جنوبی پنجاب: مستحق خواتین کے حق پر ڈاکا، کٹوتیوں کے بعد جعلی نوٹ دینے کا خوفناک انکشاف

ڈیرہ غازیخان،بہاولپور،احمدپورشرقیہ،کوٹ چھٹہ، خیرپورسادات (بیوروچیف،ڈپٹی بیورو چیف، کرائم سیل رپورٹ،ڈسٹرکٹ رپورٹر،تحصیل رپورٹر، سپیشل رپورٹر،لیڈی رپورٹر،کرائم سیل،نامہ نگار)بینظیرانکم سپورٹ پروگرام میں مستحق خواتین کی رقوم سے کٹوتیوں کے بعدایک اوربڑافراڈبے نقاب،مبینہ طورپر48لاکھ مالیت کے جعلی نوٹ مستحقین میں تقسیم کردئیے گئے۔تفصیل کے مطابق ڈیرہ غازی خان سے بیوروچیف، ڈپٹی بیوروچیف،ڈسٹرکٹ رپورٹرکے مطابق BISP ڈیلر شرجیل عالم کی جانب سے درج کرائی گئی درخواست میں بتایا گیا کہ کوٹ چھٹہ میں ریٹیلر نواز میرانی، فرنچائزی مہر عثمان اور عروش بلوچ نے ادائیگی کے دوران 48 لاکھ روپے میں سے 35 لاکھ روپے کی جعلی کرنسی خواتین میں تقسیم کر دی۔ بعد ازاں ٹرانزیکشن لاگ کے معائنے سے کم از کم 13 لاکھ 50 ہزار روپے کی جعلی رقم کی تصدیق ہو گئی۔پولیس نے فوری نوٹس لیتے ہوئے ملزمان نواز میرانی، لطیف میرانی، مہر عثمان، عروش بلوچ اور فہیم عباس کے خلاف تعزیرات پاکستان کی دفعات 489B، 489C، 406، 468، 420 اور 34 کے تحت مقدمہ درج کر لیا ہے۔ تفتیشی ذرائع کے مطابق حق نواز، لطیف میرانی اور مہر عثمان کو گرفتار کر لیا گیا ہے جبکہ دیگر ملزمان کی تلاش جاری ہے۔ابتدائی تحقیقات کے مطابق ریٹیلر محمد نواز اپنی دکان “نواز کریانہ اسٹور” پر موبائل ڈیوائس (آئی ڈی فون نمبر 03457142547) کے ذریعے مستحق خواتین کو ادائیگیاں کر رہا تھا۔ تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا کہ مبینہ طور پر جعلی کرنسی فرنچائزی مہر محمد عثمان اور عروش بلوچ کی جانب سے فراہم کی گئی تھی، جنہوں نے تقریباً 48 لاکھ 50 ہزار روپے کی رقم دی جس میں جعلی نوٹ بھی شامل تھے۔ڈسٹرکٹ ڈائریکٹر شرجیل عالم کے مطابق اب تک دس متاثرہ خواتین کے بیانات ریکارڈ کیے جا چکے ہیں جن میں مصباح بشیر، منصب مائی، شازیہ بی بی، سمعیہ بی بی، بختاور بی بی، سعیدہ بی بی، تاج بی بی، شمشاد بی بی، زبیدہ بی بی اور ایک اور خاتون شامل ہیں۔ ان خواتین کو مجموعی طور پر ایک لاکھ 30 ہزار 500 روپے کے جعلی نوٹ دیے جانے کی تصدیق ہو چکی ہے۔مزید تحقیقات سے انکشاف ہوا ہے کہ ریٹیلرز اور فرنچائزرز مبینہ طور پر ملی بھگت سے تقریباً 35 لاکھ روپے کی رقم تقسیم کر چکے تھے۔ بی آئی ایس پی حکام تمام بینیفشری خواتین سے رابطے میں ہیں جبکہ ٹیمیں گھروں پر جا کر بھی معلومات اکٹھی کر رہی ہیں۔ ٹرانزیکشن لاگز کے ذریعے مزید متاثرہ خواتین کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔پولیس تھانہ جھوک اترا کی تفتیش میں یہ اہم انکشاف بھی سامنے آیا ہے کہ مہر محمد عثمان اور عروش بلوچ کے نام الفلاح بینک کی فراہم کردہ زونل لسٹ میں شامل ہی نہیں ہیں۔ بینک ریکارڈ کے مطابق اصل فرنچائزر فہیم عباس ہے جو “فہیم موبائل سنٹر” کے نام سے رجسٹرڈ ہے جبکہ ریٹیلر محمد نواز ہے۔ نظام کے مطابق فرنچائزر براہ راست بینک سے رقم حاصل کر کے ریٹیلرز کو فراہم کرتا ہے۔ڈسٹرکٹ ڈائریکٹر شرجیل عالم کے مطابق اس واقعے نے جعلی کرنسی پھیلانے والے ایک مبینہ نیٹ ورک کو بھی بے نقاب کر دیا ہے اور شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ بینک کا کچھ عملہ بھی اس گھناؤنے دھندے میں ملوث ہو سکتا ہے، جس کی تحقیقات جاری ہیں۔ دوسری جانب ریٹیلر نواز میرانی نے اس معاملے میں اپنے اوپر عائد الزامات کی تردید کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ انہیں یہ رقم فرنچائزر کی جانب سے فراہم کی گئی تھی اور انہیں اس بات کا علم نہیں تھا کہ نوٹ جعلی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جب انہیں معاملے کا علم ہوا تو انہوں نے خود فرنچائزر کے خلاف درخواست جمع کرا دی اور موقف اختیار کیا کہ انہیں دھوکہ دیا گیا ہے۔ ریٹیلر کے مطابق اس معاملے میں ان کا کوئی قصور نہیں ہے اور وہ خود بھی اس دھوکہ دہی کا شکار ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ اس واقعے کی مکمل تحقیقات کی جائیں تاکہ اصل ذمہ داروں کو سامنے لایا جا سکے۔ڈیرہ غازی خان اور گرد و نواح میں بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کی قسطوں میں مبینہ کٹوتیوں کا سلسلہ شدت اختیار کر گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق مستحق خواتین سے فی کس پندرہ سو روپے سے زائد رقم کاٹنے کی شکایات سامنے آ رہی ہیں جس سے غریب اور نادار خاندان شدید پریشانی کا شکار ہیں۔ذرائع کے مطابق ڈیرہ غازی خان کے ساتھ ساتھ کوٹ چھٹہ، چوٹی زیریں اور شاہ صدر دین کے علاقوں میں بھی اکاؤنٹس مبینہ طور پر ملی بھگت سے کھولے جاتے ہیں جبکہ بعض مقامات پر مستحقین کو رقم نکلوانے کیلئے اضافی پیسے دینے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ادھر فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) کے ڈپٹی ڈائریکٹر احمر سندھو کی سربراہی میں ان مبینہ کرپشن کیسز کے خلاف کارروائیوں کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق ایف آئی اے کی جانب سے معلومات اکٹھی کی جا رہی ہیں اور جلد مزید انکشافات اور کارروائیوں کا امکان ہے۔خیرپورسادات سےنامہ نگار کے مطابق ضلع مظفرگڑھ کی تحصیل علی پور اور جتوئی سمیت مختلف علاقوں میں بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کی نئی قسط پیر سے جاری کی جا رہی ہے۔ ذرائع کے مطابق اس بار بھی ادائیگیاں معمول کے مطابق نامزد شاپس اور ریٹیلرز کے ذریعے کی جائیں گی۔مستحق خواتین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ماضی کی طرح اس بار بھی بعض ریٹیلرز اور ان کے ایجنٹ رقم کی ادائیگی کے دوران غیر قانونی کٹوتیاں کر سکتے ہیں۔ حال ہی میں جاری ہونے والی قسط کے دوران بھی متعدد مستحقین نے شکایت کی تھی کہ ریٹیلرز نے ان کی رقم میں سے ناجائز کٹوتی کی، تاہم اس حوالے سے کسی بڑی کارروائی کی اطلاعات سامنے نہیں آئیں۔احمدپورشرقیہ سےکرائم سیل کے مطابق تحصیل احمدپورشرقیہ میں بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کی امدادی رقم وصول کرنے والی غریب اور مستحق خواتین کی رقم پر ہاتھ صاف کرنے کا انکشاف سامنے آنے کے بعد شہری حلقوں میں شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق تحصیل بھر میں چند مخصوص پوائنٹس اور ڈیوائسز کو ہی فعال رکھنے کا مبینہ منصوبہ ترتیب دیا گیا جس کے باعث دور دراز سے آنے والی خواتین کو گھنٹوں قطاروں میں کھڑے رہنے اور ذلت و خواری کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔اطلاعات ہیں کہ امدادی رقم نکلوانے کے لیے آنے والی خواتین سے ایک ہزار سے پندرہ سو روپے تک کی کٹوتی کی جا رہی ہے جبکہ بعض مقامات پر یہ کٹوتی اس سے بھی زیادہ بتائی جا رہی ہے۔