ملتان (سٹاف رپورٹر) بہا الدین زکریا یونیورسٹی ملتان کے وائس چانسلر ڈاکٹر زبیر اقبال غوری نے بالآخر اساتذہ کی تنظیم یو ٹی ایف کے سامنے گھٹنے ٹیک دیئے اور اساتذہ کی اس تنظیم کے متحرک رکن ڈاکٹر احسان قادر بھابھہ کی معطلی ختم کرتے ہوئے بطور ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ بحال کر دیا۔ ڈاکٹر بھابھہ جن کے خلاف اپنے ہی ڈیپارٹمنٹ کی خاتون ٹیچر کو ریپ کرنے، ہراساں کرنے، جسمانی تشدد کرنے اور مسلسل اذیت اور دھمکیاں دینے کے الزامات میں نہ صرف معطل کیا گیا تھا بلکہ ان کے خلاف تھانہ ڈی ایچ اے میں حدود آرڈیننس کے تحت مقدمہ بھی درج ہے جس میں وہ ملزم ہیں۔ علاوہ ازیں ڈاکٹر بھابھہ کی اذیت پسندی اور پر تشدد عادات کا مظاہرہ ان کی طرف سے اکثر ہوتا رہتا ہے اور انہوں نے چند ہفتے قبل وائس چانسلر ڈاکٹر زبیر اقبال غوری کے ایڈمنسٹریٹو بلاک میں ڈپٹی رجسٹرار لیگل محی الدین کو ان کے کمرے میں جا کر تشدد کا نشانہ بنایا تھا اور محی الدین کے جسم پر اسی طرح کے تشدد کے نشانات تھے جس طرح کے نشانات زکریا یونیورسٹی کی اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر شازیہ افضل کے جسم پر تھے جس کا باقاعدہ معائنہ کر کے ہراسمنٹ کمیٹی کی سربراہ ڈاکٹر رحمہ نے وائس چانسلر کو رپورٹ بھی دی تھی مگر ان تمام غیر اخلاقی رویے ، پر تشدد حرکات کے باوجود ڈاکٹر زبیر اقبال غوری نے مقدمے کا فیصلہ ہونے سے قبل ہی ڈاکٹر احسان قادر بھابھہ کو بحال کر دیا۔ یہ امر توجہ طلب ہے کہ وائس چانسلر کی یونیورسٹی میں انتظامی گرفت اتنی کمزور پڑ چکی ہے کہ ڈاکٹر شازیہ افضل نے جب ہراسمنٹ کمیٹی کی کارروائی کو جاری رکھنے کی بارہا درخواست وائس چانسلر کو کی تو وائس چانسلر نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ جب تک درج شدہ مقدمے کا عدالت سے فیصلہ نہیں ہوتا اس وقت تک وہ کسی قسم کی کوئی کارروائی نہیں کریں گے اور عدالت کے فیصلے کا انتظار کریں گے۔ مگر وائس چانسلر اپنے اس دعوے پر قائم نہ رہ سکے اور یو ٹی ایف کے سامنے ڈھیر ہو گئے۔





