مظفرگڑھ ( بیورورپورٹ )محکمہ تعلیم مظفرگڑھ میں کروڑوں کی مالی بے ضابطگیوں کے پیچھےکا ماسٹر مائنڈ محفوظ،نہ تجربہ کار سابقہ سی ای او پر الزامات کی بوچھاڑ،ماسٹر مائنڈ کی اب بھی پانچوں انگلیاں گھی میں دستار بھی محفوظ،سب کا روٹین زور و شور سے جاری تفصیلات کے مطابق ساؤتھ سیکرٹریٹ ملتان سے مظفرگڑھ محکمہ تعلیم میں ایجوکیشن افیسر تعینات ہونے والے محمد اکبر نے ہیڈ مسٹریس گرلز ہائی سکول خان پور بگا شیر سے سی ای او مظفرگڑھ تعینات ہونے والی طاہرہ حبیب کو کام کی روٹین اور آفس کے حوالے سے کام میں مددگار ثابت ہو کر بہت جلد سابقہ سی ای او کا اعتماد حاصل کر لیا تھااور اسی اعتماد کے صلے میں محکمہ تعلیم مظفرگڑھ کی تاریخ میں پہلی مرتبہ تین اہم عہدے بیک وقت حاصل بھی کر لیے۔جن میں 1-اسسٹنٹ ڈائریکٹر جنرل 2-اسسٹنٹ ڈائریکٹر پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ 3-اسسٹنٹ ڈائریکٹر اکاؤنٹس اینڈ فنانس شامل تھے۔عہدے ہاتھ میں اتے ہی محمد اکبر نے حقیقی ٹینڈرز اور حقیقی ٹھیکیدار ان کو نو دو 11 کر دیا اور سابقہ سی ای او طاہرہ حبیب کا اعتماد جیت کر تمام ٹینڈرز اپنے ہاتھ میں لے لیے اور من پسند فرموں کو ٹھیکوں سے نوازا گیا۔باوثوق ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ کئی مختلف فرمیں محمد اکبر اسسٹنٹ ڈائریکٹر کی پشت پناہی میں چل رہی ہیں اور ان کے سرپرست محمد اکبر خود ہی ہیں۔محکمہ تعلیم مظفرگڑھ نے 210 سکولوں کو ای سی سی ای کٹ اور فرنیچر مہیا کرنے کے ٹینڈر دیے۔ای سی سی ای کٹ(ایرلی چائلڈ کیئر ایجوکیشن کٹ) کا کروڑوں کا ٹھیکہ من پسند فرموں کو دیا گیا اس ٹھیکے کی باز گشت آج کل انکوائریوں کی صورت میں سنائی دے رہی ہے۔جب کہ دیگر ٹھیکوں میں محکمہ تعلیم مظفرگڑھ میں موجود تینوں دفاتر کے تزین و ارائش،فواروں اور لائٹنگ کا ٹھیکہ،محکمہ تعلیم افس میں موجود شاندار پارکنگ شیڈ کو دوبارہ اسی مٹیریل سے بنا کر ایک 50 لاکھ کا نئے ٹھیکے کا جواز پیدا کیا گیا اور دیگر کئی مندرجات میں محکمہ تعلیم کو ناقص مٹیریل فراہم کر کے حکومت کو کروڑوں کا چونا لگایا جا چکا ہے۔یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ محمد اکبر اسسٹنٹ ڈائریکٹر محکمہ تعلیم مظفرگڑھ کے پاس پورے ضلع میں اپنی فرموں کی ایک چین موجود ہے جنہیں تمام قوانین کو روند کر نوازا جا رہا ہے۔