بہاولپور سےسپیشل رپورٹرکے مطابق بہاولپور کے مختلف علاقوں، جن میں عباسیہ ٹاؤن، حسینی چوک، میلا گلی، شاہدرہ، قائد اعظم کالونی، مسلم ٹاؤن، بستی آگرہ، کوپال اور بٹھہ نمبر 1 شامل ہیں،یہاں پر ایک منظم نیٹ ورک سرگرم ہے جو خواتین کو ملنے والی امدادی رقم میں غیر قانونی کٹوتیاں کر کے روزانہ لاکھوں روپے سمیٹ رہا ہے مقامی افراد کا کہنا ہے کہ مستحق خواتین کو مکمل رقم دینے کے بجائے مختلف حیلوں بہانوں سے رقم کا حصہ روک لیا جاتا ہے اور کئی خواتین مجبوری کے باعث خاموشی اختیار کرنے پر مجبور ہو جاتی ہیں متاثرہ لوگوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ حالیہ میں پنجاب حکومت کی جانب سے 10 ہزار روپے کی امدادی رقم سے بھی500 سو سے 1000 ہزار روپے تک کی کٹوتیاں کی گئیں۔بہاولپور سےکرائم سیل،لیڈی رپورٹر کے مطابق بہاولپور ریلوے اسٹیشن کے قریب واپڈا گرڈ کے سامنے بھانہ والی گلی میں قائم فیضان کریانہ سٹور پر بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کی امدادی قسط سے مبینہ طور پر مستحق خواتین سے 1000 سے 2000 روپے تک غیر قانونی کٹوتی کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔ذرائع اور متاثرہ خواتین کے مطابق ریٹیلر فیضان اور اس کا ساتھی رضوان قسط وصول کرنے کیلئے آنے والی خواتین سے پہلے ہی شناختی کارڈ جمع کر لیتے ہیں اور جن خواتین سے کٹوتی کی ڈیل طے ہوتی ہے صرف انہی کو رقم دی جاتی ہے۔اگر کوئی مستحق خاتون کٹوتی سے انکار کرے تو اس کا شناختی کارڈ واپس کر کے یہ کہہ دیا جاتا ہے کہ فنگر پرنٹس میچ نہیں ہو رہے۔متاثرہ خواتین کا کہنا ہے کہ بعض خواتین صبح سے شام تک اپنی باری کا انتظار کرتی رہتی ہیں۔مگر کٹوتی نہ کروانے کی صورت میں انہیں رقم نہیں دی جاتی۔ایک خاتون نے احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ اگر قسط بغیر کٹوتی کے ادا نہ کی گئی تو وہ اس کی شکایت کرے گی۔جس پر مبینہ طور پر بدتمیز ریٹیلر فیضان نے غصے میں جواب دیا کہ جس کو چاہو شکایت کر دو ہمارا کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔کیونکہ کٹوتی کا حصہ ایمانداری سے اوپر تک پہنچایا جاتا ہے جس وجہ سے ہمارے خلاف کسی قسم کی کوئی کارروائی نہیں ہوتی بلکہ وہی اہلکار ہمیں پہلے آگاہ کر دیتے ہیں کہ تمہاری شکایت آئی ہے جس پر ریٹیلر فیضان خود کوبچاتے ہوئے رفوچکر ہو جاتا ہے۔خواتین کا کہنا تھا کہ اگر کوئی شکایت کرنے کی کوشش کرے تو ریٹیلر ڈیوائس کے سگنل نہ آنے کا بہانہ بنا کر موقع سے غائب ہو جاتے ہیں۔انہوںنے مزید بتایا کہ ان کے ویڈیو بیانات بطور ثبوت موجود ہیں جو متعلقہ حکام کو واٹس ایپ کے ذریعے بھی فراہم کیے جا سکتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ اگر اس معاملے پر فوری کارروائی نہ کی گئی تو یہ غریب مستحق خواتین کے حقوق پر ڈاکہ ڈالنے کے مترادف ہوگا۔

#BISP #BISPScandal #BenazirIncomeSupportProgram #FakeCurrencyCase #PakistanCorruption #PunjabCrime #DGKhanNews #BahawalpurNews #AhmadpurEast

شیئر کریں

:مزید خبریں