عمل کوادارہ جاتی بدعنوانی اور سسٹم کی ناکامی قرار دے رہے ہیں، جس نے نہ صرف قانون کا مذاق اڑایا بلکہ اعلیٰ تعلیم کے پورے ڈھانچے کو کمزور کر دیا۔ تعلیمی و سماجی حلقوں نے اس معاملے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر شفاف تحقیقات کرائی جائیں، غیر قانونی تقرریوں اور ترقیوں کا ازسرنو جائزہ لیا جائے اور ذمہ داران کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر اس طرح کے معاملات کو نظر انداز کیا گیا تو نہ صرف اداروں کی ساکھ تباہ ہوگی بلکہ ملک کا تعلیمی مستقبل بھی شدید خطرات سے دوچار ہو جائے گا۔ یہ صورتحال اس بڑے سوال کو جنم دیتی ہے کہ آیا قانون صرف کمزوروں کے لیے ہے یا پھر بااثر افراد کے لیے بھی اس کا اطلاق یکساں ہونا چاہیے؟ فی الحال محمد نواز شریف یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی ملتان ایک ایسے امتحان سے گزر رہی ہے جہاں شفافیت، میرٹ اور قانون کی بالادستی داؤ پر لگی ہوئی ہے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں