رحیم یار خان: قیامت صغریٰ، بی آئی ایس پی دکان کی چھت گرنے سے 8 خواتین جاں بحق، 76 زخمی

رحیم یارخان(بیورو رپورٹ،نمائندہ خصوصی)بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کی رقم نکلوانے کیلئے آنیوالی خواتین پر دکان کی چھت گر گئی،8خواتین موقع پر جاں بحق،76 زخمی ہوگئی،اطلاع پا کر ڈپٹی کمشنر،اسسٹنٹ کمشنر،ریسکیو 1122،پولیس اور امدادی ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں،76 زخمی خواتین کو ہسپتال منتقل کردیاگیا، افسوسناک واقعہ نواحی علاقے چک نمبر 123 کے قریب ایک مارکیٹ میں پیش آیا جہاں بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کی قسط وصول کرنے کے لیے آنے والی 200 سے زائد خواتین ریٹیلر شاپ کی چھت پر موجود تھیں۔کمشنر بہاولپور مسرت جبیں،آرپی او بہاولپور غازی صلاح الدین شیخ زید ہسپتال پہنچ گئے،زخمیوں کی عیادت اور بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت کردی،چیئرمین بی آئی ایس پی روبینہ خالد رحیم یارخان آمد متوقع،وزیر اعلیٰ پنجاب کا نوٹس،چیف سیکرٹری اور آئی جی پنجاب سے فوری رپورٹ طلب کرلی،صدر مملکت آصف علی زرداری کا سانحہ چک 123پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار۔تفصیل کے مطابق چک 123 پی میں واقع ایک دکان پر بی آئی ایس پی کی قسط وصول کرنے کے لیے خواتین کی بڑی تعداد موجود تھی کہ اسی دوران اچانک دکان کی بوسیدہ چھت گر گئی جس کے باعث درجنوں خواتین ملبے تلے دب گئیں۔ حادثے کے فوراً بعد علاقے میں کہرام مچ گیا اور مقامی افراد نے اپنی مدد آپ کے تحت امدادی کارروائیاں شروع کر دیں،اطلاع پا کر ڈپٹی کمشنررحیم یارخان،اسسٹنٹ کمشنر ،پولیس کی بھاری نفری اور ریسکیو 1122 موقع پر پہنچ گئے، باقاعدہ ریسکیو آپریشن شروع کر دیا، ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر ڈاکٹر عادل الرحمٰن کی نگرانی میں ریسکیو اہلکاروں نے ملبے تلے دبے افراد کو نکال کر فوری طبی امداد فراہم کی اور زخمیوں کو ہسپتال منتقل کیا۔ریسکیو حکام کے مطابق جاں بحق ہونے والی خواتین میں سے 6 کی میتیں شیخ زید ہسپتال منتقل کی گئیں جبکہ ساتویں جاں بحق خاتون پروین بی بی کی میت لواحقین کے اصرار پر ان کے گھر منتقل کر دی گئی۔ڈپٹی کمشنررحیم یارخان ظہیر انور جپہ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سانحہ 123 چک میں دکان کی بوسیدہ چھت گرنے سے 8 خواتین ملبے تلے دب کر جاں بحق ہوئی ہیں،جن میں 7 خواتین کی میتوں کو ہسپتال جبکہ ایک خاتون پروین بی بی کے ورثان کے اصرار پر نعش ورثاء کے حوالے کردی گئی،ریسکیو 1122 کے مطابق زخمیوں میں سے 38 افراد کو ریسکیو 1122 کی ایمبولینسوں جبکہ 37 زخمیوں کو نجی ایمبولینسوں کے ذریعے شیخ زید ہسپتال پہنچایا گیا۔سانحہ 123 چک کی اطلاع پا کر کمشنر بہاولپور مسرت جبیں،آر پی او بہاولپور غازی صلاح الدین رحیم یارخان پہنچ گئے اور شیخ زید ہسپتال کا ہنگامی بنیادوں پر دورہ کیا،سانحہ میں زخمی ہونیوالی خواتین کی عیادت کی اور ہسپتال انتظامیہ کو زخمی خواتین کو علاج معالجہ کی بہترین سہولیات فراہم کرنے کی ہدایات کیں۔چک 123 پی پیش آنیوالے سانحہ کا وزیر اعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز شریف نے نوٹس لیتے ہوئے چیف سیکرٹری پنجاب،آئی جی پنجاب سے رپورٹ طلب کرلی ہے،رحیم یارخان میں پیش آنیوالے المناک حادثےپرصدرِ مملکت آصف علی زرداری کا رحیم یار خان میں ایک نجی ادائیگی مقام پر پیش آنے والے افسوسناک حادثے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار،حادثے کے نتیجے میں جاں بحق اور زخمی ہونے والوں میں دیگر خواتین کے ساتھ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کی مستحق خواتین بھی موجود تھیں،صدرِ مملکت نے جاں بحق خواتین کے لواحقین سے دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کی،صدرِ پاکستان نے ہدایت کی کہ زخمیوں کو ہر ممکن طبی سہولیات فراہم کی جائیں اور متاثرہ خاندانوں سے ہر ممکن تعاون کیا جائے،صدرِ مملکت نے چیئرپرسن بینظیر انکم سپورٹ پروگرام سینیٹر روبینہ خالد کو فوری طور پر رحیم یار خان پہنچنے کی ہدایت کی،صدرِ مملکت نے متعلقہ حکام کو واقعے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لے کر رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی تاکہ آئندہ ایسے واقعات سے بچاؤ کے لیے ضروری اقدامات یقینی بنائے جا سکیں۔
صدر آصف علی زرداری کی ہدایت پر سینیٹر روبینہ خالد بی آئی ایس پی ہیڈکوارٹرز سے اعلیٰ سطحی کمیٹی تحقیقات کے لیے رحیم یار خان پہنچ گئیں۔کمیٹی24گھنٹوں میں واقعے کی تفصیلی رپورٹ پیش کرے گی۔ ممکنہ غفلت پر متعلقہ پارٹنر بینک کو نوٹس جاری کر دیا گیا،سینٹر روبینہ خالدنےکہاکہ پارٹنر بینک پر بھاری جرمانہ بھی عائد کیاجارہاہے، جاں بحق خواتین کےلواحقین کو10لاکھ روپے مالی امداد دی جائے گی، زخمی خواتین کو 3 لاکھ روپے مالی امداد دی جائےگی،۔ بی آئی ایس پی کی جانب سے امدادی ادائیگیاں آج تک مکمل کردی جائیں گی۔

