زرعی یونیورسٹی ملتان: سیکیورٹی نظام ناکامی، نئے وی سی کو 50 لاکھ کے تار چوری کی سلامی

ملتان (سٹاف رپورٹر) محمد نواز شریف یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی ایک مرتبہ پھر شدید انتظامی بحران اور بدانتظامی کے الزامات کی زد میں آ گئی ہے۔ تازہ ترین سنسنی خیز انکشاف کے مطابق یونیورسٹی کے لاڑ کیمپس سے مبینہ طور پر تقریباً 50 لاکھ روپے مالیت کے بجلی کے تار چوری ہونے کا معاملہ سامنے آیا ہے، جس نے یونیورسٹی انتظامیہ کی کارکردگی اور سیکیورٹی نظام پر سنگین سوالات کھڑے کر دیئے ہیں۔ یہ حیران کن واقعہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب حال ہی میں یونیورسٹی میں نئے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر توصیف ایزد نے اپنی ذمہ داریاں سنبھالی ہیں۔ ذرائع کے مطابق وائس چانسلر کی تعیناتی کے فوری بعد اتنی بڑی مالی نقصان کی خبر سامنے آنا نہ صرف تشویشناک ہے بلکہ اسے یونیورسٹی کی انتظامی کمزوری یا کسی ممکنہ اندرونی سازش سے بھی جوڑا جا رہا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ یونیورسٹی کے لاڑکیمپس میں کئی سال سے سیکیورٹی کے انتظامات کمزور ہیں، تاہم اس واقعے نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ سوال یہ بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ یونیورسٹی جیسے حساس ادارے کے کیمپس سے لاکھوں روپے مالیت کی بجلی کی تاریں آخر کس طرح غائب ہو گئیں اور کسی کو بروقت علم کیوں نہ ہو سکا؟ اس پورے معاملے میں ایک اور اہم پہلو عارضی اور مبینہ طور پر غیر قانونی طور پر طویل عرصے سے تعینات رجسٹرار ڈاکٹر عاصم عمر کی کارکردگی کو قرار دیا جا رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق ڈاکٹر عاصم عمر گزشتہ ایک دہائی سے زائد عرصے سے عارضی بنیادوں پر رجسٹرار کے عہدے پر موجود ہیں جبکہ یونیورسٹی کے معاملات میں بارہا انتظامی بے ضابطگیوں کے الزامات بھی سامنے آتے رہے ہیں۔ تعلیمی و سماجی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر واقعی 50 لاکھ روپے کی بجلی کی تاریں چوری ہوئی ہیں تو یہ صرف ایک معمولی چوری نہیں بلکہ سیکیورٹی سسٹم کی مکمل ناکامی کا واضح ثبوت ہے۔ اس واقعے نے نہ صرف یونیورسٹی کی انتظامیہ بلکہ چیف سیکیورٹی آفیسر کی کارکردگی پر بھی سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ شہری اور تعلیمی حلقوں میں یہ بحث بھی جاری ہے کہ آیا یہ واقعہ محض چوری ہے، انتظامی نااہلی کا نتیجہ ہے یا پھر کسی منظم منصوبہ بندی کے تحت نئی انتظامیہ کو متنازع بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ بہر حال حقیقت کچھ بھی ہو، اس واقعے نے یونیورسٹی کی ساکھ کو شدید دھچکا پہنچایا ہے۔ مقامی حلقوں نے حکومت پنجاب اور ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ سے مطالبہ کیا ہے کہ اس معاملے کی شفاف اور اعلیٰ سطحی تحقیقات کرائی جائیں تاکہ اصل ذمہ داروں کا تعین ہو سکے اور قومی خزانے کو ہونے والے نقصان کا ازالہ کیا جا سکے۔ ساتھ ہی یہ بھی مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ یونیورسٹی میں طویل عرصے سے جاری انتظامی بے ضابطگیوں اور عارضی تعیناتیوں کا بھی فوری نوٹس لیا جائے۔ اس بارے میں موقف کے لیے نئے تعینات ہونے والے وائس چانسلر ڈاکٹر توصیف ایزد سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے کوئی جواب نہ دیا۔

شیئر کریں

:مزید خبریں