ملتان(یوسف عابد سے)عالمی یوم تحفظ صارفین آج 15 مارچ کو منایا گیا، تاہم ملک بھر کی طرح صوبہ پنجاب میںبھی ناقص اشیاء کی بھرمار، اور غیر معیاری خدمات پر سینکڑوں سوالیہ نشان ہونے کے باوجود شکایات ناپید ہونے کی وجہ سے پنجاب میں صارفین کے تحفظ کا نظام ناکامی کا شکار ہو گیا۔ حکومت پنجاب کی جانب سے 20 برسوںمیں تقریبا 10ارب روپے سے زائد کی رقم خرچ کرنے کے باوجود غیر معیاری اور ناقص اشیاء و خدمات کے خلاف عوامی شعور مکمل طور پر بیدار نہیںہو سکا، تحفظ صارفین کی بیداری شعور میںکمی کی وجہ سے حکومت کو صارف عدالتیںتک بند کرنا پڑ گئیں، جس کی وجہ سے صارفین کی شکایات پر انصاف کی فراہمی التواء کا شکار ہونا شروع ہو گئی.پنجاب میں صارفین کے حقوق کے تحفظ کے لیے دو دہائی قبل بڑے دعوؤں کے ساتھ قائم کیا گیا نظام اب خود سوالات کی زد میں آ چکا ہے۔ پنجاب کنزیومر پروٹیکشن ایکٹ 2005ء کے تحت صوبے بھر میں صارف عدالتیں اور کنزیومر پروٹیکشن کونسلز قائم کی گئیں تاکہ عوام کو ناقص اشیاء، جعلی مصنوعات اور غیر معیاری خدمات کے خلاف فوری انصاف مل سکے، تاہم 20 سال گزرنے کے باوجود نہ تو عوامی شعور بیدار ہو سکا اور نہ ہی مقدمات کی تعداد اس نظام کے اخراجات کا جواز بن سکی۔سرکاری دستاویزات کے مطابق گزشتہ دو دہائیوں میں صارف عدالتوں و پروٹیکشن کونسلز کے ججز، افسران عملے اور یوٹیلیٹی اخراجات کی مد میں 10 ارب روپے سے زائد خرچ کیے جا چکے ہیں، مگر مقدمات کی تعداد محدود رہی۔ اسی بنیاد پر حکومت پنجاب کو تجویز دی گئی ہے کہ صوبے کے 17 اضلاع میں قائم صارف عدالتیں ختم کر دی جائیں۔پرائس کنٹرول اینڈ کموڈٹی کنٹرول ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے حکومت کو ارسال سمری میں لاہور، گوجرانوالہ، گجرات، سیالکوٹ، راولپنڈی، سرگودھا، فیصل آباد، ساہیوال، ملتان، ڈیرہ غازی خان، بہاولپور، رحیم یار خان، بہاولنگر، لیہ، بھکر، میانوالی اور منڈی بہاؤالدین میں قائم صارف عدالتیں بند کرنے کی سفارش کی گئی کیونکہ سمری کے مطابق صرف گزشتہ تین مالی برسوں سال 2022 سے 2025ءمیں صوبہ بھر کی صارف عدالتوں میں مجموعی طور پر 8381 مقدمات دائر ہوئے، جن پر 98 کروڑ 19 لاکھ روپے سے زائد اخراجات آئے۔ اس طرح ایک مقدمہ پر اوسطاً ایک لاکھ 17 ہزار روپے سے زیادہ لاگت آئی، جسے سرکاری خزانے پر بھاری بوجھ قرار دیا گیا۔ جس پر پنجاب اسمبلی کی جانب سے پنجاب تحفظ صارفین (ترمیمی) ایکٹ 2025ء کی منظوری اور نوٹیفکیشن کے بعد لاہور ہائیکورٹ نے صارف عدالتوں کے مقدمات ضلعی و سیشن عدالتوں کو منتقل کرنے کا حکم جاری کر دیا ۔ جس کے بعد سے اب ہر ضلع میں ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججز کو کنزیومر کورٹس کے اختیارات حاصل ہوگئے ہیں۔ ہر ضلع کا سیشن جج صارف عدالت کا انتظامی جج ہے اور وہ نئے و پرانے مقدمات مختلف ججز کو تفویض کر سکتا ہے۔اس تبدیلی کے بعد ملتان سمیت کئی اضلاع میں سابقہ صارف عدالتوں کے مقدمات سیشن عدالتوں کو منتقل کر دئیے گئے ہیں۔ ملتان کی صارف عدالت کے 130 سے زائد کیسز ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججز کو منتقل کیے گئے ہیں۔قانونی ماہرین کے مطابق صارف عدالتوں کے کم استعمال کی بڑی وجہ عوام میں آگاہی کی کمی ہے۔ بیشتر شہری ناقص اشیاء، جعلی برانڈز یا غیر معیاری خدمات کے خلاف شکایت درج کرانے کے بجائے خاموشی اختیار کر لیتے ہیں۔بازاروں میں آج بھی مقامی طور پر تیار کردہ اور بیرون ممالک سے منگوائی گئی بغیر وارنٹی و گارنٹی اشیاء کی فروخت، جعلی برانڈز اور غیر معیاری مصنوعات عام ہیں، جبکہ ڈاکٹرز، باربرز، بیوٹی سیلونز، مکینکس، ٹیلی کمیونیکیشن، انٹرنیٹ اور دیگر سروس فراہم کرنے والوں کے خلاف بھی عوامی شکایات موجود ہیں، مگر باضابطہ مقدمات کی صورت شکایات بہت کم درج ہوتی ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک طرف حکومت صارفین کو ان کے حقوق سے آگاہ کرنے میں ناکام رہی، تو دوسری جانب صارفین بھی اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے عدالتوں سے رجوع کرنے میں سنجیدہ نظر نہیں آتے۔قانونی حلقوں کے مطابق صارف عدالتوں کو ختم کر کے مقدمات سیشن عدالتوں میں منتقل کرنے سے خدشہ ہے کہ پہلے ہی مقدمات کے بوجھ تلے دبی عدالتوں میں یہ کیسز مزید سست روی کا شکار ہو سکتے ہیں۔ تاہم حکومتی حلقے اسے انصاف کو عوام کے قریب لانے اور عدالتی نظام کو مؤثر بنانے کی کوشش قرار دے رہے ہیں۔ماہرین کے مطابق اصل مسئلہ صرف عدالتوں کا نہیں بلکہ صارفین کے حقوق کے پورے نظام کی کمزوری ہے۔ جب تک عوامی آگاہی، مؤثر نگرانی اور مارکیٹ میں جعلی و ناقص اشیاء کے خلاف سخت کارروائی نہیں کی جائے گی، اس وقت تک صارفین کے تحفظ کا نظام محض کاغذی قانون ہی رہے گا۔