بہاولپور : امداد حاصل کر نیوالی خواتین کی سکیورٹی اور سہولیات پر سنگین سوالات

بہاولپور (کرائم سیل رپورٹ)جنوبی پنجاب کے ضلع رحیم یار خان میں(بی آئی ایس پی) کی امداد لینے کے لیے آنے والی خواتین پر چھت گرنے کے افسوسناک واقعے میں آٹھ خواتین کی ہلاکت نے جہاں پورے خطے میں شدید تشویش کی لہر دوڑا دی ہے وہیں پر اس سانحے کے بعد ضلع بہاولپور میں بھی بی آئی ایس پی امداد حاصل کرنے والی خواتین کی سکیورٹی اور سہولیات پر سنگین سوالات اٹھنا شروع ہو گئے ہیں۔ذرائع کے مطابق بہاولپور کے مختلف علاقوں میں قائم بی آئی ایس پی ادائیگی پوائنٹس اور ڈیوائس ہولڈرز کے مراکز پر نہ تو مناسب سکیورٹی انتظامات موجود ہیں اور نہ ہی خواتین کے لیے بنیادی سہولیات فراہم کی گئی ہیں۔ قائداعظم کالونی، ریلوے اسٹیشن کے اطراف، کوٹ عباسیہ ٹاؤن، کرنا بستی، حمائتیاں، ٹبہ بدر شیر اور دیگر مضافاتی علاقوں میں روزانہ سینکڑوں بلکہ ہزاروں خواتین امداد حاصل کرنے کے لیے طویل قطاروں میں کھڑی رہتی ہیں۔عینی شاہدین اور متاثرہ خواتین کا کہنا ہے کہ کئی مقامات پر خواتین کھلے آسمان تلے شدید گرمی یا خراب موسم میں گھنٹوں انتظار کرنے پر مجبور ہوتی ہیں۔ بیٹھنے کی مناسب جگہ، سایہ، پینے کے پانی اور ہنگامی طبی سہولیات کا بھی فقدان ہے۔ انتظامی نااہلی اور عدم توجہ کے باعث یہ مراکز کسی ممکنہ حادثے کی صورت میں بڑے سانحے کا پیش خیمہ بن سکتے ہیں۔متاثرہ خواتین نے الزام عائد کیا ہے کہ بعض ڈیوائس ہولڈرز کی جانب سے امدادی رقم میں ناجائز اور غیر قانونی کٹوتیاں بھی کی جاتی ہیں۔ اس کے علاوہ جنوبی پنجاب کے مختلف اضلاع میں امدادی رقم کے ساتھ نقلی نوٹ دینے کے واقعات بھی سامنے آ چکے ہیںجنہوں نے غریب خواتین کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں