ملتان (سٹاف رپورٹر) شدید مالی بحران، تنخواہوں کی ادائیگی میں مشکلات اور حکومتی کفایت شعاری پالیسی کے باوجود زکریا یونیورسٹی میں لگژری گاڑیوں کی خریداری کا متنازع معاملہ سامنے آ گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر زبیر اقبال غوری نے اپنے استعمال کے لیے تقریباً سوا کروڑ روپے مالیت کی ہیول (HAVAL) گاڑی اور 65 لاکھ مالیت کی 1500 سی سی ٹویوٹا یارس خریدنے کی منظوری حاصل کر لی ہے جس نے تعلیمی و انتظامی حلقوں میں تشویش پیدا کر دی ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ منظوری یونیورسٹی کی فنانس اینڈ پلاننگ کمیٹی کے اجلاس میں دی گئی تاہم اسے اس شرط سے مشروط کیا گیا کہ پہلے اس معاملے کو پنجاب فنانس ڈیپارٹمنٹ سے منظوری کے لیے بھیجا جائے گا۔ اجلاس میں یونیورسٹی کے متعدد اہم اراکین موجود تھے جن میں آئی ایم ایس کے پروفیسر ڈاکٹر محمد نعمان عباسی، کامرس کے ڈاکٹر آصف یاسین، ایجوکیشن کی ڈاکٹر عائشہ ذوالفقار اور اکیڈمک اسٹاف ایسوسی ایشن کے نمائندہ و صدر ڈاکٹر محمد بن یامین شامل تھے۔ مگر یونیورسٹی کی بگڑتی معاشی صورتحال کے باوجود کسی بھی رکن نے کھل کر اس اقدام کی مخالفت نہ کی۔ یونیورسٹی کے اندرونی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ اس خاموشی کو بعض حلقے وائس چانسلر اور اکیڈمک اسٹاف ایسوسی ایشن کے درمیان مبینہ مفاہمت یا ’’دو طرفہ سہولت کاری‘‘کی پالیسی کا نتیجہ قرار دے رہے ہیںجس کے باعث اس متنازع فیصلے پر کھل کر اعتراض سامنے نہیں آ سکا۔ یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ حال ہی میں جاری ہونے والے فنانس اینڈ پلاننگ کمیٹی کے منٹس میں گاڑیوں کی خریداری کو شرطیہ منظوری دی گئی ہےحالانکہ حکومت کی جانب سے سخت کفایت شعاری مہم جاری ہے۔ حکومتی سطح پر بھی اس معاملے کو متنازع سمجھا جا رہا ہے کیونکہ وزیراعظم پاکستان اور وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے کفایت شعاری پروگرام کے تحت سرکاری اداروں میں لگژری گاڑیوں کی خریداری اور غیر ضروری اخراجات پر پابندی عائد کی جا چکی ہے۔ یاد رہے کہ اس سے قبل یونیورسٹی کی سنڈیکیٹ میں بھی لگژری گاڑیوں کی خریداری کا ایجنڈا پیش کیا گیا تھا۔ اس موقع پر وائس چانسلر نے موقف اختیار کیا تھا کہ جب وزیراعلیٰ پنجاب ملتان آتی ہیں تو یونیورسٹی کے پاس ان کے پروٹوکول کے لیے مناسب گاڑیاں موجود نہیں۔ ذرائع کے مطابق اس جواز کے تحت دو لگژری گاڑیوں کی خریداری پر کروڑوں روپے خرچ کرنے کی تجویز پیش کی گئی تھی جس پر سنڈیکیٹ کے ایک رکن نے سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا تھا کہ ایک طرف آپ کہتے ہیں کہ یونیورسٹی کے پاس تنخواہیں دینے کے پیسے نہیںاور دوسری طرف لگژری گاڑیاں خریدنے کی بات کرتے ہیں۔ ہم اس ایجنڈے کو مسترد کرتے ہیں۔اس کے بعد سنڈیکیٹ کے دیگر ممبران نے بھی متفقہ طور پر اس ایجنڈے کو مسترد کر دیا تھا۔ قانونی و انتظامی ماہرین کے مطابق اگر سنڈیکیٹ کسی ایجنڈے کو مسترد کر دے تو اسے دوبارہ کسی اور کمیٹی میں پیش کرنے کے بجائے چانسلر کو اپیل کے طور پر بھیجا جاتا ہے۔ تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ اس اصول کو نظرانداز کرتے ہوئے اسی نوعیت کے ایجنڈے کو دوبارہ فنانس اینڈ پلاننگ کمیٹی میں پیش کر کے منظوری حاصل کر لی گئی۔ اجلاس میں موجود پنجاب فنانس ڈیپارٹمنٹ کے نمائندہ عارف خان نے اس پر اعتراض کرتے ہوئے واضح کیا کہ گاڑیوں کی خریداری سے قبل فنانس ڈیپارٹمنٹ پنجاب سے باقاعدہ اجازت لینا ضروری ہو گا اور پہلے موجودہ گاڑیوں کی مرمت کے امکانات کا جائزہ لینا چاہیے۔ اسی دوران ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے ایڈیشنل سیکرٹری جعفر علی خان نے یہ تجویز بھی دی کہ حکومت پنجاب کی پالیسی کے مطابق الیکٹرک گاڑیوں کی خریداری کے آپشن پر غور کیا جا سکتا ہے۔ ذرائع کے مطابق اجلاس میں دفتری استعمال کے لیے Deepal S05، Haval H6 1.5 FWD، Haval H6 HEV اور Jaecoo J5 (Premium) جبکہ آپریشنل استعمال کے لیے Toyota Yaris 1.5 CVT اور Honda City 1.5 LS CVT خریدنے کی تجویز دی گئی، جن کی مجموعی مالیت کروڑوں روپے بتائی گئی ہے۔ واضح رہے کہ بہاالدین زکریایونیورسٹی پہلے ہی کروڑوں روپے کے مالی خسارے کا سامنا کر رہی ہے اور انتظامیہ متعدد مواقع پر مالی مشکلات کا ذکر کر چکی ہے۔ ایسے میں کروڑوں روپے کی نئی گاڑیوں کی خریداری کا معاملہ نہ صرف تعلیمی حلقوں بلکہ انتظامی و عوامی سطح پر بھی شدید تنقید کا باعث بن رہا ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر واقعی یونیورسٹی مالی بحران کا شکار ہے تو لگژری گاڑیوں کی خریداری کی ضد کیوں؟ اور اگر سنڈیکیٹ اسے مسترد کر چکی ہے تو اسے کسی اور فورم سے منظور کروانا ادارہ جاتی نظام اور قواعد و ضوابط پر سنگین سوالات کھڑے کرتا ہے۔ تعلیمی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ اس معاملے کی شفاف تحقیقات کر کے یہ واضح کیا جائے کہ یونیورسٹی کے محدود وسائل تعلیمی بہتری پر خرچ ہو رہے ہیں یا انتظامی آسائشوں پرخرچ ہورہےہیں۔







