ملتان (سٹاف رپورٹر) بہا الدین زکریا یونیورسٹی ملتان کی فنانس اینڈ پلاننگ کمیٹی کے سال 2026 کے پہلے اجلاس میں یونیورسٹی کے مالی و انتظامی معاملات سے متعلق متعدد اہم فیصلے اور سفارشات سامنے آگئیں۔ اجلاس میں وائس چانسلر سمیت ہائر ایجوکیشن کمیشن اور پنجاب حکومت کے نمائندوں سمیت مختلف فیکلٹی ممبران نے شرکت کی۔ اجلاس میں قومی اور بین الاقوامی تحقیقی منصوبوں سے حاصل ہونے والے اوورہیڈ یا بالواسطہ اخراجات کی تقسیم کے حوالے سے ایک اہم تجویز زیر غور آئی۔ اس تجویز کے مطابق یونیورسٹی میں مختلف انتظامی دفاتر کو تحقیقاتی منصوبوں کے انتظامی اخراجات کے عوض مخصوص شرح سے حصہ دینے کی سفارش کی گئی تھی۔ مجوزہ فارمولے کے مطابق سنٹرل یونیورسٹی سپورٹ کے لیے 20 فیصد، آفس آف ریسرچ اینڈ کمرشلائزیشن اور بزنس انکیوبیشن سینٹر کے لیے 10،10 فیصد، وائس چانسلر آفس کے لیے 35 فیصد جبکہ رجسٹرار، خزانچی اور ریزیڈنٹ آڈیٹر کے دفاتر کے لیے بالترتیب 10،10 اور 5 فیصد حصہ تجویز کیا گیا تھا۔ تاہم اجلاس میں اس تجویز پر شدید بحث ہوئی۔ کمیٹی کے بعض ارکان نے نشاندہی کی کہ موجودہ پالیسی کے مطابق اوورہیڈ فنڈز کو اعزازیہ یا وظیفوں کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ ہائرایجوکیشن کی نمائندہ ڈائریکٹر فنانس ثمینہ درانی نے موقف اختیار کیا کہ تحقیقی گرانٹس سے متعلق مالیاتی قواعد کے تحت قومی منصوبوں کے اوورہیڈ اخراجات کو انتظامی اخراجات میں شامل نہیں کیا جا سکتا، لہٰذا اس معاملے میں واضح پالیسی درکار ہے۔ ارکان کی مختلف آراء کے باعث کوئی حتمی اتفاق رائے نہ ہو سکا اور معاملہ مزید غور و خوض کے لیے مؤخر کرتے ہوئے اس کی تفصیلات سٹریٹجک پلاننگ کمیٹی کو بھیجنے کی تجویز دی گئی۔ اجلاس میں سٹریٹجک پلاننگ کمیٹی کے 16 جنوری کے اجلاس کے منٹس بھی زیر بحث آئے جس میں مختلف شعبہ جات سے 20 اسسٹنٹ پروفیسرز کی اسامیوں کو ان شعبوں میں منتقل کرنے کی سفارش کی گئی تھی جہاں اساتذہ کی کمی ہے۔ پنجاب حکومت کے ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے نمائندے جعفر علی خان نے اس اقدام کے جواز پر سوال اٹھایا اور کہا کہ سرکاری محکموں میں بھی کئی اسامیاں طویل عرصے تک ترقی کے بغیر رہتی ہیں۔ تاہم اکیڈمک اسٹاف ایسوسی ایشن کے نمائندے ڈاکٹر محمد بنیامین نے موقف اختیار کیا کہ متعدد لیکچررز پی ایچ ڈی مکمل کر چکے ہیں اور ترقی کے لیے اہل ہیں، اس لیے انہیں اگلے گریڈ میں ترقی کا موقع دیا جانا چاہیے۔ بحث کے بعد وائس چانسلر نے تجویز پیش کی کہ اسامیوں کی منتقلی کے ساتھ ویٹرنری سائنسز فیکلٹی کے لیے ایک اضافی اسسٹنٹ پروفیسر اور کمپیوٹر سائنسز ڈیپارٹمنٹ کے لیے ایک لیکچرر کی اسامی بھی شامل کی جائے۔ آخرکار کمیٹی نے 21 اسسٹنٹ پروفیسرز اور ایک لیکچرر کی اسامی کی منتقلی کی سفارش کر دی۔ اجلاس میں یونیورسٹی کے ٹرانسپورٹ سیکشن میں گاڑیوں کی شدید کمی کا معاملہ بھی زیر بحث آیا۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ پرانی گاڑیاں بار بار خراب ہونے کے باعث انتظامی امور متاثر ہو رہے ہیں۔ اس لیے سرکاری استعمال کے لیے تقریباً 12.5 ملین روپے مالیت کی گاڑیاں جبکہ آپریشنل استعمال کے لیے تقریباً 6.5 ملین روپے مالیت کی گاڑیاں خریدنے کی تجویز پیش کی گئی۔ پنجاب حکومت کے فنانس ڈیپارٹمنٹ کے نمائندے عارف خان نے مشورہ دیا کہ خریداری سے قبل محکمہ خزانہ کی منظوری حاصل کی جائے اور ناقابل استعمال گاڑیوں کو سرکاری طریقہ کار کے مطابق ختم کرنے کی کارروائی بھی شروع کی جائے۔ کمیٹی نے تمام قانونی تقاضے پورے کرنے کی شرط کے ساتھ گاڑیوں کی خریداری کی سفارش کر دی۔ اجلاس میں اساتذہ کے پارٹ ٹائم تدریسی معاوضے میں اضافے کی تجویز بھی پیش کی گئی۔ بتایا گیا کہ گزشتہ تین برس سے معاوضہ میں کوئی اضافہ نہیں کیا گیا۔ اگرچہ ہائر ایجوکیشن کمیشن کی نمائندہ نے مالی خسارے کے باعث اس تجویز پر تحفظات کا اظہار کیا تاہم وائس چانسلر نے مؤقف اختیار کیا کہ مشترکہ کورسز کے انضمام سے یونیورسٹی کو خاصی بچت ہوئی ہے۔ کمیٹی نے آخرکار پارٹ ٹائم تدریسی معاوضے میں 7 فیصد اضافے کی سفارش منظور کر لی جس کے تحت پروفیسر کے لیے معاوضہ 2100 سے بڑھا کر 2250 روپے، ایسوسی ایٹ پروفیسر کے لیے 1950 سے 2085 روپے، اسسٹنٹ پروفیسر کے لیے 1650 سے 1770 روپے اور لیکچرر کے لیے 1550 سے بڑھا کر 1660 روپے کر دیا گیا۔ اساتذہ اور ملازمین کے لیے ویلفیئر گرانٹ کی بحالی کا معاملہ بھی اجلاس میں زیر غور آیا۔ بتایا گیا کہ مالی سال 2025-26 میں یہ گرانٹ کسی نامعلوم وجہ سے ختم کر دی گئی تھی اور اس کا بجٹ ملازمین کے بچوں کے لیے وظائف پر خرچ کیا گیا۔ تاہم ہائر ایجوکیشن کمیشن کے نمائندے نے واضح کیا کہ مالی سال کے درمیان اس بجٹ ہیڈ کو بحال نہیں کیا جا سکتاجس پر کمیٹی نے تجویز مسترد کر دی۔اجلاس میں یونیورسٹی کے سکیورٹی عملے کے آف ڈے ادائیگی کے مسئلے پر بھی غور کیا گیا۔ بتایا گیا کہ سکیورٹی ونگ کے اہلکار ہفتہ وار تعطیلات اور سرکاری چھٹیوں میں بھی 24 گھنٹے خدمات انجام دیتے ہیں لیکن انہیں نصف بنیادی تنخواہ کے حساب سے ادائیگی ہوتی ہے جبکہ ڈیری فارم کے ملازمین کو مکمل بنیادی تنخواہ دی جاتی ہے۔ کمیٹی نے سفارش کی کہ سکیورٹی گارڈز کو بھی آف ڈے ڈیوٹی پر مکمل بنیادی تنخواہ کے مطابق ادائیگی کی جائے۔







