وہاڑی (نمائندہ قوم)محکمہ مال کے پٹواری کی مبینہ کرپشن اور چیرہ دستیوں کے خلاف اہل دیہہ کا شدید احتجاج،سرکاری احاطوں کی الاٹمنٹ کے نام پر رشوت کا بازار گرم ہونے کا انکشاف،پٹواری کی جانب سے سینکڑوں افراد سے مبینہ طور پر لاکھوں روپے بٹورنے کی شکایات سامنے آگئیں،تحصیلدار نے معاملے کی تحقیقات کا حکم دے دیا۔تفصیلات کے مطابق نواحی گاؤں 365/ای بی کے حلقہ پٹواری عابد حسین کے خلاف مقامی افراد محمد یاسین، بشارت، صدیق، ایاز، ارشد، جمیل اور دیگر نے شدید احتجاج کرتے ہوئے تحصیلدار بورے والا کو تحریری درخواست دے دی درخواست گزاروں کا مؤقف ہے کہ پٹواری گزشتہ 25 سے 30 سال سے سرکاری احاطوں پر قابض اور رہائش پذیر افراد کو ہراساں کرکے ان سے بھاری رقوم وصول کر رہا ہےمتاثرین کے مطابق گاؤں میں 900 سےزائد سرکاری احاطوں پر قابض یا اسناد رکھنے والے افراد سے ہر سال اور نئی جمع بندی میں اندراج کے نام پر 5 ہزار روپے فی احاطہ کے حساب سے رشوت وصول کی جاتی رہی ہے، جس کے ذریعے اب تک لاکھوں روپے کی مبینہ لوٹ مار کی جا چکی ہےشہریوں کا کہنا ہے کہ جو لوگ رقم دینے سے انکار کرتے ہیں انہیں بے دخلی کے آرڈرز جاری کروانے، انتقال روکنے اور سنگین نتائج کی دھمکیاں دی جاتی ہیں درخواست گزاروں کا کہنا ہے کہ انہیں یہ احاطے 25/30 سال قبل باقاعدہ طور پر الاٹ کیے گئے تھے اور وہ عرصہ دراز سے وہاں رہائش پذیر ہیں، لیکن پٹواری مبینہ طور پر اختیارات کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے انہیں مسلسل بلیک میل کر رہا ہےشہریوں نے تحصیلدار اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ معاملے کی شفاف تحقیقات کروا کر پٹواری کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے اور متاثرہ افراد کو مبینہ بلیک میلنگ اور رشوت ستانی سے نجات دلائی جائےادھر تحصیلدار بورے والا نے شہریوں کی درخواست کا نوٹس لیتے ہوئے فوری تحقیقات کا حکم دے دیا ہے اور یقین دہانی کرائی ہے کہ اگر الزامات ثابت ہوئے تو ذمہ دار اہلکار کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے گی۔





