خواتین یونیورسٹی ملتان: ڈاکٹر پراچہ اپنی ٹیم تشکیل دیکر رخصت، نئی انتظامیہ کیلئے جیلنجز

ملتان (سٹاف رپورٹر) خواتین یونیورسٹی ملتان کی سابق وائس چانسلر اور مبینہ طور پر غیر قانونی طور پر تعینات پرووائس چانسلر ڈاکٹر کلثوم پراچہ نے اپنے ٹینیور کے آخری روز ایسے متنازع اور غیر معمولی فیصلے کئے جنہوں نے ادارے کے انتظامی ڈھانچے کو ہلا کر رکھ دیا۔ 16 مارچ بروز سومواراپنے عہدے کے اختتام کے موقع پر ڈاکٹر پراچہ نے اچانک یونیورسٹی کے مین گیٹ پر تختی نصب کر کے افتتاح کر ڈالا جسے یونیورسٹی کی 180 میں سے 175 ٹیچرز نے’’ذاتی تشہیر اور مایوسی کا آخری مظاہرہ‘‘قرار دیا۔ تاہم اصل ہنگامہ اس وقت کھڑا ہوا جب کنٹرولر امتحانات ڈاکٹر حنا علی جن کا ٹینیور ابھی تین دن باقی تھا کو اچانک عہدے سے ہٹا دیا گیا۔ اس فیصلے نے نہ صرف ادارے میں بے چینی پیدا کی بلکہ میرٹ، قواعد اور سنیارٹی کی کھلی خلاف ورزی کے الزامات بھی سامنے آئے۔ حیران کن طور پر ان کی جگہ سینئر افسران کو نظر انداز کرتے ہوئے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر عابدہ ظفر کو عارضی چارج دے دیا گیا جو اس اہم عہدے کے لیے ایک نیا اور غیر آزمودہ انتخاب سمجھی جا رہی ہیں۔ ذرائع کے مطابق اس فیصلے کے پیچھے کئی سنسنی خیز وجوہات سامنے آ رہی ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ ڈاکٹر حنا علی نے مبینہ طور پر ڈاکٹر پراچہ کو کانووکیشن کے انعقاد میں غیر معمولی اور متنازع اقدامات سے روکنے کی کوشش کی جس پر انہیں ہٹا دیا گیا۔ مزید یہ کہ ذاتی نوعیت کے معمولی معاملات جیسے رسمی استقبال یا ’’پھول پتیوں‘‘کا اہتمام نہ کرنابھی اس سخت اقدام کا جواز بنائے گئےجو ادارہ جاتی سنجیدگی پر سوالیہ نشان ہے۔ اندرونی حلقوں کا دعویٰ ہے کہ یہ تبدیلیاں محض اتفاق نہیں بلکہ ایک منظم حکمت عملی کا حصہ ہیں، جس کے تحت نئی آنے والی مستقل وائس چانسلر کے لیے مشکلات کھڑی کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ مبینہ طور پر ایک’’من پسند ٹیم‘‘ تشکیل دی گئی ہے تاکہ نئی انتظامیہ کو ابتدا ہی سے دباؤ، رکاوٹوں اور انتظامی بحران کا سامنا کرنا پڑے۔ اس سارے معاملے کو بعض حلقے کانووکیشن کو ناکام بنانے کی ایک دانستہ سازش بھی قرار دے رہے ہیںکیونکہ خود ڈاکٹر پراچہ اپنے اختیارات کے خاتمے کے باعث کانووکیشن منعقد نہیں کروا سکتیں۔ تعلیمی و انتظامی ماہرین کا کہنا ہے کہ دو سال سے تعینات ایک تجربہ کار کنٹرولر کو اچانک ہٹا کر ایک نئے اور غیر آزمودہ فرد کو چارج دینا نہ صرف ادارہ جاتی تسلسل کے خلاف ہے بلکہ اس سے امتحانی نظام اور آئندہ کانووکیشن پر بھی منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

شیئر کریں

:مزید خبریں