خواتین یونیورسٹی، جونیئر کلرکس کی غیر قانونی پروموشنز، تنازعہ شدت اختیار کر گیا

ملتان (سٹاف رپورٹر) خواتین یونیورسٹی ملتان ایک بار پھر سنگین انتظامی اور قانونی تنازعے کی زد میں آ گئی ہے جہاں سابقہ اور متنازعہ حیثیت رکھنے والی غیر قانونی پرو وائس چانسلر ڈاکٹر کلثوم پراچہ نے اپنے کماؤ پوت قریبی ساتھی اور ڈپٹی رجسٹرار محمد شفیق کی فراہم کردہ فہرست کے مطابق 21 جونیئر کلرکس کو غیر قانونی طریقے سے پروموشن دے دی۔ذرائع کے مطابق اس پروموشن کے لیے ابتدائی طور پر بنائی گئی سلیکشن کمیٹی میں بطور ایکسپرٹ رجسٹرار محمد نواز شریف یونیورسٹی آف ایگریکلچر ملتان سمیہ عمبرین کو شامل کیا گیا تھا۔ تاہم انہوں نے پرو وائس چانسلر کی موجودگی میں اس کمیٹی کا حصہ بننے سے صاف انکار کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ ان کی اپنی یونیورسٹی میں اس نوعیت کی پروموشنز کے خلاف شدید احتجاج ہو چکا تھا اور انہیں غیر قانونی قرار دیا جا چکا تھا، جس کے باعث وہ اس متنازعہ عمل کا حصہ بننے سے گریزاں رہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ انکار کے بعد ڈاکٹر کلثوم پراچہ نے بطور ایکسپرٹ غیر قانونی رجسٹرار، ڈاکٹر عاصم عمر، محمد نواز شریف یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی ملتان کو سلیکشن کمیٹی میں شامل کر لیا۔ ناقدین کے مطابق ان کی تعیناتی اور عہدہ بھی کئی برسوں سے متنازعہ اور غیر قانونی قرار دیا جاتا رہا ہے اور ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ ساؤتھ پنجاب کے ایڈیشنل سیکرٹری بھی ان کی تعیناتی و پروموشنز کو غیر قانونی قرار دے چکے ہیں۔ حیران کن طور پر اس سلیکشن کمیٹی کی چیئرپرسن خود ڈاکٹر کلثوم پراچہ نے ان سلیکشن کمیٹی کی سفارشات کو بطور چئیر پرسن خود پرو وائس چانسلر ڈاکٹر کلثوم پراچہ کے پاس بھیجا۔ جس پر پرو وائس چانسلر ڈاکٹر کلثوم پراچہ نے سلیکشن کمیٹی کی چیئر پرسن ڈاکٹر کلثوم پراچہ کی سفارشات کو منظور کر لیا۔ جو کہ ایک تعلیمی نظام کے ساتھ بہت بڑا کھلواڑ ہے۔ اندرونی ذرائع کے مطابق خواتین یونیورسٹی ملتان کے 21 جونیئر کلرکس کی پروموشنز فوری طور پر منظور کر دی گئیں، جنہیں یونیورسٹی کے بعض حلقے قواعد و ضوابط کے منافی قرار دے رہے ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ معاملہ صوبائی ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کی نگرانی پر بھی سوالیہ نشان بن چکا ہے، کیونکہ مبینہ بے ضابطگیوں کے باوجود کوئی واضح کارروائی سامنے نہیں آئی۔ مزید برآں گزشتہ روز ایک اور متنازعہ واقعہ اس وقت سامنے آیا جب پنجاب حکومت کے کفایت شعاری پروگرام کے باوجود مبینہ طور پر پروموٹ ہونے والے ملازمین کو فون کر کے یونیورسٹی بلایا گیا۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ بعض ملازمین کو ہدایت دی گئی کہ وہ اپنے ساتھ آدھا کلو کے قریب پھولوں کی پتیاں لے کر آئیں۔یونیورسٹی کے اندر منعقد ہونے والی اس تقریب میں مبینہ طور پر تقریباً 15 کلو پھولوں کی پتیاں استعمال کی گئیں۔ دلچسپ امر یہ رہا کہ یونیورسٹی کے تقریباً 180 اساتذہ میں سے کوئی بھی اس تقریب میں شریک نہ ہوا۔ اسی طرح تقریباً ساڑھے تین سو افسران اور ملازمین میں سے بھی صرف 15 کے قریب پروموٹ ہونے والے افراد اور چند ڈیلی ویجز ملازمین شریک ہوئے۔ پرنسپل افسران میں سے صرف رجسٹرار ڈاکٹر دیبا شہوار نےشرکت کی کیونکہ ان کی عارضی تعیناتی ڈاکٹر کلثوم پراچہ نے کی تھی جبکہ کنٹرولر امتحانات ڈاکٹر حنا علی اور خزانچی ڈاکٹر طاہرہ یونس نے اس تقریب میں شرکت سے معذرت کر لی۔ یونیورسٹی کے اندرونی حلقوں کا کہنا ہے کہ یہ تمام معاملات ادارے کی ساکھ کے لیے سنگین سوالات کھڑے کر رہے ہیں اور مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ حکومت پنجاب اور Higher Education Department Punjab فوری طور پر اس معاملے کی شفاف تحقیقات کرائیں تاکہ مبینہ بے ضابطگیوں کی حقیقت سامنے آ سکے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں